Type to search

ٹی وی اور فلم

سوشل میڈیا پر کم فالوورس تھے اس لیے کام نہیں ملا : اداکارہ زویا حسین

فلمی ڈسک، 7 جون (اردو پوسٹ) سال 2017 میں آئی انوراگ کیشپ کی فلم مکے باز سے کیریئر کی شروعات کرنے والی اداکارہ زویا حسین نے سوشل میڈیا پر اور انڈسٹری میں کام کو لیکر بیان دیا ہے۔

فلم مکے باز سے فلموں میں قدم رکھنے والی اداکارہ کو انکے کام کے لیے خوب تعریف ملی تھی۔ اسکے بعد انہوں نے ویب سیریز گرہن میں نظر آئی۔

بالی ووڈ کے سلجھے ہوئے ایکٹر منوج باجپائی کی 100ویں فلم بھیا جی کو ریلیز ہوئے کئی دن گذر چکے ہیں۔ فلم کو ناظرین کی طرف سے ملے جلے ردعمل مل رہے ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Zoya Hussain (@zyhssn)

فلم بھیا جی میں منوج کے علاوہ اداکارہ زویا حسین نے بھی نظر آئیں۔ زویا نے اس فلم میں متالی کا کردار نبھایا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے فلموں میں کاسٹنگ میں انسٹاگرام کے رول پر بات کی ہے۔

فلم بھیاجی اور مکے باز فلم میں کام کرنے والی اداکارہ زویا حسین نے حالیہ انٹرویو میں ایک بڑا خلاصہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کم فالوورس کی وجہ سے انہیں کئی پروجیکٹ سے باہر کردیا گیا تھا۔

 

 

اداکارہ زویا حسین نے انڈین ایکسپریس کو ایک انٹرویو دیا، جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی کاسٹنگ کے لیے انسٹاگرام بیچ میں آیا۔ کیونکہ کئی فنکار بتا چکے ہیں کہ اب انسٹا فالوورس کی تعداد دیکھ کر کاسٹنگ کی بات آگے بڑھتی ہے۔

 

 

اپنے جواب میں زویا نے کہا کہ وہ واقعی میں اس چیز کا سامنا کرچکی ہے۔ زویا نے بتایا کہ انہیں یہ تو نہیں پتہ کہ اس میں خاص طور سے انسٹاگرام کا رول رہا ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ کم فالوورس کی وجہ سے انہیں کئی پروجیکٹس سے باہر کردیا گیا تھا۔

 

 

بات چیت کے دوران زویا نے کہا کہ اس انڈسٹری میں بدقسمت سے ذیادہ تر چیزوں سے فن کا لینا دینا کافی کم ہے۔ پہچان بنانے میں بہت وقت لگتا ہے۔ زویا نے کہا کہ اگر آپ کو اس لیے کاسٹ نہیں کیا جارہا ہے۔ کیونکہ آپ کے فالوورس کی تعداد کم ہے، تو آپ کیا کرسکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔

 

 

اداکارہ زویا حسین نے کہا کہ آپ کہے سکتے ہیں کہ ایک اچھا اداکار بننے کے بجائے انسٹاگرام پر توجہ دیا جاسکتا ہے، لیکن یہ کتنا مایوس کن ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Zoya Hussain (@zyhssn)

 

 

انہوں نے بتایا کہ جب انکی پہلی فلم ریلیز ہوئی تو وہ کافی پرجوش تھی۔ لیکن انکی فلم کو اور انہیں اتنا سپورٹ نہیں ملا جتنا دیگر اسٹار کڈس کو دی جاتی ہے۔

 

 

بتادی کہ اداکارہ زویا حسین کی پیدائش 1 اکتوبر 1990 کو دہلی کے مڈل کلاس گھرانے میں ہوئی۔ وہ ایک ایکٹر ، رائٹر ہے۔ کالج کے دور سے ہی انہیں تھیٹر میں حصہ لیتی تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا انکے والدین نے انہیں ایکٹینگ میں کیریئر بنانے کے لیے سپورٹ کیا۔

سال 2017 میں فلم مکے باز، 2018 میں انہوں نے دو فلموں میں کام کیا جن میں تین اور آدھا،  نام دیو باہو، 2019 میں لال کپتان، 2021 میں ساؤتھ فلم کدان، ہاتھی میرے ساتھی، انکہی کہانیاں، جیسی فلمیں شامل ہے۔

 

 

سال 2021 میں زویا نے ڈزنی ہاٹ اسٹار پر نشر ہوئی ویب سیریز گرہن، اور 2024 میں پرائم ویڈیو پر نشر ہوئی بگ گرلز ڈونٹ کرائی شامل ہے۔

Tags:
Sabiha Banu

اردو پوسٹ میں ڈیجیٹل کنٹینٹ پروڈیوسر کے طور پر کام کرنے والی صبیحہ بانو کو میڈیا میں آٹھ سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ ان کی مہارت تفریحی رپورٹنگ، تحریر، فلمی جائزے اور تجزیہ میں ہے۔ صبیجہ بانو نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد سے ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن اور اردو سے ایم ۔فل کیا ہے۔ صبیجہ بانو نے آل انڈیا ریڈیو میں بطور پروگرام اناونسر خدمات انجام دیتی ہیں۔ اسکے علاوہ صبیجہ مختلف شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں۔

  • 1

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *