Type to search

تلنگانہ

تمباکو کی لت ایک سائلنٹ کلر

تمباکو کی لت ایک سائلنٹ کلر

امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن،
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔


تمباکو ایک زرعی پیداوار ہے جو تمباکو کے پودوں کی پتوں سے تیار کیا جاتا ہے، یہ تمباکو سگریٹ اور پان میں استعمال ہونے کے علاوہ کیڑے مارنے والے ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

تمباکو ایک ایسی لعنت ہے جسکے جال میں اس وقت پوری دنیا پھنسی ہوئی ہے، ہر سو اموات میں سے دس کی وجہ تمباکو ہی ہوتی ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو کے استعمال سے دنیا بھر میں ایک سال میں آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

کیونکہ نکوٹین تمباکو کا ایک بنیادی جز ہے اور نکوٹین تمباکو کے پتوں میں موجود ایک زہریلامادہ ہے،جو تمباکوکے دھوئیں کے ذریعہ دل اور شریانوں(نسوں)کو نقصان پہنچاتا ہے، یہ ہیروئن کی طرح بہت نشیلا مادہ ہوتا ہے اگر یہ مادہ زیادہ مقدار میں لیاجائے تو مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

 

اسی لیے اسے Slow Poison سلو پوائزن (ہلکا زہر) بھی کہاجاتا ہے کیوں کہ اس کا زہر دھیرے دھیرے زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق تمباکونوشی کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشرتقریبا تیس منٹ سے ایک گھنٹے تک ہوجاتا ہے، تمباکو کے دھوئیں میں زہر کی دوسری شکل کاربن مونو آکسائیڈ ہے اور کاربن مونو آکسائڈ ایک زہریلی گیس ہوتی ہے جو کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

اس وقت عالمی اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں قبل از وقت موت کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہی ہے کیونکہ تمباکو نوشی جسم کے تمام اعظاء کو متاثر کرتی ہے، تمباکو نوشی پھیپھڑوں، خوراک کی نالی، منہ اور گلا، گردے ، مثانے ،جگر اور معدے کے ساتھ ساتھ خون کے کینسر کی بڑی وجہ بھی ثابت ہوتی ہے، یہی بری عادت بلڈ پریشر، دل کے امراض، فالج، خون کی نالیوں کا پھٹنا اور سانس میں تنگی جیسے امراض کا باعث بن رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت دنیا میں تمباکو نوشی کے افراد کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہے۔

جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جیسے ہندوستان، پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چائنہ کے ساٹھ فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔

تمباکو نوشی کے نقصانات :
تمباکو کے عادی افراد میں ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا ، دل کی خرابی، سی او پی ڈی، دماغی مسائل بھی 2 سے 3 گنا زیادہ عام ہوتے ہیں۔

تمباکو کی وجہ سے، خون کی نالی میں خون کی گردش کم ہوتی ہے، بڑھاپے میں ڈیمنشیا یا یادداشت کی کمی ہوتی ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر مانسوی گوتم بتاتی ہیں کہ تمباکو کی لت سائیلنٹ کلر ہے، کیونکہ یہ آہستہ آہستہ جسم پر حملہ کرتی ہے۔
ڈاکٹر انیتا گوتم کے مطابق تمباکو کے استعمال سے حاملہ خواتین پر بہت سے اثرات ہوتے ہیں، اس کے علاوہ اگر حاملہ عورت اس مرد کے ساتھ رہتی ہے جو تمباکو کھاتا ہے یا وہ نشے کا عادی ہے تو اس کا اثر حاملہ عورت پر بھی پڑتا ہے۔

دل تناؤ کا شکار ہو سکتا ہے:
تمباکو نوشی بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور دل پر دباؤ ڈالتی ہے پھر وقت گزرنے کے ساتھ، دل پر دباؤ پیدا ہوجاتا ہے جس سے یہ یہ دل جسم کے دوسرے حصوں میں خون پمپ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے اسی وجہ سے دل کے دورے سمیت امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تمباکو نوشی خون کو گاڑھا بنا دیتا ہے:
خون جتنا گاڑھا ہوگا، دل کو اسے جسم کے ارد گرد منتقل کرنے کے لیے اتنا ہی سخت کام کرنا پڑے گا اور تمباکو نوشی بھی گاڑھے خون کے جمنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے جو دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کو روک سکتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ، گاڑھا خون آپ کی خون کی نالیوں کی نازک استر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

چربی کے ذخائر:
تمباکو نوشی خون میں گردش کرنے والے کولیسٹرول اور غیر صحت بخش چربی کو بڑھاتا ہے، جس سے غیر صحت بخش چربی کے ذخائر جسم میں پیدا ہوجاتے ہیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ، کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر ملبہ شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو جاتا ہے۔

تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے چھوٹے ایئر ویز میں سوزش پیدا کرتا ہے:
تمباکو نوشی طبعیت میں گھرگھراہٹ کا سبب بن سکتی ہے یا سانس لینے میں تکلیف ہوسکتی ہے، پھر پھیپھڑوں کی جلن اور بلغم کے ساتھ دائمی کھانسی بھی ہو سکتی ہے۔

تمباکو نوشی پھیپھڑوں میں ہوا کے چھوٹے تھیلے کو تباہ کر دیتی ہے جو آکسیجن کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے۔
اس لئے تمباکو نوشی سے خود کو باز رکھیں اور اپنی اور گھر والوں کی زندگی کو پاک رکھیں،

اور یاد رکھیں کہ ایک شخص کی زندگی صرف اسکی تنہا زندگی نہیں ہے بلکہ اس سے نہ جانے کتنوں کی زندگیاں جڑی ہوئی ہیں اگر ایک شخص خود کو تمباکو کی لت لگا کر مر جاتا ہے تو گویا وہ نہ جانے کتنوں کی جان لے جاتا ہے، نہ جانے اپنی موت کے ساتھ کتنوں کی سائلنٹ طریقہ جان لے بیٹھتا ہے۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔