Type to search

تلنگانہ

ظالم شوہروں سے دو باتیں

ظالم شوہروں سے دو باتیں

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری


شادی کے لیے رشتہ اور انتخاب زوجین میں جہاں خوبصور تی، تعلیم، ملازمت، مال داری، ذات برادری، خاندان کفو، حسن وجمال دیکھا جاتا ہیے ان سب سے بڑھ کر حقیقی دین داری ہیے۔ٹھریے روایتی دین داری، وقتی پردہ، اور اس کا جزوقتی استعمال ۔
اپنے جگر گوشے کو ایک انجان کے حوالے کرتے ہوئے ماں باپ کو بہت سارے خدشات اور تحفظات دامن گیر ہوتے ہیں ۔
شریک حیات کے انتخابات کی آزادی مرد، عورت دونوں کوحاصل ہے۔
شریف گھرانوں میں بیٹی کی خاموشی کو اس کی رضا مندی شمارکی جاتی ہے۔

نیکی کی تم تصویر ہو، عفت کی تم تدبیر ہو

ہو دین کی تم پاسبان، ایماں سلامت تم سے ہے۔

انساں عبارت تم سے ہے

اے جان پدر دیکھ و فا د ار ہی رہنا
آئے جو قیامت بھی تو ہنس کھیل کے سہنا

ایک بیٹی کے باپ، نے اپنی بیٹی رخصت کرتے وقت اپنے داماد کو نصیحت کرتے ہوئے کہا “میں اپنے جگر کے ٹکڑے کو تمہارے حوالے کر رہا ہوں ۔اس کے جذبات اور ضرورتوں کا خیال رکھنا۔اس پر رحم کی نظر رکھنا۔اس کے ساتھ باپ کی سی ہمدردی و رحمت کے ساتھ پیش آنا”۔

گھر اینٹ پتھر، فرنیچر سے نہیں بلکہ خوش مزاج، سلیقہ شعار، پیارومحبت، اعتماد، بھروسہ، رحمت، یگانگت، سے بنتا ہے ۔معمولی شکل وصورت اور سانولی رنگت والی لڑکی کے شوہر ان کے اخلاق وکردارکی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔اور ایسی مثالیں بھی ہیں کہ خوبصورت، پری چہرہ، حسن و جمال والی خواتین کے شوہر ان کی بد اخلاقیوں اور زبان درازی کا رونا روتے ہیں ۔اسی طرح اسمارٹ، خوب رو، مالدار، اونچے عہدے یا خلیج ممالک میں ملازمت کرنے والے پر کشش تنخواہ اور اچھے مہنگے مکان کے مالک لڑکے کا انتخاب ہمیشہ خوشیاں ہی نہیں دیتااور نہ ہی یہ کامیابی کی علامت ہے۔

روپ بھر کر کبھی فرشتوں کا
گھر بسانے کو سانپ آتے ہیں

فرمایا بنی کریم صلعم نے
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے”۔(ترمذی) نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا
“بیوی کے حقوق ادا کرو،
جب تو کھائے اسے کھلائےاور جب تو پہنے اسے پہنائےاور اس کے چہرے پر نہ مارےاور اسے برا بھلا نہ کہےاور اسے جدا نہ کرےمگر گھر کے اندر ہی”۔
(ابوداؤد)
بیوی کا مہر فرض جانتے ہو ئے خوش دلی سے ادا کرو، حسن سلوک اور عدل وانصاف کرو، حق میراث دو۔

بگاڑ اور زوال
آپ اچھے شوہر، مشفق باپ اگر نہ بنے تو گھر خوش ہوں کا گہوارہ نہ بنے گا۔۔ ۔۔۔۔۔۔

بعض حضرات بحثیت شوہر جب گھرمیں داخل ہوتے ہیں تو رعب ودبدبہ اور خوف ڈالنے کے لیے اپنے چہرے مسکراہٹ کھرچ کر غصہ کو حاوی کر لیتے ہیں ۔ہنسی خوشی سے بھرا گھر اچانک سنجیدہ، ڈراونا اور دہشت زدہ بنادیتے ہیں ۔ بچّے بھیگی بلّی بن جاتے ہیں اور خوف سےگھر کا کونا سنبھال لیتے ہیں ۔بیوی ڈری سہمی باورچی خانے میں دُبکی رہتی ہے ۔اُسے ہر پَل دھڑکا لگا، رہتا ہے کہ پتا نہیں شوہر نامدار اب کس چیز میں کیا نقص نکالیں گےاور کس بات سے کیا بات پیدا کرلیں گے۔
یہ باپ اور شوہر کا ناپسندیدہ روپ ہیے۔اس سے گھر کی خوش گوار فضا مکدَر ہوتی اور سب کی نفسیات پر بُرا اثر پڑھتا ہے ۔

بیٹی مریم ہے بیٹی زہرا ہے
بیٹی رحمت ہے بیٹی جنّت ہے
بیٹی کہتے ہیں بے زبانی کو
بیٹی پتھر کی ایک مورت ہے
ایک بیٹی جو گھر کو آتی ہے
اپنی بیٹی بھی گھرسےجاتی ہے

افسوس ہے ان شوہروں پرجو بیوی کے معنی ہی خدمت گزار کے اور پیر کی جوتی اور نوکرانی کے سمجھیں!
۔ شوہر کی طرف سے طلاق کا کھٹکا، دوسرے نکاح کی دھمکی، جسمانی تشدّد، گندی اور ما ں باپ کو عار دلانے والی فحش گا لیاں اور جانوروں جیسی ماراور مسلسل بے عزتی۔۔۔۔
ناقص العقل ،بے وقوف، پھوہڑ، بے سلیقہ، بے ڈھنگی، عیب دار، زبان درازوہ ٹھرتی ہے۔
“اس شوہر سے الله کے رسول نے اپنی سخت ناراضگی ظاہر فرمائی جو اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح مارے اور پھر اس سے اپنی ضرورت پوری کرے”۔

بے شمار بیاہتا گھل گھل کر ختم ہو جاتیں ہیں۔دق وسل (ٹی۔بی)کا شکار ہو جاتیں ہیں۔ دل رنجیدہ ،پس مردہ، جینے کی تمنا سے خالی، چہروں سے مسکراہٹ ،جذبات اور خوشیاں غائب ۔۔۔۔

جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں سسرال کو اپنا گھر سمجھنے اور ساس سسر کی عزّت ،نند، دیور سے حُسن سلوک اور فرائض کی ادائیگی کی نصیحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کریں

” کہ ہم نے انسان کا بچّہ دیکھ کر رشتہ طے کیا ہے اگر جانور نکل ائے تو واپسی کا دروازہ کُھلا ہے۔واپس آجانا کیوں کہ شادی دوبارہ ہو سکتی ہے اور اسلام میں ایسی کوئی قید نہیں اور نہ ہی گھر کا ٹوٹنا گالی ہے۔زندگی ایک بار ملتی ہے اسے خود غرضوں اور نفسیاتی مریضوں کے لیے گنواناجہالت ہے۔بیٹیوں کو صحیح معنوں میں محبت اور تحفظ دیں۔”

بڑامزہ اس کا ہے، صلح ہوجائے جنگ ہوکر ۔جدید تعلیم یافتہ عورت کی دوسری ہی پیچیدگیاں ہیں ۔ رکھ رکھاؤ، بنا ؤسنگار، مردوں کے شانہ بہ شانہ معاشی جدوجہد اور برابری سے کام,آزاد خیالی اور مردانہ وار دوڑ بھاگ۔۔۔۔

انسان کی طبعی ساخت میں نیکی وبدی دونوں قسم کی استعداد پائی جاتی ہے ۔انسان تقویٰ اور عمل صالح جیسی اعلیٰ قدروں کا مجسم بن سکتا ہے یا اس کے برعکس ہوائے نفسانی، شہوات جسمانی ،حسی لذتوں، خواہشات شیطانی کی پیروی کر کے شر وفساد کا نمائندہ بن جاتا ہے ۔
یاد رکھیے!
محبت، نرمی، ہمدردی، مہربانی، درگزر، معافی، صبروتحمل، حکمتیں، مصلحتیں، خاموشی، غصہ پی جانا، حقوق کی ادائیگی انمول رتن ہیں ۔

پردہ جب گرنے کے قریب آجاتاہے
تب جا کر کچھ کھیل سمجھ میں آتاہے

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910


 نوٹ: اس مضمون کو عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like