Type to search

بزنس

ایشا امبانی کو ’’ سمتھ سونین نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ‘‘ کے بورڈ میں منتخب کیا گیا

ایشا امبانی سمتھ سونین نیشنل

نئی دہلی ۔ 28; اکتوبر (پریس نوٹ) امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں واقع ’ سمتھ سونین نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ‘ کے بور ڈ میں ایشا امبانی کو منتخب کیا گیا ہے ۔ ایشا امبانی بورڈ کی سب سے نوجوان ممبر ہیں ، بورڈ میں ان کی تقرری 4 سال کیلئے کی گئی ہے ۔ بورڈ میں ایشا امبانی کے علاوہ کیرولین بریہم اور پیٹر کمیل مین کی بھی تقرری کی گئی ہے ۔

بورڈ کتنا اہم ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 17 ممبری بورڈ میں امریکہ کے نائب صدر ، امریکہ کے چیف جسٹس، امریکی سینیٹ کے تین ممبر اور امریکی ہاوَس آف ریپریزنٹیٹو کے تین ممبر شامل ہوتے ہیں ۔

ایشا امبانی کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے’ سمتھ سونین نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ ‘ کی پریس ریلیز میں انہیں بھارت میں ڈیجیٹل انقلاب کا اگوا بتایا گیا ہے ۔ وہ ریلائنس جیو انفوکوم کی ڈائریکٹر ہیں ۔ وہ جیو پلیٹ فارم میں انویسٹمنٹ لانے والی اس ٹیم کا حصہ تھیں جس نے فیس بُک کے 5.7 ارب ڈالر کے سودے کو انجام دیا تھا ۔ فیشن پورٹل Ajio.com کے لانچ کے پیچھے بھی ایشا امبانی تھی اور وہ ای کامرس وینچر جیو مارٹ کی دیکھ ریکھ بھی کرتی ہیں ۔ ان کے پاس یل یونیورسٹی اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ڈگری ہے اور انہوں نے نیویارک میں میکنسے اینڈ کمپنی میں بزنس اینالسٹ کے طور پر کام کیا ہے ۔

میوزیم کے ڈائریکٹر چیس ایف رابنشن نے کہا’’ میوزیم کے اپنے ساتھیوں کی طرف سے، مجھے بورڈ میں ان خاص نئے ممبروں کا استقبال کرتے ہوئے بے حد خوشی ہورہی ہے، میں نئے بورڈ ممبروں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ ان ذہین اور ہونہار نئے ممبروں کا ویزن اور جنون ہمارے مجموعات اور خصوصیات کو اور زیادہ پرکشش بنائے گا ۔ ہمارے مجموعات کی توسیع کرنے اور ایشیائی فن اور تہذیبوں کو سمجھنے کی ہماری کوششوں کومزید تیز کرے گا ۔

1923 میں قائم’ سمتھ سونین نیشنل میوزیم آف ایشین آرٹ‘ نے اپنے غیر معمولی کلیکشن اور نمائشوں ، تحقیقات ، فن کے تحفظ اور تحفظاتی سائنس کی اپنی صدیوں پرانی روایت اور مہارت کے لئے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے ۔ میوزیم2023 میں اپنے شتابدی سال کی تیاری کررہا ہے، ایسے میں نئے بورڈ کا رول اور بھی زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔

Tags:

You Might also Like