Type to search

صحت

تھائی رائیڈ کے علامات: ہر کسی معلوم ہونا چاہیئے

تھائی رائیڈ

ہیلتھ ڈسک،(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تھائی رائیڈ ہونا آج  کل عام بات ہوگئی۔ اور تھائی رائیڈ صرف خواتین کو ہوتا ہے ہماری غلط فہمی ہے۔ یہ مردوں میں بھی ہوتی ہے۔ یہ کب ہوتی ہے معلوم نہیں پڑتا، اکثر اس بیماری میں مریض بہت پتلا ہوجاتا ہے یا بہت موٹاپا اسے گھیر لیتا ہے۔ اس کی صحیح وقت پر جانچ اور علاج ضروری ہے۔ آئے جانتے ہیں اسکے علامات کو ہم کیسے پہچانے۔

 

تھائی رائیڈ کی بیماری ایک بڑی آبادی کو اپنی زرد میں لے چکی ہے۔ حالانکہ عام طور پر اسے خواتین کی بیماری مانا جاتا ہے۔ لیکن یہ مردوں کو نہیں ہوتی، ایسا ماننا صحیح نہیں ہے۔

 

ہائپوٹائیڈائیرزم کیا ہوتا ہے؟

تھائی رائیڈ کی بیماری کو ہی ہائپوٹائیڈائیرزم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک عام ڈس آرڈر ہے، جس سے گھبرانے کی نہیں بلکہ صحیح وقت پر اسکا علاج کرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہائپوٹائیڈائیرزم کو دو حصوں میں بانٹ کر دیکھا جاتا ہے۔ انہیں پرائمری اور سکنڈری (سنٹرل) ہائپوٹائیڈائیرزم کہا جاتا ہے۔

پرائمری اور سکنڈری ہائپوٹائیڈائیرزم میں فرق

پرائمری ہائپوٹائیڈائیرزم تب ہوتا ہے، جب تھائی رائیڈ گلینڈ ضروری مقدار میں تھائی رائیڈ ہارمون کا پروڈکشن نہیں کرپاتی، ایسی صورتحال میں آئوڈین کی کمی کی وجہ سے بنتی ہے۔

سکنڈری ہائپوٹائیڈائیرزم، اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب تھائی رائیڈ گلینڈ صحیح طریقے سے کام کررہی ہو لیکن پٹیوٹری غدود (گلینڈ) اور دماغ کا ایک حصہ ہائپو تھیلمس صحیح ڈھنگ سے کام نہ کریں۔

 

ہائپوٹائیڈائیرزم کے علامات

اس بیماری کی علامات بہت معمولی اور الگ الگ مریض میں الگ الگ ہوسکتے ہیں۔ کچھ عام علامات جو ہائپوٹائیڈائیرزم کے ذیادہ تر مریضوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں ان میں ۔۔۔
جلد کا رنگ بدلنا
تھکان محسوس کرنا
پسینہ کم آنا
بال تیزی سے جھڑنا
جلد کا روکھا پن
آواز میں بدلاؤ
موٹاپا بڑھنا
نیند آنے میں مسئلہ
قبض رہنا
پٹھوں میں جکڑن رہنا
ہلکی سی ٹھنڈ بھی برداشت نہ کرپانا
ماہواری (پیریڈس) سے متعلق مسائل
چھاتی (بریسٹ) سے اپنے آپ وائٹ ڈسچارج ہونا

 

یہ بھی ہے ایک علامت

کئی بار ہائپوٹائیڈائیرزم کے کچھ مریضوں میں ڈپریشن، بے چینی، میموری لاس، یا دوسرے مینٹل ڈس آرڈر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس دوران شخض اکیلاپن، سستی اور جذباتی طور پر خود کو بہت کمزور محسوس کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ روزآنہ کے روٹین سے جڑی چیزوں کو یاد رکھنے میں بھی پریشانی محسوس کرسکتا ہے۔

 

ان علامات کو سنجیدگی سے لیں
ہائپوٹائیڈائیرزم کے کچھ ایسے بھی علامات ہوتے ہیں۔ جنہیں ہم عام طور پر بیماری کے علامات کے طور پر سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں۔ ان میں اہم علامات اس طرح ہیں۔۔۔۔
دل کی دھڑکن بہت ہلکی محسوس ہونا
بالوں کا روکھا اور بے جان دیکھنا
دھیرے بولنا اور دھیرے چلنا
گلے کا بڑا دیکھنا
چہرے کے ہاؤ۔بھاؤ کلیئر نہ ہونا
جلد میں پیلا پن دیکھنا

کب کرانی چاہیئے تھائی رائیڈ کی جانچ؟

امریکن تھائی رائیڈ اسوسی ایشن کے مطابق، 35سال کی عمر سے تھائی رائیڈ کی جانچ کرانی شروع کردینا چاہیئے اور ہر پانچ سال بعد اسکی جانچ باقاعدہ طور پر کرانی چاہیئے۔ تاکہ آپ اس سنگین بیماری سے بچ سکیں۔ یہ بات خواتین اور مردو دونوں کے لیے ہے۔ حالانکہ تھائی رائیڈ مرض کو خواتین سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔

 

یہ بھی جاننا ہے ضروری

ہاشموٹو تھائی رائڈائٹس یہ ایک آٹو امیون تھائی رائیڈ مرض ہے، جو ذیادہ تر کیسوں میں آئوڈین کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس بیماری میں مریض کے جسم کی قوت مدافعت صلاحیت خود اسکے ہی جسم کی تھائی رائیڈ گلینڈ کے خلاف ہوجاتی ہے۔

 

ہائی رسک کی حالت

لائف کی کچھ خاص حالات میں تھائی رائیڈ کی جانچ ضرور کرانی چاہیئے۔ کیونکہ اس وقت اس بیماری کی زرد میں آنے کا امکان سب سے ذیادہ ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو ضرور کرانی چاہیئے اپنی جانچ۔۔۔
جنکی تھائی رائیڈ بیماری متعلق فیملی ہسٹری (تاریخ) ہو۔
جنہوں نے گردن اور سر کی ریڈیشن تھراپی کرائی ہو ان لوگوں کو۔
جنہیں ٹائپ ۔۱ ذیابطیس ہو۔
ساٹھ سال سے ذیادہ عمر کی خواتین کو۔
حاملہ خواتین کو۔
جو لوگ آٹو امیون سے متاثر رہے ہوں انہیں۔
جنکے خون میں تھائی رائیڈ پیروکسائڈیس اینٹی باڈیز بنتی ہے۔


 

(نوٹ: صلاح سمیت یہ مضمون صرف عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی رائے کا متبادل نہیں ہے، مزید معلومات کے لئے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اردو پوسٹ اس معلومات کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ )

اس مضمون میں دی گئی معلومات مختلف تحقیقی مقالوں سے جمع کی گئی ہیں۔ ان میں نیشنل سنٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن کی طرف پبلیش ریسرچ بھی شامل ہے۔ اس مضمون ہندی میں شائع ہوئے مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔

Tags:

You Might also Like