Type to search

بین الاقوامی

کوویڈ ۔19: امریکی سائنسدانوں کا دعویٰ – سورج کی کرنوں میں جلدی ختم ہوجاتا ہے کرونا وائرس

واشنگٹن،24اپریل (اے ایف پی) امریکی عہدیداروں نے ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ سورج کی کرنوں کے رابطے میں آتے ہی کورونا وائرس جلدی ختم ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس ریسرچ کو ابھی عوامی نہیں کیا کیا گیا ہے۔ کیونکہ باہری طور پر اسکا تشخیص کیا جارہا ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سائنس اور ٹکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے مشیر ولیم برائن نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ سرکاری سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں پایا ہے کہ سورج کی کرنوں کا پیتھوجین پر ممکنہ اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا آج تک کی ہماری ریسرچ میں سب سے خاص بات یہ پتہ چلی ہے کہ وہ سارے روشنی کی سطح اور ہوا میں اس وائرس کو مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ درجہ حرارت اور نمی میں بھی اسی طرح کے نتیجے سامنے آئے ہیں۔ برائن نے میری لینڈ میں واقع نیشنل بایوڈفینس تجزیہ اور کاؤنٹر میجرز سنٹر کی ایک ریسرچ کو بھی پیش کیا۔

اسکے مطابق دیکھا گیا کہ 21 سے 24 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں (20 فیصد نمی) میں تقریبا 18 گھنٹے میں وائرس آدھا ختم ہوگیا تھا۔ دروازوں کے ہینڈل اور سٹینلیس اسٹیل پر بھی اسکا اثر اتنی ہی تھا۔ نمی کو 80 فیصدی بڑھایا جانے کے بعد آدھا وائرس 6 گھنٹے میں ختم ہوگیا۔ جب اسی ٹیسٹ کو سورج کی کرنوں کے درمیان کیا گیا تو اسے ختم ہونے میں دو منٹ لگے۔

Tags:

You Might also Like