Type to search

قومی

جب پارلیمنٹ خراب قانون بناتی ہے تو اسکا اختتام عدالت میں ہوتا ہے: سابق نائب صدر حامد انصاری

نئی دہلی، 19جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے ہفتہ کو کہا کہ جب پارلیمنٹ خراب قانون بناتی ہے تو اسکا اختتام عدالت میں ہوتا ہے۔ جہاں پر جج وہ کہتے ہیں جو پارلیمنٹ کو کرنا چاہیئے۔ یہاں پارلیمنٹ 2020 نام سے منعقد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھے قانون تب بناتے ہیں، جب پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلیاں حکمران کے ووٹ کو حوصلہ افزا نہیں کرتی، انہوں نے اس بات پر اظہار افسوس جتایا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی اجلاس اب رسم ادائیگی بھر رہ گئے ہیں۔

انصاری نے کہا، جب ہم خراب قانون بناتے ہیں تو دیر سویر انکا اختتام کسی کورٹ یا سپریم کورٹ میں ہوتا ہے۔ جو کام پارلیمنٹ کو کرنا چاہیئے۔ وہ جج کی طرف سےہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خامی کو دور کیا جانا چاہیئے۔ راجیہ سبھا کے سابق چیئرمین نے کہا کہ پارلیمنٹ پہلے دس دن کے لیے بیٹھتی تھی، اب سال میں 60 اجلاس ہوتی ہے لیکن دیگر ملکوں میں مقننہ 120 سے 150 دنوں تک بیٹھتی ہے۔

انصاری نے کہا کہ کوئی بھی قانون یا قواعد بنان ےکے لیے بحث کے لیے وقت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے اجلاس آج ذیادہ رسمی ہوگئے ہیں۔ جہاں پر آپ ملتے ہیں، کچھ چیزیں کہتے ہیں، کچھ دنوں تک ساتھ رہتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، سابق نائب صدر نے کہا کہ جمہوریت میں رضامندی اور لوگوں کی خواہشات کا اظہار ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں مشاورت کا عمل منصفانہ اور کھلا ہونا چاہئے۔

(خبر بھاشا سے لی گئی)