Type to search

تعلیم اور ملازمت

‘میڈیا، اپنی سماجی ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتا‘

حقوق اطفال کے دو روزہ ورکشاپ کا اردو یونیورسٹی میں اختتام


حیدرآباد 18نومبر (پریس نوٹ) حقوق اطفال کے حوالے سے یونیسیف پچھلے کئی برسوں سے کام کر رہا ہے۔ اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے طلباءکے لیے اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد طلبائے صحافت کو حقوق اطفال کے متعلق حساس بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ سونیا سرکار کمیونیکیشن آفیسر میڈیا یونیسیف نے کیا۔ 16 نومبر ہفتہ کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں حقوق اطفال کے متعلق طلبائے صحافت کے لیئے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی اجلاس کو مخاطب کر رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ عالمی حقوق اطفال معاہدہ کا فریق ہونے کی حیثیت سے حکومت ہند کو بچوں کے سماجی،معاشرتی اور تعلیمی حقوق فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے میں ایک صحت مند میڈیا حکومتوں کو توجہ دلا سکتی ہے۔ جناب سریندر دھلیٹا، یونیسیف آفیسر نے کہا کہ ہندوستان 1992 ءمیں بین الاقوامی معاہدہ اطفال پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدہ کی رو سے جن(54) حقوق اطفال کی نشاندہی کی گئی ان کے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔ جناب سریندر دھلیٹا نے کہا کہ ایک حساس میڈیا حکومتی اداروں کو حقوق اطفال پر عمل آوری کو یقینی بنانے موثر رول ادا کر سکتا ہے۔

پروفیسر ارول سیلون، اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی نے اجلاس کو مخاطب کیا اور کہا کہ یوروپ اور امریکہ میں میڈیا حقوق اطفال کے تحفظ میں پیش پیش ہے اور ہندوستانی میڈیا، کو ان مثالوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جناب تحسین منور سینئر ایڈیٹر ٹی وی18 اردو نے کہا کہ میڈیا ضرورایک کاروبار کی جگہ ہے، مگر میڈیا اپنی سماجی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا ہے۔ یونائیٹڈ نیوز کے مظفر غزالی نے بھی اپنے پاور پوائنٹ پیشکش کے ذریعہ میڈیا کے موثر استعمال کے متعلق طلبہ کومفید مشورے دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترقیاتی ترسیل کا نظریہ حقوق اطفال کے تحفظ کی بہتر طور پر وکالت کر سکتا ہے۔ شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے ڈین و پروفیسر احتشام احمد خان نے سی آر سی ورکشاپ کے دوسرے دن کے پروگرام میں ابتدائی کلمات ادا کئے جبکہ پروفیسر محمد فریاد نے کاروائی چلائی۔

Tags:

You Might also Like