Type to search

قومی

جامعہ یونیورسٹی کے وی سی نے کہا – طلبا کے ساتھ ایسا برتاؤ تکلیف دہ، انکے اکیلے کی لڑائی نہیں، میں ہوں انکے ساتھ

نئی دہلی،16ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) شہری قانون کے خلاف احتجاج کررہے طلبا کو دہلی پولیس نے تشدد کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔ اسکے بعد طلبا کو یونیورسٹی کی وائس چانسلر نجمہ اختر کا ساتھ ملا ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یہ اکیلے ان طلبا کی لڑائی نہیں ہے، میں انکے ساتھ ہوں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جس طرح سے طلبا کے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے، اس سے وہ افسردہ ہے۔

وائس چانسلر نجمہ اختر نے ایک ویڈیو میسج میں کہا ہے، جس طریقے سے میرے طلبا کے ساتھ پیش آیا گیا ہے۔ اس سے میں افسردہ ہوں۔ میں میرے طلبا کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اس لڑائی میں اکیلے نہیں ہے۔ میں انکے ساتھ ہوں میں اس معاملے کو جہاں تک ہوگا آگے لیکر جاؤنگی۔

جامعہ یونیورسٹی کے انتظامیہ کی اجازت کے بنا کیمپس میں گھس کر طلبا کو پٹنے کے بعد حراست میں لیے گئے طلبا کو پیر کی صبح پولیس نے چھوڑ دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حالات کو قابو کرنے کے لیے جو ضروری تھا، انہوں نے وہی کیا۔  طلبا کو رہا کرنے کے بعد دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئے لوگوں نے بھی مظاہرہ ختم کردیا۔

نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے جامعہ کے چیف پراکٹر وسیم احمد خان نے کہا، کیمپس میں گھسنے کے لیے پولیس کو اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پولیس زبردستی گھس گئی۔ ہمارے عملے اور طلباء کو مارا پیٹا گیا اور انہیں کیمپس چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

Tags:

You Might also Like