Type to search

صحت

کھڑے ہوکر پانی پینے سے کیا ہوتا ہے؟

کھڑے ہوکر پانی پینے

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) پانی کی پیاس بجھانے کے لیے اس کا کوئی دوسرا بدل نہیں ہے۔ لیکن اسے کس طرح پیا جائے یہ بھی جانا ضروری ہے۔ کچھ لوگ اسے بنا ہونٹوں کو گلاس لگائے پانی پیتے ہیں، کوئی ایک ہی سانس میں پانی پیتے ہیں۔ وہیں کوئی کھڑے ہوکر پانی پیتا ہے تو کوئی بیٹھ کر پانی پیتا ہے۔ پانی کو کس طرح پینے سے ہمارے جسم کو فائدہ پہچاتا ہے آئیے جانتے ہیں۔

آپ کی پیاس بجھانے کے لیے پانی جیسا کچھ نہیں ہے- یہ آپ کو ہائیڈریٹ رکھنے میں اہم رول نبھاتا ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، بہت سارے صحت کے مسائل اور دیگر متعلقہ بیماریاں بھی ہیں- جنہیں حل کیا جاسکتا ہے اگر آپ باقاعدگی سے پانی کا استعمال کرتے رہے-

صحت مند رکھنے کے لیے آپ کو ہر دن کم سے کم 8 گلاس پانی پینا چاہیئے- جسم کو صحت فٹ رکھنے میں پانی کا اہم رول ہوتا ہے- انسانی جسم میں پانی کی مقدار 60-50 فیصد ہوتی ہے- پانی جسم کے اعضا اور ٹشوز کی حفاظت کرتا ہے- ساتھ ہی خلیات تک غذائی اجزاء اور آکسیجن پہچانے کا کام کرتا ہے- حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ اچھی صحت کے لیے صحیی مقدار میں پانی پینا کتنا ذیادہ ضروری ہے-

آپ ایک دن میں کتنا پانی پیتے ہیں یہ کافی معنی رکھتا ہے لیکن اسکے ساتھ ہی اچھی صحت کے لیے اس بات کی توجہ رکھنا بھی ضروری ہے کہ کس پوزیشن میں پانی پیتے ہیں- ذیادہ تر لوگ کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں، جو آپ کے صحت پر برا اثر ڈال سکتا ہے-

کھڑے ہوکر پانی پینے سے گھٹیا اور دیگر بیماریوں ہوسکتی ہے- یہ یقینی کرنے کے لیے جبکہ ہمارے پاس بتانے کے لیے کوئی سائنٹفک ثبوت نہیں ہے کہ دونوں طریقوں میں سے کون سا صحیح ہے-

حالانکہ ابھی بھی نیچے بیٹھ کر پانی پینے کی صلاح دی جاتی ہے- جب ہم کھڑے ہوتے ہیں یا چلتے ہیں، تو خون کی دورانگی ہمارے ہاتھ اور پیروں کی طرف ذیادہ ہوتی ہے، جو پانی کو نظام انہظام تک ٹھیک سے پہچانے میں روکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے-

ایورویک کے مطابق، جب ہم کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں، تو اس سے ہمارے پیٹ پر ذیادہ پریشر پڑتا ہے، کیونکہ کھڑے ہوکر پانی پینے پر پانی سیدھا غذائی نالی (اسوفیگس) کے ذریعہ پریشر کے ساتھ پیٹ میں تیزی سے پہنچتا ہے-

اس سے پیٹ اور پیٹ کے آس پاس کی جگہ اور نظام انہظام کو نقصان پہنچاتا ہے- اسکے علاوہ کہا جاتا ہے کہ کھڑے ہوکر پانی پینے سے جسم کو اس سے ملنے والے کسی بھی غذائی اجزاء کا فائدہ نہیں ملتا ہے-

ہم اپنے بڑے بزرگوں سے پانی پینے کے طریقے کو سنتے آرہے ہیں۔ مذہب اسلام میں بھی پانی پینے کی سنتیں موجود ہیں۔ اور پانی پینے آداب بتائے گئے ہیں۔ جیسے تین سانس پیئں، دیکھ کر پیئیں بیٹھ کر پیئیں وغیرہ۔

ہمارا جسم کا دو تھائی وزن پانی کی وجہ سے ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے  کیونکہ اس سے جسم میں نمی برقرار رہتی ہے اور فضول مادہ خارج ہوتا ہے۔

زیادہ پانی پینے سے جسم میں خون کی دورانگی بہتر رہتی ہے اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہماری دائمی صحت کے لیے بہت مفید ہے اس لیے ماہرین صحت بھی ہمیں روزانہ تقریباً 8 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہربل ماہرین کا کہنا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے ہماری نسیں کھنچاؤ کا شکار ہوتی ہیں۔

جب آپ کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں، تو پانی جو سیدھے نظام سے گذرتا ہے، اصل میں ان اعضاء تک نہیں پہنچتا ہے جہاں تک جانا چاہیئے۔ اس لیے جو نجاست باہر جانے والی ہوتی ہے، وہ گردے اور (یورینری بلیڈر) مثانے میں جمع ہوجاتی ہے۔

کھڑے ہوکر پانی پینا جسم کو قدرت کے ساتھ تال میل سے باہر کردیتا ہے اور اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے۔ جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ خطرے کا سامنا کررہا ہے۔ غذائی اجزا اصل میں اس طرح بیکار ہوجاتے ہیں اور آپ کا جسم تناؤ یا کسی تناؤ کا سامنا کرنے کے لیے پابند ہوتا ہے۔

کھڑے ہوکر پانی پینے سے پانی پریشر کے ساتھ پیٹ میں جاتا ہے۔ جس سے سبھی امپیورٹیز بلیڈر (نجاست) میں جمع ہوجاتی ہے۔ جو کڈنی کو سنگین نقصان پہنچاتا ہے۔ پانی پینے کا طریقہ ہماری صحت کو کئی طرح سے متاثر کرتا ہے۔

اس سے جوڑوں کے درد کا مسئلہ ہوجاتا ہے۔ جب ہم بیٹھ کر پانی پیتے ہیں تو ہمارے پٹھوں اور اعصابی نظام کو بہت سکون ملتا ہے۔ ساتھ ہی کھانا جلدی ہضم ہوجاتا ہے۔

اس لیے ہمیشہ بیٹھ کر ہی پانی پینے کی کوشش کریں: اس طرح سے پانی کا فلو آہستہ رہے گا اور جسم کو ضروری امیونٹی بھی ملے گی۔

کھڑے ہوکر پانی پینے سے پھیھڑوں پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ ہمارے فوڈ پائپ اور ونڈ پائپ میں آکسیجن کی سپلائی روک جاتی ہے۔

اگر کوئی شخض لگاتار کھڑے ہوکر پانی پیتا ہے تو اس شخص کو پھیھڑوں کے ساتھ ساتھ دل سے متعلق بیماری ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کھڑے ہوکر پانی پینے سے پیاس کبھی نہیں بجھتی ہے۔

جب آپ کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں تو آپ کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔ ایسے میں آپ کو ہر تھوڑی دیر میں پیاس لگتی ہے۔ وہیں اگر آپ سچ میں اپنی پیاس بجھانا چاہتے ہیں تو آپ بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے گھونٹ میں پانی پیئیں۔

یہی وجہ ہے کہ پانی پینے کے کچھ منٹ بعد ہی آپ کو پھر سے پیاس لگنے لگتی ہے۔

اس لیے بہتر ہوگا کہ بیٹھ کر آرام سے پانی پیئیں۔

پانی جلدی میں پینے سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے

جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے

بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

پانی پینے کا صحیح وقت کیا ہے؟

صبح اٹھتے ہی دو گلاس پانی پیئے

اپنے کھانے سے 20-30 منٹ قبل ایک گلاس پانی پیئے

پانی نہانے سے پہلے ایک گلاس پانی پیئے

سونے سے پہلے ایک گلاس پانی پیئے

ورزش سے پہلے اور بعد میں ایک گلاس پانی پیئے

بوتل سے پینے سے پرہیز کریں

جب آپ بیمار ہو تو زیادہ سے زیادہ پانی پیئے

Tags:

You Might also Like