Type to search

تلنگانہ

امریکی انتخابی نتائج جمہوریت کے وجود کا مثبت پیام

امریکی انتخابی نتائج

ڈاکٹر تبریز حسین تاج

از: ۔ ڈاکٹر تبریز حسین تاج
صحافی و اسکالر، حیدرآباد


میں اپنے مضمون کی شروعات سےقبل مرحوم راحت اندوری کایہ شعرآپکی نذرکرتا ہوں “جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے.کرایے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے.” دنیا کے سب سے طاقتور ملک متحدہ ہائے امریکہ کے انتخابی نتائج پرساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ کیونکہ امریکہ کے سکے کی قدردنیا کے دیگر ملکوں کی معیشت کے اتار چڑھاؤ کو زیر وزبر کردیتی ہے۔

امریکی انتخابی نتائج کا اثر دنیا کی تمام حصص بازاروں میں دکھائی دے گا۔بیشتر ملکوں کی کرنسی کی قدر وقیمت بھی طئے کریگا۔معاشی اُمور پر اگر بات کریں تو یہ نتائج اثر اندوز ہونگے ہی لیکن ہم یہاں اِس کے سماجی و دیگرثقافتی سوچ وفکر سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک ستھیتر(77) برس کے بزرگ بائیڈن (میں یہاں بوڈھے کالفظ نہیں استعمال کرونگا۔

کیونکہ امریکی قوم نے اِس بزرگ کوا پنا قائد چُن لیا ہے۔)نے اپنے ہم عمروہ موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دی ہے۔دنیا کی سپر پاؤر قوم نے اِس نتائج سے سارے عالم کویہ مسیج دیا ہے کہ آدمی سماج میں بوڈھا نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ اُسکے تجربوں کی نوجوان نسل کو ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ہم یہاں اِس سماجی اُمور پر بھی مزیدروشنی نہیں ڈالیں گے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی اُمیدوار جوبائیڈن کی کامیابی کا اصل اور پوشدہ پیام کیا ہے اُس پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔

ہر فرد کی سوچ وفکر مختلف ہوتی ہے۔ یہاں ہم جس زوایے سے سوچ رہے ہیں اُس سے اتفاق بھی ہوسکتا ہے اور اختلاف بھی۔راقم الحروف کا یہ ماننا ہے کہ امریکی انتخابی نتائج جمہوریت کے وجود کا مثبت اور طاقتور پیام ہے کیونکہ جمہوری نظام مملکت میں اقتدار کسی ایک فرد واحد کیلئے مستقل نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ شہری اپنے ووٹ کی طاقت سے طاقتورسے طاقتور حاکم کو بھی شکست دے سکتے ہیں اور بدلاؤ لاسکتے ہیں۔ جیسا کہ اب متحدہ ہائے امریکہ کے حتمی نتائج میں ہوا ہے۔

کیونکہ انتخابات سے قبل تک جو تجزیہ اور اداریہ تحریر کیے گئے تھے اُن میں بیشتر یہی کہہ رہے تھے ایک بار پھر ریبلکن پارٹی کے اُمیدوار اور موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہی اقتدار سبھالیں گے۔لیکن نتائج حیران کن ثابت ہوئے ہیں۔وائیٹ ہاوز کا مکین بدلنے والا ہے۔امریکی قوم کی ترجیحات تبدیل ہونے والی ہیں۔امریکی خارجہ پالیسی میں ٹھوس تبدیلی نہیں آئیگی کیونکہ وہاں یہ روایت رہی ہے کہ اقتدار چاہے کسی بھی پارٹی کا ہو پر اُن کی خارجہ پالیسی برقرار رہیگی۔خیر اب دیکھنا یہ ہے کہ جوبائیڈن کی پالیساں کیسی رہیں گی۔دنیا بھر میں اس انتخابی نتائج سے بدلاؤ کا پیام پہنچا ہے کہ لوگ بلند بانگ وعدے نہیں بلکہ خوشحالی کیلئے چھوٹا ہو پر عمل چاہتے ہیں۔

امریکی نتائج سے ہٹ کر اگر ہندوستان کی ریاست بہارمیں ہوئے اسمبلی انتخابات کے اگزیٹ پولس کو دیکھیں تو اِس میں بھی ہمیں بدلاؤ کے اشارے مل رہے ہیں۔اگزیٹ پولس کی پیشن گوئیاں صدر فیصد حتمی نتائج میں تبدیل تو نہیں ہوتی ہیں لیکن کچھ تو حقائق کے قریب ہوتے ہیں۔بہار اسمبلی کے انتخابات میں دھر م ذات پات مدعہ نہیں بنا ہوا تھابلکہ ترقی اور روزگار کے نعرے کے ساتھ چناؤ لڑا گیا ہے۔تیجسوی یادو نے جو نعرہ دیا ہے،”پڑھائی، کمائی، دوائی اور سیچائی “یہ اثر انداز ہواہے یا نہیں نتائج سامنے آنے کے بعد معلوم ہوگا۔

راقم الحروف نے امریکی نتائج پر شگاگو میں مقیم ہندوستانی نژاد حیدرآدی،مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد قطب الدین بھاگ نگری سے ٹیلی فونک بات چیت کی۔ اُنہوں نے اِس نتائج پر اپنا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج ساری دنیا کیلئے خوش آئند ہیں۔ڈاکٹر محمد قطب الدین نے مزید کہا کہ لوگوں نے بے خوف وخطر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اُمید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے۔جس کی روشنی سے دنیا میں پھیلی بدامنی، خوف کی تاریکی ختم ہوگی۔اُنہوں نے اِس انتخابات کے نتائج کو ایک نئی صبح سے بھی تعبیر کیا۔ ڈاکٹر محمد قطب الدین نے کہا کہ امریکہ میں ایسی تبدیلی طاقتور جمہوری نظام سے ہی ہوئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپنی آواز اُٹھاسکتے ہیں۔تشدد کے بغیر بیلٹ کے ذریعے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر محمد قطب الدین نے ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے یہ بھی واضح کردیا کہ عالمی وباء کویڈ 19کو لیکر حکومت کچھ نہیں کررہی کی جو سوچ ہے وہ بدل جائے گی۔ نفسیاتی خوف کے ماحول سے لوگ خود باہر نکل کرآئیں گے۔ کیونکہ لوگوں کے اندر ایک مثبت سوچ یہ پیدا ہوگی کہ ہم نے اپنے ووٹوں سے ایسے فرد کے ہاتھوں میں اقتدار سونپا ہے جو اس وباء کے خاتمے کیلئے اب ٹھوس اقدامات کریگا۔یہی سوچ وفکر لوگوں میں قوت مدافعیت کو بڑائیگی جو کرونا سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اپنی گفتگو کے دوران ڈاکٹر محمد قطب الدین نے بہت اچھی بات یہ کہی کہ انسان کو اپنے اندر سے منفی سوچ اور بدگمانی کو ختم کرنا چاہئے۔ کیونکہ منفی سوچ وبدگمانی انسان کے حوصلوں کو کمزور کردیتے ہیں۔ اُنہوں مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب ایک گوشہ اپنی جیت کا انتخابات کے شروعات سے ہی پروپگنڈہ کررہا تھا۔ جیتنے والا خیمہ اگر اِسے منفی سوچ او ربدگمانی کے طور پر لیتا تو شائد اُس کے حوصلے کمزور ہوتے اور ایسا مظاہرہ نہیں کرپاتا۔ بلکہ فتح حاصل کرنے والوں نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے دلوں میں جگہ بناتے ہوئے کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

یہ تھے ڈاکٹر محمد قطب الدین صاحب کے اپنے تاثرات، چاہئے جو بھی امریکیوں نے جو فیصلہ دیا ہے وہ دنیا میں ایک نئے باب کو شروع کرنے جارہا ہے۔ ہندوستان میں اِس کا اثر کیا پڑیگا کیا نہیں یہ اور بات ہے لیکن راقم ایک ذمہ دار ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے یہ واضح کردیتا ہے۔۔ہمیں دوسروں کے داخلی معاملات نہیں بلکہ اپنے ملک کا مفاد عزیر ہے۔کیونکہ ہم اپنی خارجی پالیسوں کا بے حد احترام کرتے ہیں۔اور اُمید کرتے ہیں کہ نئے صدر کے ساتھ بھی ہماری خارجی پالیساں خوشگوار رہیں گی۔ہمارے قائدین ملک کے مفاد میں جس طرح کام کررہے ہیں اُسی طرح کام کرتے ہوئے ہندوستان کو ایک طاقتور ملک بنائیں گے۔

اِس کامیابی کا پوشیدہ پیام یہی ہے کہ جمہوریت میں حاکم کتنا بھی طاقتورہواُسکا آمرانہ مزاج برادشت نہیں کیا جاسکتابلکہ اُسکو بھی لوگ اقتدار سے محروم کردیتے ہیں۔مورثی سیاست کے ٹھیکے داروں اور آمرانہ مزاج کے حاکموں کو بھی یہ بات ذہین نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ وقت پر ہر چیز بدل جائیگی۔جمہوریت میں ادارے مستحکم رہتے ہیں۔ حاکم بدل جاتے ہیں۔ جئے ہند


 نوٹ: اس مضمون کو ڈاکٹر تبریز حسین تاج نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like