Type to search

صحت

مچھروں کا عالمی دن: ایک چھوٹا سا مچھر ایک بڑے انسان کی لے سکتا ہے جان

ہیلتھ ڈسک،21اگسٹ(اردوپوسٹ) برسات کے دنوں میں جگہ -جگہ پانی بھرجانے اور درجہ حرارت میں گراوٹ ہونے سے ہر طرف مچھر پنپنے لگتے ہیں- اگر اور اس سے ڈینگو، ملیریا اور چکنگنیا کی وبا بڑی تعداد میں لوگوں کو متار کرتی ہے- اس سے نمٹنے کے کئی مہمات کو چلائے جانے کے بعد بھی ہر سال سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ملیریا اور ڈینگو کے کیس سامنے آتے رہتے ہیں- 20اگسٹ سن 1897 میں برٹش ڈاکٹر رونالڈ راس نے اس بات کا پتہ لگایا تھا کہ عالمی مچھر ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے- تو چلئیے اس یوم عالمی مچھر پر جانتے ہیں کہ مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں اور اس سے روک تھام کے اقدامات کےبارے میں —

 

کہا جاتا ہے کہ جتنا کسی آفت اور دیگر بیماریوں نے کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچایا اس سے کہیں زیادہ ایک چھوٹے سے مچھر نے پہنچایا ہے- بتادیں کہ ایک چھوٹا سے مچھر ایک بار میں شخص کو 0.1 ملی میٹر تک خون چوستا ہے- جس سے ملیریا ، ڈینگو اور چکنگنیا جیسی سنیگین بیماریاں ہوسکتی ہے- یہ ایسی بیماریاں ہیں جو کسی شخص کی  جان بھی لے سکتی ہے-

 

اعداد وشمار کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی الگ- الگ بیماریوں سے ہر سال لاکھوں کی جان چلی جاتی ہے- جن میں سب سے زیادہ موتیں افریقی ملکوں میں ہوتی ہے- بتادیں کہ مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریاں دنیا کی سب سے مہلک بیماریوں میں شامل ہے- جن میں ڈینگو، ملیریا ، پیلا بخار، انسیفلائٹس کسی شخص کی جان تک لے سکتی ہے-

مچھروں سے ہونے والی بیماریوں سے اپنا اور اپنے خاندان کا بچاؤ کرنا ہے تو آس پاس نہ صرف اپنے گھر بکلکہ پورے علاقے میں صاف صفائی کا پورا خیال رکھیں- گھر میں یا گھر کے باہر پانی کے بہاؤ نہ ہونے دیں اور اگر گھر کے آس پاس کھلی نالیاں ہیں تو انہیں فوری بند کریں- وٹامن سے بھرے پھل اور کھانا کھائیں-

Tags: