Type to search

تلنگانہ

سیاہ قانون کے خلاف ‘ ہم کسی بھی صورت میں کاغذات نہیں بتائیں گے۔ڈیسنٹ ایجوکیشنل سوسائٹی کے اجلاس و مشاعرہ سے مقررین کی مخاطبت

حیدرآباد۔29جنوری(پریس نوٹ) شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کی ملک گیرپیمانے پر احتجاج ہورہاہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ یہ آئین کے خلاف ہے اورآنے والے دنو ںمیں اس سے سب سے زیادہ مسلمان متاثرہوںگے۔ سپریم کورٹ میں اس کے خلاف عرضی داخل کی گئی ہے ۔یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ ملک کے تمام اقلیتوں کی لڑائی ہے ۔ ان خیالات کااظہاراردوگھرمغل پورہ میں محمدواحدعلی خان ایڈوکیٹ نے ڈیسنٹ ایجوکیشن سوسائٹی تلنگانہ کے زیراہتمام اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے سی اے اے اوراین آرسیقوانین کو کوملک کے آئین کے منافی قراردیا۔ اس اجلاس میں ہائی کورٹ کے وکلا’صحافی حضرات وراردوادب کے شعراء موجودتھے۔ نواب محمدحیدرعلی خان ماہرتعلیم کی صدارت میں جاری اس اجلاس میں سینئر صحافی اطہرمعین بانی وصدرتلنگانہ اردوورکنگ جرنلسٹ یونین نے دوٹوک اندازمیں کہاکہ اگرکاغذات ہی بتانے ہیں تو احتجاج بے سود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سی اے اے ‘ این پی آراوراین آرسی کی لڑائی سب کی مشترکہ لڑائی ہے۔ مسلمان پوری طرح سے اس لڑائی میں ہیں۔انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہودیوں نے ہٹلرکوسامنے رکھتے ہوئے یہودیوں کی مملکت اسرائیل کوقیام عمل میں لایا۔ اسی طرح آج ہندوستان میں ان یہودیوں کابارہواں قبیلہ بھی اس طرزپرہندوستان میں عمل پیراہے۔تاکہ ہندوستان میں جمہوریت وسیکولرازم کے بجائے ”منوسمرتی”کاقانون نافذ ہوجائے۔ محمد ہارون عثمان بانی وسکریٹری سیوافائونڈیشن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھیم رائوامبیڈکرنے آئین ہند کی بنیادڈالی۔ وہ دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہوئے انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اورامن وامان سے زندگی گزارنے کیلئے اس سے بہترکوئی دستورنہیں ہے یہ دستورکے دفعہ 1 میں انڈیا یعنی بھارت ریاستوں کی یونین کا نام ہوگا۔ انہوں نے اردوشعراء ادبا پرزوردیا کہ وہ لفظ ہندوستان کی جگہ لفظ بھارت کازیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ہائی کورٹ ایڈوکیٹ شفیق قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جس میں کئی وکلاء شامل ہیں۔ اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں اورساتھ میں ان احتجاجیوں کی بھی مدد کریں گے ۔ جنہیں پولیس تشددکانشانہ بنارہی ہے۔ یہ قانون کوآئین کی روح کے مخالف قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ آئین میں مذہب’ ذات ‘ نسل اورجائے پیدائش کی بنیادپرکسی بھی شہری کے ساتھ تفریق کی اجازت نہیں دیتا ۔انہوں نے کہاکہ شہریت ترمیمی قانون میں مذہب کی بنیادپرایک خاص طبقہ کونشانہ بنایا گیاہے۔ ا س امتیازی قانوں کی دستورمیں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ڈاکٹرناظم علی نے کہاکہ آئین ہندبھارت کوآزاد’سماجی ‘ سیکولراورجمہوری ملک بناتا ہے جہاں عوام کے تئیں انصاف ‘ مساوات اورحریت کویقینی بناتا ہے اوربرادری کوفروغ دینے پرابھارتاہے۔ایڈوکیٹ محمدافضل الدین دکنی’ایڈوکیٹ سہیل اورایوب خان اسکالر نے شہریت قانون اوراین آرسی کے خلاف تلنگانہ میں احتجاجیوں کے بھرپورساتھ دینے اورساتھ میں پولیس کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک کومذہبی بنیادپرتقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ہم اس سیاہ قانون کے خلاف گاندھی وادی طریقے سے احتجاج کریں گے۔وقت پڑنے پروکلاء بھی اس سیاہ قانون کے خلاف سڑکوں پراتریں گے۔ بعدازاں مشاعرہ ”اے شہر رسن بستہ ” منعقد ہوا۔ جس میں شعراء نے احتجاجی شاعری پیش کی۔ناظم مشاعرہ اسلم فرشوری کی صدارت میں مشاعرہ رات دیرگئے تک جاری رہا۔وحیدپاشاہ قادری ‘ممتازلکھنوی’ نجیب احمدنجیب’قاری انیس احمد’تمجیدحیدر’سہیل عظیم اورساجدسنجید نے کلام سنایا۔ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ سہیل عظیم ناظم مشاعرہ تھے۔کنوینرمحمدواحدعلی خان صدرڈیسنٹ ایجوکیشن سوسائٹی نے تمام شکریہ اداکیا۔

Tags:

You Might also Like