Type to search

بزنس

لڑکیوں کو مکمل حقوق ملنے چاہئیں، ٹیکنالوجی کے شعبے میں برابر کا حصہ ہونا چاہیے۔ ایشا امبانی

• گرلز ان انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (جی آئی سی ٹی) انڈیا
2024کا اہتماممحکمہ ٹیلی کمیونیکیشن اور اقوام متحدہ کی ایجنسینے مل کر کیا
• لڑکیوں کے حقوق کی جنگ میں حکومت کے ساتھ صنعتی دنیا کو بھی آگے آنا ہوگا


نئی دہلی، 15 مئی 2024۔ (پریس نوٹ) اگر ہندوستان کوچوتھے صنعتی انقلاب کے اس ڈیجیٹل دور میں عالمی رہنما کے طور پر ابھرنا ہے تو لڑکیوں کو آگے لانا ہوگا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں لڑکیوں کی شرکت کو بڑھانا ہو گا۔ ٹیلی کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ’گرلز ان آئی سی ٹی انڈیا 2024‘ میں لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی ڈائریکٹر ایشا امبانی نے انہیں ٹیکنالوجی کو بطور کیریئر اپنانے کی ترغیب دی۔

ایشا نے کہا، ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین اور مردوں کا تناسب برابر ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

’گرلز ان انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹکنالوجی (جی آئی سی ٹی) انڈیا – 2024‘ کا اہتمام محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن ، حکومت ہند، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (جنوبی ایشیا(، انوویشن سینٹر دہلی اور اقوام متحدہ کی دیگر ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ایشا امبانی نے کہا کہ “حکومت ضروری اصلاحات کر رہی ہے، اور اس کے نتائج بھی نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں ٹیکنالوجی کی افرادی قوت میں خواتین کی نمائندگی میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن صنعت کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں ایسے طریقے اور ذرائع تیار کرنے ہوں گے جو خواتین کے کیریئر میں استحکام کو یقینی بنا سکیں۔ مل کر ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہماری بیٹیوں کو کل کی لیڈر بننے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔

ایشا امبانی نے اپنی والدہ نیتا امبانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بارہا کہا ہے کہ “ایک مرد کو بااختیار بنائیں اور وہ ایک خاندان کا پیٹ پالے گا، جب کہ اگر ایک عورت بااختیار ہو گی تو وہ پورے گاؤں کا پیٹ پالے گی۔” انہوں نے مزید کہا، “میں پختہ یقین رکھتی ہوں کہ خواتین ملازمین کو ان کے کیریئر کے آغاز سے ہی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے اور صرف کاغذ پر ظاہر کرنے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔

Tags:
Ayub Khan

Ayub Khan, MA (MCJ) MANUU, Managing Editor of Urdu Post, CEO of MAKS Media.

  • 1

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *