Type to search

تلنگانہ

تشدد کی شکار بنّت حّوا

تشدد کی شکار بنّت حّوا

از قلم ۔ صبیحہ بانو (ایم اے، ایم سی جے)


اکیس ویں صدی کو انسانیت کی صدی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج دنیا بھر میں انقلاب جاری ہے۔ جس سے دن بہ دن انسانی حالت بہتر ہوتے جارہے ہیں۔ سامراجیت آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے۔ لیکن افسوس کہ جدید دنیا میں ابھی تک ایسا کوئی انقلاب نہیں آیا کہ جس کے ذریعہ سے عورتوں کو غلامی سے آزادی نصیب ہو۔

اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہم اس دور میں رہ بس رہے ہیں کہ جس میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں نمایاں رول ادا کررہی ہے ہم اس امر سے بھی واقف ہے کہ کسی بھی مذہب معاشرہ کی صحیح بنیاد اور ترقی عورت کے وجود پر قائم ہے۔

کیونکہ عورت ہی ایک ماں کی حیثیت سے بچوں کی بڑی بڑی تکالیف برداشت کرتی ہے۔ جس کی موجودگی میں گھر گھر کہلاتا ہے۔ جو بیٹی ، بہن ، ماں ، غرض ہر رشتہ کو خوش اسلوبی سے نبھاتی ہے۔ جو بیوی کا رول ادا کرتے ہوئے اپنے شریک حیات کا ساتھ نہایت ہمدردی محبت کا ایمانداری اور جذبہ ایثار سے دیتی ہے اس کے باوجود سماج میں عورت کو وہ عـزت حاصل نہیں جو ہونی چاہیئے۔

بدقسمتی سے عصر حاضر میں خواتین کے خلاف تشدد و زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ خدا کی اس مخلوق کو کئی ماں کے بطن میں ہی قتل کردیا جاتا ہے۔ کئی اس کی عصمت کو تار تار کیا جاتا ہے کئی جہیز نہ لانے کی صورت میں کئی بے اولاد کی پاداش میں اور کئی گھریلو تشدد ڈھا کر زیادتیوں کا شکار بنایا جاتا ہے۔

سب سے بڑا لمحہ تو یہ ہے کہ چند فرقہ وارآنہ فسادات اور دوسری سیاسی وسماجی اتھل پتھل کا خمیازہ عورتوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ اب آہستہ آہستہ بہت سارے ممالک ، حکومتیں حقوق نسواں کی پاسداری کی طرف خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہے۔ جس سے معاشرہ میں عورتوں کے جائز حقوق سلف ہونے سے بچ جانا یقینی ہورہا ہے۔

اس حقوق کے تحت خواتین کی تعلیم اور سماج میں ان کی عزت مردوں کے برابر لانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم گھٹنے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔

خواتین کے ساتھ نہ صرف دنیا بھر کے گنے چنے ممالک میں زیادتیاں ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی فرق صرف اتنا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کے طریقے ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔

خواتین کے خلاف جرائم کی پوری دنیا میں مجموعی طور پر بات کرے تو العریبہ ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ 80 لاکھ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب کہ صرف افریقہ میں 3 ملین سے زائد خواتین جنسی و جسمانی تشدد کا شکار بنتی ہے۔

اپنے ملک کی بات کرئینگے تو خواتین کے ساتھ تشدد و زیادتی کے واقعات جان کر تو ہر ایک کا سر شرم سے نیچے ہوجاتا ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں خواتین اونچے عہدوں پر فائز ہے۔ وزیراعظم سے لیکر صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز رہی ہے۔ وہیں ایک دن بھی ایسا نہیں گذرتا کہ جس دن ملک کی بہو، بیٹی، ماں، تشدد و زیادتی کا شکار نہ بنے۔

نیشنل کرائم ریکارڈس بیوریو عورتوں کے خلاف تشدد پر ایک سالانہ رپورٹ جاری کرتی ہے۔ اور پچھلے کچھ برسوں کے رپورٹس کا مطالعہ کرنے کے بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ کمی آنے کے بجائے نمایاں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مولانا آزاد یونیورسٹی مرکز برائے فاصلاتی تعلیم سے وابستہ پروفیسر نکہت جہاں سے ملک میں خواتین کے ساتھ پیش آرہے جرائم کے متعلق جب ہم نے جاننا چاہا تو انکا کہنا تھا کہ معاشرہ میں ناخواندگی ہے۔ اور ا سکے ساتھ ساتھ نسلیں نو کا تہدیبی ورثہ سے دور ہونا ایک بہت بڑی وجہ بن گیا ہے۔

پہلے پہل ہمارے ملک میں جہیز کی لعنت عورتوں کے خلاف تشدد کی بڑی وجہ بنی ہوئی تھی۔ پھر ملک نے پھر اس لعنت پر قابو پانے کے لیے 1961ء میں قانون بنایا تھا۔ اسکے باوجود یہ وباء موجودہ دور میں بھی ہندوستانی سماج کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔اب جہیز کے علاوہ اور دو بڑی لعنتوں نے ملک کو اپنا شکار بنایا ہے گھریلو تشدد اور عصمت ریزی۔

ان لعنتوں کے فروغ کے کئی اسباب ہے۔ ان میں شراب نوشی سرفہرست ہے۔ پچھلے برسوں میں دیکھا گیا کہ عورتوں کے خلاف تشدد کی بڑی وجہ شراب ہے ایک شرابی نشہ کی حالت میں بہو، بیٹی ، ماں، اور بیوری کو امتیاز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ یہی شرابی شخص نشہ کی حالت میں جب گھر آتا ہے تو اسکی بیوی اور بچے اس کے تشدد کا پہلے حدف بنتے ہیں۔اور سڑکوں پر ملک کی بیٹیاں اس کے نشے کا شکار ہوتی ہے۔

غرض ملک کی عورتوں کے خلاف زیادتی میں گھریلو تشدد عصمت ریزی سنگین مسائل کی صورت میں ابھرے ہیں جو قابل توبہ بن گئے ہیں۔

عصمت ریزی کی بات کریں گے تو معروف مصنفہ رادھا کمار کے مطابق عصمت ریزی ملک میں خواتین کے ساتھ زیادتی کا ایک عام نام ہے۔

نیشنل کرائم ریکار بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2011 میں عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ ہندوستان ٹائمز کے 2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر گھنٹہ 2 جبری جنسی زیادتیوں کے واقعات پیش آتے ہیں۔ سال 2012 کے 16 ڈسمبر کو دہلی میں اجتماعی عصمت ریزی کا ایسا دلسوز واقعہ رونما ہوا۔ جس نے پورے ملک کو شرمسار کیا۔ نہ صرف اس واقعہ کے خلاف ملک بھر کے لوگ سڑکوں پر آگئے بلکہ عصمت ریزی کے لیے سخت قوانین کی ضرورت جو اجاگر کیا گیا۔

عصمت ریزی میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس پر روک لگانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی ضرورت پر جب ہم نے مولانا آزاد یونیورسٹی شعبہ مطالعہ نسوان سے وابستہ پروفیسر و چیرپرسن پاداش شاہدہ مرتضی سے ان کی رائے جاننا چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ عصمت ریزی کے واقعات آج کل بہت عام ہوتے جارہے ہیں۔

 اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ اسکے پچھے کئی وجوہات ہے۔ ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیئے یہ جو ہورہا ہے۔ ایک طرفہ نہیں بلکہ اس میں بلا مذہبیت کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ فلموں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ہمارے پاس جو فلموں کا ’اے’ یا ’یو’ جو سرٹیفیکیشن دیا جاتا ہے۔ وہاں پر بھی کرپشن ہے۔

 اس کے علاوہ آج قوانین میں بھی بہت زیادہ تبدیلی لانا ضروری ہے۔ نیشنل کمیشن فار ویمن نے ایک بہت اچھا قانون یا بل بنا کردیا ہے جو پاس ہوگیا ہے اب ایسے قانونی شکل دینا ہے اور منظم یا غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین کی حفاظت کرئے گا۔ اور یہ بہت ہی اچھا قانون ہوگا۔

ملک کی بدقسمتی ہے کہ راجدھانی ہی عورتوں کے لیے غیر محفوظ بنی ہوئی ہے۔ عورتوں کی عصمت ریزی اور اغواء کاری دہلی میں عام بات ہوگئی۔ راجدھانی کے حالات تو پورے ملک کی قانونی صورت حال کا پتہ چلتا ہے۔ دہلی میں عورتوں کے ساتھ زیادتی پر روگ لگنے کے بجائے ہر گذرتے برس کے ساتھ ساتھ تشدد میں نمایاں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی میں روزآنہ اوسط دو لڑکیوں کی عصمت ریزی ہوتی ہے۔ جہاں دہلی میں 2011 میں عصمت ریزی کے 483 وہیں 2012 میں 635 واقعات درج کیے گئے ہیں جب ہم نے عورتوں کے تحفظ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مطالعہ نسوان سے وابسطہ پروفیسر آمنہ تحسین سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تحفظ کے لیے بہت سارے قوانین بنائے گئے ہیں اس میں گھریلو تشدد، جہیز ایکٹ وغیرہ۔

عصمت ریزی کے متعلق قانون نہیں بنایا گیا تھا۔ لیکن ایسے قوانین موجود تھے جو خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔ اسکے باوجود شہروں میں دیہاتوں میں آئے دن خواتین کے ساتھ عصمت ریزی یا زنا بالجبر کے واقعات ہورہے ہیں ان کا کہنا ہے تھا کہ ہمارے پاس قانون بنا ہے اور پھر بھی ہندوستان میں عورت محفوظ نہیں ہے اس کی سب سے پہلی وجہ تو یہی ہوسکتی ہے۔

قوانین ہمارے صفحات پر بنے رہتے ہیں۔ اور آفس و دفاتر میں ہوتے ہیں۔ ان کو روبہ عمل لانے میں تاخیر کی جاتی ہے۔ یا پھر جو قوانین بنائے گئے خود ان میں اتنی کمی پائی جاتی ہے کہ وہ قوانین عورت کا تحفظ نہیں کرپارہے ہیں۔ اگر عورت اپنے تحفظ کے لیے پولیس اسٹیشن بھی جاتی ہے۔ خود پولیس اسٹیشن میں ہی اسکا استحصال کیا جاتا ہے۔ وہاں پر بھی وہ محفوظ نہیں ہے۔ اسطرح سے وہ کام کے سلسلے سے باہر آتی ہے۔ تو سڑکوں پر اسکا تحفظ نہیں ہے۔ اور نہ ہی اب گھر میں اس کا تحفظ رہا ہے۔

اگر ہم جائزہ لیں تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ قوانین تو بنے ہیں لیکن اس میں اتنی کمیاں ہے کہ مجرم با آسانی باہر ہوجاتا ہے۔ اور اسکا فائدہ اٹھا کر دوسرا اس کام کے لیے پھر متوجہ ہوجاتا ہے اور با آسانی عصمت ریزی کا کام کرجاتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ کسی طرح سے مجھے قانون پکڑ نہیں پائے گا۔ میں باہر آجاؤنگا۔

عورتوں کے خلاف تشدد کی ایک اور بڑی لعنت گھریلو تشدد کی بات کریں گے تو اس لعنت سے ہمارے ملک کا مہذب معاشرہ اخلاقی آلودگی کا شکار ہوگیا ہے۔ اگر جبکہ گھریلو تشدد ہر ایک معاشرہ میں پایا جاتا ہے تاہم ہمارے معاشرہ میں ایک سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ آج بھی لگاتار شوہر اور اسکے رشتے دار بیوی، اور بہو ہر ظلم کرتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ہر 3 منٹ میں ایک عورت کو گھریلو تشدد کا شکار بننا پڑتا ہے اگر چیکہ عورتوں کو گھریلو تشدد سے نجات دلانے کے لیے قانون کا دفعہ 458اے ، اور (پروٹیکشن آف ویمن فرم ڈومیسٹک ویلائنز ایکٹ 2005) ہے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کی اکثر خواتین قانون کا سہارا لینے کے بجائے تشدد کو خاموشی سے برداشت کرلیتی ہے۔ نیشنل کمیشن آف انڈیا کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ آسام میں خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہے۔

گھریلو تشد کے مطابق گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ ایسی رپورٹس سامنے آئی جن سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو تشدد سے نہ صرف جسمانی اذیتیں برداشت کرنی پڑی بلکہ پنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ بہت سارے واقعات میں عورتیں تنگ آکر خودکشی کر مرتکب ہوگئی۔ گھریلو تشدد جیسی لعنت سے نہ صرف ایک مہذب سماج آلودہ ہوجاتا ہے بلکہ اس گھر جس میں گھریلو تشدد کے دلخراش واقعات رونما ہوتے ہیں۔ جہنم میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ نہ اس گھر میں خوشیاں دستک دیتی ہے اور نہ اس گھر کے بچے آگے بڑھ پاتے ہیں اور گھریلو تشدد ان کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیتا ہے۔

گھریلو تشدد جس نے ملک کے لاکھوں گھرانوں کی خوشیاں کا گلا گھونٹا ہے اس وباء سے نجات پانے کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے مائی چوائس نامی رضا کار تنظیم سے وابستہ نورجہاں سے اس کے بارے میں جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد کے اسباب میں غربت ، تعلیم کی کمی کا ہونا، مذہبی معلومات کی کمی اور اس کا غلط استعمال ، سماج میں جہیز کی لعنت ، سماجی سسٹم کی خرابی شامل ہے۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ آج کے نوجوانوں میں عورتوں کے تیئں برابری کا جذبہ ہو۔ اور انکی ذہنی سونچ بدلے وہ عورت کو ایک شئے نہیں بلکہ انسان سمجھے۔ عورت کے عورت کے ساتھ ہورہے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان تشدد کے خلاف آواز اٹھائے اور ایسے کرنے سے ہی تشدد میں کمی آئے گی۔ اور ہمارا معاشرہ اس وباء سے نجات پاسکتا ہے۔

اصل میں ہمارے ملک کی اکثریت ابھی بھی عورت کی تقدس کی پامالی پر خاموشی کی صورت میں رضا مندی کا اظہار کررہی ہے۔ جہاں ہمارا معاشرہ ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا عورت کی شادی سے مراد مارپیٹ برداشت کرنا ہے۔ کیا عورت مرد کے لیے غصہ اتارنے والی مشین بن گئی ہے کیا سسرال کا یہ مطلب ہے کہ بہو کو مارے پیٹے اور جسمانی و ذہنی اذیتوں کا شکار بنائے۔ وہی ہمارا ضمیر ہم سے سوال کرتا ہے کہ عورت پر فقرے کسنے والد، اس کو بے عزت کرنے والا اور اسکی عزت کو تارتار کرنے والا کیسے بھول جاتا ہے کہ اس کو جنم دینے والی بھی تو ایک عورت ہے۔

بس اب رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر عورت کی عزت و عصمت کی اہمیت کو اجاگر کردے۔ آمین۔


 نوٹ: اس مضمون کو صبیجہ بانو نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

4 Comments

  1. MUNAZZAH ZARREEN November 25, 2021

    اللہ زور قلم دے اور زیادہ
    آمین

  2. Asfia November 25, 2021

    Bohath khoob…Aurat ke maujuda haalat ke baare me bohath khubsoorti se likha gaya hai…Bohath hi barik se ek ek gehri Bryan ki gayi…lajawaab👏👏👏👍🏻👍🏻👍🏻

  3. Nazia November 26, 2021

    Mashallah mashallah zabardast …

  4. S M Nadeem Uddin November 26, 2021

    Masha’Allah !
    Thoroughly researched and well-written.