Type to search

قومی

مشہور اردو شاعر گلزار دہلوی کا انتقال

نئی دہلی 12 جون (ذرائع) مشہور شاعر گلزار دہلوی کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ 93 سالہ گلزار دہلوی حال ہی میں ہاسپٹل سے لوٹے تھے- انکے بیٹے انوپ زتشی کا کہنا ہے کہ ، کورونا انفیکشن کے بعد وہ کافی کمزور ہوگئے تھے-

شاعر آنند موہن زتشی ‘گلزار دہلوی کا آج بروز جمعہ کو انتقال کر گئے- تقریبا پانچ روز کے بعد آج دو پہر کا کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد ہی انہوں نے اس دنیا کو لبیک کہا۔

پدم شری گلزار دہلوی کی پیدائش 7 جولائی 1926کو دہلی کے گلی کشمیریان میں ہوئی تھی – انکا اصلی نام آنند موہن زتشی ہے- انہو ںنے اپنی پوری زندگی اردو کو ہی وقف کردی- انکی شاعری میں ہمیشہ گنگا جنمی تہذیب ملتی ہے- انہوں نے اپنے گھر واقع نوئیڈا میں ہی انہوں نے آخری سانس لی۔ وہ 94 برس کے تھے۔

ڈاکٹروں کے حوالے سے اہل خانہ نے بتایا کہ انفیکشن کی وجہ سے وہ کافی کمزور ہو گئے تھے۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ حرکت قلب بند ہونے ان کی موت واقع ہوئی ہو۔

وہ ‘سائنس کی دنیا’ ‘کے ایڈیٹر بھی تھے ، جو 1975 میں حکومت ہند کے ذریعہ شائع ہونے والا پہلا اردو سائنسی رسالہ تھا۔ انجمن تعمیر اردو کے بانی اور صدر گلزار دہلوی 1930 میں جنگ آزادی کی تحریک میں اس وقت شامل ہوئے تھے جب وہ اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ اس کے بعد انہوں شاعری میں خوب شہرت حاصل کی۔ گلزار دہلوی ابھی پچھلے سال تک مشاعروں میں کلام سناتے نظر آئے تھے۔