Type to search

تلنگانہ

نیو ایئر نائٹ کا آغاز کب اور کیسے؟

امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔


ہر سال کی طرح یہ سال بھی ختم ہو گیا،‌ ہماری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا، بس جلد ہی ہم دو ہزار بائیس کے سیشن میں قدم رکھنے والے ہیں، جسکی وجہ دنیا کے بہت سے لوگ خوشیاں منائیں گے، آنے والے سال کا استقبال کریں گے، طرح طرح کے خرافات کریں گے، اور ہر شخص خواہ وہ ہندو ہو یا مسلم، سکھ ہو یا عیسائی خود کو مغربی تہذیب کا ایک حصہ سمجھ کر انکی بتائی ہوئی رواج کو زندہ کریں گے۔

افسوس ہوتا ہے ان مسلمانوں پر جو خود کو عاشق رسول کہتے ہیں، جو خود کو ایمان والا کہتے ہیں، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں،‌ جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے خلیفہ ہیں، اللہ کے دین کو زندہ رکھنے والے ہیں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے والے ہیں، لیکن جب انکے عمل کو دیکھا جاتا ہے،انکے افعال دیکھا جاتا ہے تو بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو اللہ اور رسول کے بتلائے ہوئے طریقے کو نظر انداز کرکے غیروں کے طریقے کو اپناتا ہے، رسول کے طریقے کو ٹھکراتا ہوا مغربی تہذیب کو رواج دیتا ہے۔

کیا کبھی اس نے غور کیا؟ کیا کبھی اس نے یہ سوال پیدا کیا کہ کیا ہم جو نئے سال کی آمد پر جشن منا رہے ہیں، کیا اللہ کے رسول نے ایسا جشن منایا تھا؟ کیا کسی صحابی نے نئے سال کا استقبال کیا تھا؟ کیا تابعین نے کسی کو ہپی نیو ایئر کہا تھا؟ کیا کسی مسلم حکمران نے یہ کام کیا تھا؟ جبکہ اس وقت بھی اسلام کافی ممالک میں پھیل چکا تھا، عراق، ایران، مصر، شام اور بھی بہت سے ممالک میں اسلام پھیل چکا تھا، کیا کبھی کسی مسلم حکمران نے نئے سال کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا تھا؟

یہ وہ سوالات ہیں جنکا جواب ہر عقل مند شخص نفی میں دے گا، پھر آج کیوں مسلمان اس کام کام کو انجام دے رہے ہیں۔
آخر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ 11:59 pm سے 12:00am کے درمیان صرف ایک منٹ کا فاصلہ رہتا ہے، سوال یہ ہے کہ آخر اس ایک ساعت میں دنیا میں‌ کونسی بڑی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے کہ لوگ اس ایک ساعت میں اپنے حوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں، اور عجیب و غریب حرکات پر اتر آتے ہیں۔

قارئین: دیگر فتنوں کی طرح یہ فتنہ بھی یہود و نصارٰی کی اسلامی دشمنی کا ایک حصہ ہے، جو انیسویں صدی کا پیدا شدہ ہے، تاریخی روایات سے اسکا شجرہ نسب رائل نیوی کے منچلے نوجوان سے جا ملتا ہے، اسکا پس منظر یہ ہے کہ رائل نیوی کے نوجوان اکثر بحری جہاز کا سفر کیا کرتے تھے، جو کہ بہت دور دراز کا سفر ہوا کرتا تھا۔

اس طویل سفر کی وجہ انکی طبیعتیں اکثر خراب ہوجاتی تھیں، بوریت اور اکتاہٹ کے شکار ہوجایا کرتے تھے، چنانچہ وہ اپنی بوریت اور اکتاہٹ کو ختم کرنے کے لئے کبھی ایک دوسرے کی سالگرہ پر جشن منایا کرتے تھے، تو کبھی اپنے بچوں کی سالگرہ منایا کرتے تھے، تو کبھی اپنے گھروں کی سالگرہ منایا کرتے تھے۔

جب تمام‌‌ لوگ اپنے گھروں اور بچوں کی سالگرہ سے فارغ ہوکر بھی اپنی بے چینی کو ختم نہیں کرپائے، اور بے چینی کے مسلسل شکار بنے رہے تو وہ ایک قدم آگے بڑھ کر خوشی منانے کا ایک نیا طریقہ اپنایا، وہ یہ کہ وہ لوگ اپنے کتے بلیوں کی بھی سالگرہ منانے لگے، پھر جب یہ چیزیں بھی انکی اکتاہٹ ختم نہ کر سکی تو اتفاقاً اسی دوران دسمبر کا مہینہ بھی اپنی تاریخ کا سفر کرتا ہوا اور اپنی منزلیں طے کرتا ہوا اپنی انتہا کو پہنچنے کے قریب تھا کہ اچانک ان نوجوانوں میں سے ایک کے دماغ میں ایک فاسد خیال آیا کہ کیوں نہ ہم نئے سال کا استقبال کریں، کیوں نہ ہم اسکی آمد پر خوشی کا اظہار کریں، کیوں نہ ہم اسکی آمد پر جشن منائیں۔

چنانچہ چھ دسمبر کی اکتیس تاریخ یکم جنوری میں تبدیل ہونے سے قبل جہاز کا سارا عملہ جمع ہوا اور جہاز کو خوب آراستہ کیا گیا، شراب نوشی کی گئی، موسیقی بجائی گئی، ناچ گانے کا اہتمام کیا گیا، اور رات میں ٹھیک بارہ بج کر ایک منٹ میں تمام لوگوں نے آپس میں مل کر ایک دوسرے کو خوشی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کو ہپی نیو ایئر کہہ کر مبارک باد پیش کیا۔ اس طرح اس فتنہ کا آغاز ہوا اور ہر سال ترقی کرتا چلا گیا۔

پھر آئندہ سال اکتیس دسمبر کو جونیر افیسروں نے اپنے سینیر آفیسروں سے اس بیہودہ رسم میں شرکت کرنے اور خوشی کا اظہار کرنے کے لئے چند رقاص عورتوں کا مطالبہ کیا، سینیر آفیسروں نے انکی اس خواہش کو ضرورت کا تقاضہ سمجھ کر ساحل سمندر سے چند فاحشہ عورتوں کو منگواکر جونیر افسروں کے حوالے کر دیا۔

پھر یوں ہوا کہ رات ٹھیک بارہ بجے جہاز کی روشنی بند کر دی گئی جس سے تمام مسافرین کی چیخیں نکل گئیں، اور پھر یکایک جہاز کو روشن کیا گیا اور جہاز کے بڑے کمانڈر نے اپنے ہاتھ میں میک لیکر سب کو ہپی نیو ایئر کی مبارکباد دی اور تمام لوگوں نے تالیاں بجاکر خوشی خوشی اسکا شکریہ ادا کیا۔

اسکے بعد والے سال میں اس رسم میں مزید اضافہ ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنی بیویوں، منگیتروں، اور زنانہ دوستوں یعنی گرل فرینڈ کو لاکر اسکاٹ لینڈ کے “اناڈین” ساحل پر جمع ہوئے، کچھ کنواری لڑکیاں بھی وہاں جمع ہوئیں جو اپنے کنوارے پن کو آنے والے کنوارے لڑکوں کو سپرد کرتیں۔

جہاں ڈھول تاشے گانے بجانے کا سلسلہ شروع ہوا پھر اس طرح سے بے حیائ، بے غیرتی، فحاشی، بدکاری و زناکاری کے ساتھ ہپی نیو ایئر کا انسانیت سوز، ایمان سوز، اخلاق سوز فتنہ پروان چڑھتا گیا۔

آج دنیا کے بیشتر ممالک شمسی سال نو کے آغاز پر ہپی نیو ایئر نائٹ کے عنوان سے اس فحش فتنے کو فروغ دے رہے ہیں، اور دنیائے انسانیت کے لئے برائیوں کے ہزار دروازے کھول رہے ہیں۔

قارئین! یاد رکھیے کہ یہ امریکیوں اور عیسائیوں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے، جسکا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے دور کرنے اور مذہبی روایات سے ہٹا کر انکی شناخت کو تہس نہس کرنا ہے۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *