Type to search

صحت

مچھر کن لوگوں کو ذیادہ کاٹتے ہیں؟ جانیں کیا ہے بلڈ گروپ سے کنکشن

مچھر

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) مانسون میں گھر سے باہر قدم رکھتے ہی مچھروں کا ہجوم ہمارے سر پر منڈرانے لگتا ہے۔ ہاف آستین کے کپڑے پہن کر باہر جانا تو اور مشکل ہوجاتا ہے۔ مچھر پارک، میدان یہاں تک کہ گھر میں بھی ہمارا پچھا نہیں چھوڑتے ہیں۔

لاکھ کوشش کے بعد بھی ان سے پچھا چھوڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ کو جان کر حیران ہوگی کہ مچھر کچھ لوگوں کو ہی ذیادہ پریشان کرتے ہیں۔ اسکے پچھے کئی سائنسی وجوہات بھی بتائے گئے ہیں۔

بتادیں کہ سارے عالم مچھروں کے قریب 3،500 قسمیں ہیں۔ مچھر کی زندگی چار مراحل میں ہوتی ہے۔ انڈہ، لاروا، پیوپا، اور پھر مکمل مچھر۔ ان کی افزائش اکثر تالابوں، نالیوں یا پانی کی کسی بھی جمع پانی اور پتوں پر ہوتی ہے۔ مادہ مچھر ایک مہینے تک زندہ رہ سکتی ہے، کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی ایک سے دو ہفتے تک ہوتی۔

سائنسدانوں کا دعوی ہے کہ انسانوں کو صرف مادہ (فیمیل) مچھر ہی کاٹتے ہیں۔ اسکی وجہ مادہ کے افزائش نسل سے جڑا ہے۔ دراصل مادہ مچھر انسان کے خون میں موجود غذائی اجزاء کو لینے کے بعد ہی انڈے دیتی ہے۔ مچھروں کی اصل غذا پھلوں پھولوں کا رس ہے۔ اور خون کی ضرورت صرف مادہ کو ہوتی ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او ٹو) کی بو مچھروں کو تیزی سے انسانوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ مادہ مچھر اپنے سینسنگ اعضاء سے اسکی بو پہچان لیتی ہے۔ سانس چھوڑتے وقت انسان کے جسم سے نکلنے والی سی او ٹو، گیس کی وجہ سے یہ کچھ لوگوں کو ذیادہ کاٹتے ہیں۔ مچھر 150 فٹ کی دوری سے بھی اسکی بو کو بڑی آسانی سے پہچان لیتے ہیں۔

جاپان کے محققین یہ ثابت کرچکے ہیں کہ اے بلڈ گروپ کے مقابلے میں او بلڈ گروپ کے لوگوں کو یہ ذیادہ کاٹتے ہیں۔ اس بلڈ گروپ کے لوگوں کے لیے کسی مقناطیس کی طرح کام کرتے ہیں۔ جبکہ بی بلڈ گروپ کے لوگوں کو یہ عام طور سے ہی کاٹتے ہیں۔

محققین کا دعوی ہے کہ کچھ خاص مہک (بو) مچھروں کو ذیادہ تیزی سے متوجہ کرتی ہے۔ انسان کی جلد میں رہنے والے بیکٹریا سے ریلیز ہونے والی یورک ایسڈ، لییکٹک ایسڈ اور امونیا کی مہک سے بھی یہ انسان کے پاس ذیادہ منڈراتے ہیں۔ جسم کا درجہ حرارت ذیادہ ہونے کی وجہ سے انسان کو جو پسینہ آتا ہے، اس میں یہ عنصر ذیادہ نکلتے ہیں۔