Type to search

تلنگانہ

رحم مادر میں کیا ہے ۔ قرآنی آیت پر ایک شبہ اور اسکا ازالہ

What is in the womb?

از قلم: امام علی مقصود شیخ فلاحی


سائنس جوں جوں ترقی کر رتی جارہی ہے، لوگوں کے اذہان ہزاروں قسم کے شبہات سے بھرے جارہے ہیں، وہیں قرآن و اسلام کے متعلق بہت سے مسائل پیدا ہوئے جارہے ہیں، مثال کے طور پر حاملہ کے رحم‌ میں لڑکا ہے یا لڑکی ، چنانچہ کئی‌لوگوں کا‌ماننا ہے کہ ڈاکٹروں نے جس بات کی خبر دی ہے وہ ثابت ہوا ہے، اگر ڈاکٹروں نے لڑکے کی خوشخبری دی ہے تو لڑکا پیدا ہوا ہے اور اگر لڑکی کی خوشخبری دی ہے تو لڑکی پیدا ہوئی ہے، اس لئے بہت سے لوگ شبہات میں پڑے ہیں کہ جب قرآن نے کہہ دیا :

 

اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ‌ ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ‌ ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِى الۡاَرۡحَامِ‌ ؕ وَمَا تَدۡرِىۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا‌ ؕ وَّمَا تَدۡرِىۡ نَـفۡسٌۢ بِاَىِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ  ۞

ترجمہ:
قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتا ہے، الخ۔۔۔۔۔۔

کہ اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ رحم مادر میں ہے تو یہ اطباء حضرات کیسے معلومات حاصل کر لیتے ہیں کہ حاملہ کے بطن میں بچہ ہے یا بچی ؟

مقصد پر بحث کرنے سے قبل ضروری سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ کی مختصر توضیح کردوں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو ۔

اللہ نے فرمایا
اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ‌ ۚ وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ‌ ۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِى الۡاَرۡحَامِ‌۔

اس آیت میں اللہ نے جس علم کی بات کی ہے وہ علم خاص ہے نہ کہ علم‌ مطلق ، کیونکہ آیت کریمہ میں “عنده” کو “علم الساعة” پر مقدم رکھا گیا ہے حالانکہ “عنده” خبر اور “علم الساعة” مبتدا ہے جبکہ نحو کا قاعدہ ہے کہ مبتدا مقدم اور خبر مؤخر ہوتی ہے، لھذا بقاعدہ “تقديم ما حقه التاخير يفيد الحصر” یہاں حصر پیدا ہو گیا اب ترجمہ ہوگا کہ ‘اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم‌ہے’۔

(٢) اللہ کے نام‌کو مقدم کر کے اس پر خبر ‘عنده’ کی بنا کی گئی جو کہ حصر کا فائدہ دیتا ہے۔ چنانچہ اب کہا جائے گا کہ “بلا شبہ اسی کے پاس قیامت کا علم‌ہے’
(٣) خود لفظ ‘عند’ حصر و اختصاص کا فائدہ دیتا ہے۔

جب اس جملہ میں کئی طرح سے اختصاص و حصر کا معنی پایا جارہا ہے تو سیاق و سباق سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ “ويعلم ما فى الارحام” میں بھی اختصاص و حصر کا مفہوم ملحوظ ہوگا ، کیونکہ یہ آیت بھی اسی مقصد سے نازل کی گئی ہے کہ ان چیزوں کے علم کا اللہ کے ساتھ مخصوص ہونا بتایا جائے۔

بہر کیف معلوم ہوا کہ یہاں پر علم سے مراد علم مطلق نہیں ہے بلکہ علم خاص ہے۔

اور علم‌‌ مطلق ہو بھی کیسے ؟ یہ علم تو حالات و اسباب سے بھی حاصل ہوجاتا ہے، یہ علم تو اللہ کے شان کے لائق بھی نہیں ہے کیونکہ ایسا علم تو مخلوق کو بھی حاصل ہے۔  اس لئے ہم یہاں پر ایسا علم مراد لیں گے جو صرف اللہ کے شایان شان ہو ، اور اللہ کے شایان شان صرف دو طرح کے علم ہیں ، یا یوں کہہ لیں کہ اللہ کے علم کی دو قسمیں ہیں۔

ایک وہ: ہے جو بلا کسی واسطے سے اس کو حاصل ہوا ہے۔

دوسرا وہ: جو ذرے ذرے کو مفید ہے اور اسکے (اللہ) دائرے سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے ۔

 

باالفاظ دیگر جسے ہم علم غیب اور علم محیط  کہتے ہیں اور ان دونوں علموں کی دلیل قرآن میں موجود ہے۔

 

(وعنده مفاتيح الغيب لا يعلمها الا هو) سے علم غیب ثابت ہے ۔ اور (ويعلم ما فى البر و البحر) سے علم محیط ثابت ہے۔

 

جب یہ بات واضح ہو گئی تو اب اس پر ذرا غور کیجئے کہ ہم نے مانا کہ اطباء حضرات بعض آلات کے ذریعے یہ ثابت کردیتے ہیں کہ رحم مادر میں کیا ہے ۔

 

لیکن کیا اسکی وجہ سے آیت کی تکذیب ہو جاتی ہے؟ کیا اس سے اللہ اور رسول کی صداقت میں شبہ کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کا آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے ۔ آیت جس چیز کی مدعی ہے واقہ مذکور نے بالکل اسکی تکذیب نہیں کی۔ کیونکہ آیت نے یہ بتلایا ہے کہ اللہ کے سواء کوئی اور “مافي الارحام” کے تعلق سے نہ ہی علم غیب رکھنے والا ہے اور نہ ہی علم محیط رکھنے والا ہے۔ اور ڈاکٹر حضرات جو کچھ بتلاتے ہیں وہ نا ہی علم غیب کی بنیاد پر بتاتے ہیں نہ ہی علم محیط کی بنیاد پر بتاتے ہیں۔

کیونکہ وہ لوگ آلات کے استعمال سے بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جسکی وجہ سے علم غیب کی نفی ہوجاتی ہے۔
اور انکی یہ حالت ہوتی ہے کہ بیک وقت وہ لوگ پچاس یا سو حاملہ عورتیں جو انکی زیر علاج ہیں ان کے بطن میں کیا ہے وہ بھی نہیں بتا سکتے جسکی وجہ سے علم محیط کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔

معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں کا علم نہ ہی علم غیب ہے نہ ہی علم محیط ہے بلکہ علم مطلق ہے ، اور جب ڈاکٹروں کا علم علم مطلق ہے تو قرآن کی آیت اپنی جگہ درست اور ڈاکٹروں کا علم اپنی جگہ صحیح۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Imam Ali June 28, 2020

    مضمون کے تعلق سے تبصرہ ضرور کریں