Type to search

صحت

کروناوائرس کا یونانی علاج

Unani treatment of coronavirus

از:سیدہ بشارت فاطمہ بنت : سید فیض پاشاہ حسینی برادر سجادہ نشین بزرگ گوگی شریف
طالبہ بی یو یم یس ٹیپوسلطان میڈیکل کالج گلبرگہ

آج دنیاکے تقریباً ممالک جو کورونا وائرس جیسے مہلک بیماری سے پریشان ہیں جو ایک متعدی نوعی’وبائ بیماری ہے جس نے حال ہی میں چین’ اٹلی’ امریکہ ‘ ایران ‘ ہندوستان وغیرہ میں ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے یہ بیماری بہت تیزی سے پیھلتی ہے اس بیماری کے تعلق سے یہ بات مشہور کی گئ ہے کہ یہ لاعلاج بیماری ہے لیکن ایسا بلکل بھی نہیں ہے. ہمارےآقا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ “ما انزل الله داء الا أنزل له شفاء”(بخاری:کتاب الطب حدیث نمبر 5678) ترجمہ: اللہ نے کوئ ایسی بیماری نہی اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو.
اور ایک جگہ فرمایا کہ”ما أنزل الله داءالا قد انزل له شفاءعلمه من علمه وجهله من جهله”(نسای’ ابن ماجہ)

ترجمہ:نہیں اتاری اللہ نے کوئ بیماری مگر اتاری ہے اسکی دوا جاننے والے ہی اسے جانتے ہیں (یعنی حکماء اور اطبا) اور نہیں جاننے والے نہیں جانتے.

بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بیماری لاعلاج ہے اور بہت سارے لوگ بعض اوقات علاج کے باوجود صحت مند نہیں ہوتے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس بیماری کا علاج نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مرض کی دوا سے اور طریقہ علاج سے واقفیت نہیں ہے.

کرونا وائرس کو “کرونا” اسلیےکہا گیا ہے کیونکہ اسکی بناوٹ ‘تاج’ کی طرح ہے. ایک سوئ کی نوک پر یہ وائرس کے دس ہزار(10000)اجسام قیام کرتے ہیں.

جس طرح پچھلی صدیوں میں یعنی 1720 میں طاعون (plugue)’1820 میں ہیضہ (cholera)’1920 میں Spanish flu ‘اور اب 2020 میں کرونا وائرس یہ وبائ امراض جو پچھلی صدیوں میں انسانی جانوں کو اپنا لقمہ بنایا تھا بلکل اسی طرح اب کرونا وائرس بھی انسانی جانوں کو اپنا لقمہ بنا رہا ہے. آج ڈاکٹروں نے اس مرض کے علاج کی تحقیق کی ہے اور انہیں کامیابی بھی ملی ہے.

یہ کرونا وائرس آج کی دریافت نہیں ہے بلکہ اس کی دریافت سوسال پہلے مسیح الملک حکیم اجمل خان نےکی تھی جو طب یونانی کے سرتاج ہیں.

حکیم اجمل خان نے اپنی طبی کتاب “حاذق” میں اس مرض کا تعارف کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اور علاج بھی تحریر کیا ہے.

حکیم اجمل خان کے مطابق اس مرض کا سبب اور علامات یہ ہیں کہ ہوا میں ایک سمیت اور زہریلے اثر کا پیدا ہونا ہے جو سانس لینے کے ساتھ ہوا کے ہمراہ جسم میں داخل ہوتا ہے اور ایک مقام سے پیدا ہوکر فوراً ہی بہت سے مقامات تک پھیل جاتا ہے۔اس مرض میں اکثر بوڑھے اور بچے مبتلا ہوتے ہیں. اس بیماری کی علامتیں کچھ اس طرح ظاہر ہوتی ہیں۔ پیشانی اور کمر میں درد کے ساتھ مریض کا بخار میں مبتلا ہونا ‘ آنکھوں اور جسم کے تمام عضلات میں درد محسوس ہونا’ گلا درد کرنا’ آواز کا بیٹھ جانا’ سینہ پر بوجھ محسوس ہونا ‘خشک کھانسی کا ہونا’ سانس لینے میں دشواری ہونا’ مریض کی بھوک کا زائل ہوجانا’ کبھی‌ قئے اور دست کا آنے لگنا’ منہ کا ذائقہ بگڑ جانا’مزید لکھتے ہیں کہ اگر عوارضات شدید ہوں تو بعض دفعہ ناک اور حلق میں سوزش پیدا ہوتی ہے جو ہوائی نالیوں تک بڑھ کر شدید کھانسی اور نمونیا پیدا کرتی ہے. اور مریض بہت جلد کمزور ہو تاہے.

“یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ عام زکام کی بہ نسبت اس مرض وبائ کے زکام میں تکلیف اور کمزوری زیادہ ہوتی ہے”.

بطور حفظ ما تقدم ان وبائ دنوں میں چاے اور عرق عجیب (دو قطرے ہمرہ پانی) کا استعمال زیادہ کریں.اور اسباب ستہ ضروریہ جیسے غذا میں احتیاط کرنا’ ہلکی اور نرم غذاوں کا استعمال کرنا جو جلد ہضم ہو. کھلی اور تازہ ہوا میں دہنا ‘اپنے اطراف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا وغیرہ پر عمل پیرا ہو کر ہم کرونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے بچ سکتے ہیں.

“Prevention is better than cure”
“احتیاط ایک بہترین علاج ہے”

حکیم اجمل خان نے اس مرض میں مبتلامریض کے علاج کے تعلق سے لکھا ہے کہ. مریض کو ایک علیحدہ کمرے میں آرام سے لٹائیں. شروع میں معدہ اور آنتوں کو صاف کرنے لے لئے قرص ملین چار عدد نیم گرم پانی کے ہمرہ مریض کو کھلائیں تا کہ دست آکر معدہ کی صفائ ہو جاے.
= بہدانہ تین ماشہ ‘عناب پانچ دانہ’ سپستان نو دانہ پانی میں ہلکا جوش دے کر صاف کرکے شربت بنفشہ دو تولہ ملا کر نیم گرم پانی صبح و شام پلائیں.
اگر کھانسی کی شدید تکلیف ہو تو بجائے شربت بنفشہ دو تولہ کے خشخاش دو تولہ یا شربت اعجاز دو تولہ اسی نسخہ میں ملا کر دیں.
‘اس نسخہ کا استعمال اس مرض میں کافی مفید اور مستند ہے’

کھانسی کے لئے پہلے نسخہ کے بعد یہ نسخہ دیں. لعوق سپستان ایک تولہ ‘لعوق معتدل ایک تولہ پانی یا عرق گاؤزباں بارہ تولہ میں جوش دے کر گرم گرم ناک اور سر کا بھپارہ دیں.
اگرکھانسی کے ساتھ سینے میں درد بھی ہو تو قیروطی آردکرسنہ ایک تولہ میں زعفران ایک ماشہ ایلوا ایک ماشہ باریک پیس کر ملا کر نیم گرم ضماد کریں. اور سینے کو روئ کی پہل سے گرم کرکے سینکیں.
جن چیزوں سے زکام اور نزلہ میں پرہیز کرناواجب ہے وہی ملحوظ خاطر رکھیں.

نوٹ: سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہو کر ہم ایسی وبائ بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں.

نوٹ: اس مضمون کو سیدہ بشارت فاطمہ لکھا ہے اس میں اردو پوسٹ نے کوئی ردوبدل نہیں کیا ہے۔ 

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Jafar April 5, 2020

    ماشاءاللہ کرونا وائرس سے پریشان عوام کے لئے تھوڑی سی راحت ملی