Type to search

تعلیم اور ملازمت

آفس میں سیاست سے بچنے کے لیے اپنائے یہ طریقے

Work place politics

آج کے سخت مقابلے والے دور میں نوکر ی پانا اور اسے بچائے رکھنا بہت ہی اہم ہوگیا ہے۔ اور اسی چکرمیں شروع ہوجاتی ہے آفس پالیٹکس ۔ اگر آپ کے آفس میں بھی کچھ ایسا ہی ماحول ہے یا آپ بھی اسکے شکار ہیں، تو یہاں کچھ ٹپس ہیں جن سے آپ خود کو اسکا شکار بننے سے بچا سکتے ہیں۔

بہت بار ایسا ہوا ہے کہ آپ آفس میں اپنے کام اور اس کام کے لیے مل رہی تنخواہ سے تو مطمئن ہوتے ہیں لیکن وہاں چل رہی سیاست سے اتنا پریشان ہوجاتے ہیں کہ نئی نوکری تلاش کرنے لگتے ہیں۔

گپ شپ کے اس ماحول میں آپ اپنا سو فیصدی نہیں دے پاتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو بتاتے ہیں ان حالات میں خود کو کیسے دور رکھے۔

خود کو کسی گروپ کا حصہ نہ بننے دیں۔

آفس میں اکثر ایک ہی ٹیم میں کئی گروپ بن جاتے ہیں۔ یہ گروپ ایک دوسرے کے خلاف گپ شپ کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ ایک سرد جنگ کا سا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے آپ اس گروپ سے بچیں۔ اپنے فیصلے دماغ سے لیے۔  شخص چاہے کسی بھی گروپ سے ہو، آپ اسکے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا کہ آپ سب کے ساتھ کرتے ہیں۔

کسی کی برائی نہ کریں۔

اگر آپ کسی ساتھ کام کرنے والے سے مطمئن ہے تو اس سے بات کریں۔ پیٹھ پچھے اسکی برائی کرنے سے بات بگڑ ے گی اور ماحول خراب ہوگا۔ گپ شپ کے بجائے اپنے کام پر توجہ دیں۔ جس ساتھی سے آپ کے تعلقات خراب رہتے ہیں اسکے لیے بھی ہمیشہ اچھا برتاؤ رکھے۔

پروفیشنل بنے۔

کام کی جگہ کے اصول کو اپنائے، اس میں کوئی کمی نہ چھوڑے، نظم و ضبط میں رہے۔ اگر آپ خود میں کوئی کمی چھوڑیں گے تو آپ کو اسے بھرنے کے لیے بہانے بازی یا کسی کی خوشامد کرنا پڑے گا۔ ساتھی کام کرنے والوں سے دوستی کرنے میں کوئی برائی نہیں۔ پر اسکے کچھ اصول ضرور رکھیں۔ اسکے ساتھ بات چیت کے دوران حد کو ہمیشہ دھیان میں رکھیں۔ کسی بھی ساتھی سے بات کرتے وقت اپنی پوزیشن کا خیال ضرور رکھیں۔

باس کے ٹچ میں رہے۔

کئی بار بہت سے ملازمین آپ کے پیٹھ پچھے باس سے آپ کی چغلی کرتے ہیں۔ وہ آپکی امیج کو نقصان پہچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اپنا کام پورا رکھیں۔ اپنی ورک رپورٹ باس کو دیں اور اسکے ٹچ  میں رہے۔ اسے کوئی شکایت کا موقع نہ دیں اور اسے اپنے یقین میں رکھے۔

تشخیص کرتے رہیں

وقتا فوقتا خود شناسی کرتے رہے۔ کہی آپ میں کوئی کمی نہیں ہے ، جس کی وجہ سے آپ گپ شپ کا موضوع بن رہے ہیں۔ اگر آپ میں کمی ہے تو اسے سدھاریں ورنا آپ کو ایسا لگے گا کہ آپ آفس کی سیاست کا شکار ہورہے ہیں۔

حالات کو سمجھیں

سب سے ضروری ہیں کہ آپ اپنے آفس کے اندر کے حالات کو سمجھے، ہوسکتا ہے کہ وہاں کا ماحول ہی اس طرح کا ہوچکا ہے کہ آفس پالیٹکس اس ٹیم کا حصہ بن گیا ہو، آپکی ٹیم میں کوئی ایک ایسا ملازم ہو، جو اس پوری آفس پالیٹکس کی جڑ ہو۔ ایسے میں حالت کو سمجھ کر اس سے دوری بنا کررکھیں۔ اگر آپ اس ایک ملازمین کو پہچان نہیں پا رہے ہیں، تو ان مسئلوں پر آفس میں بات ہی نہ کریں، جس سے کہ آپ کو آفس پالیٹکس میں کھینچا جاسکے۔

کسی کی طرفداری نہ کریں

کبھی بھی کسی ایک کی بات سن کر دوسرے کو غلط نہ کہیں، کئی بار کچھ لوگ صحیح ہونے پر بھی خود کو اس لیے ثابت نہیں کرتے، کیونکہ لوگوں کی سوچ انکے لیے معنی نہیں رکھتی۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی ایک کا پہلو سن کر اسے صحیح سوچ لیں، لیکن دوسرے کے پہلو میں بھی اتنا ہی دم ہو، اس لیے کسی بھی شخص کی طرفدار کرنے سے بچے، یہ آپ کو پھنسا سکتاہے۔

نہ بڑھائیں نزدیکیاں

اگر آپ کے آفس میں ماحول زرا سیاسی والا ہے ، تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کسی سے بھی ذیادہ نزدیکیاں نہ بڑھائیں۔ ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، کچھ ایسے ہوتے ہیں، جو اپنے ذہن کی بات کسی سے کہے نہیں پاتے، کچھ چاپلوسی اور گروپ بنانے میں ماہر، کچھ ایسے جو کسی کی کمیوں کا گنے میں ماہر ہوتے ہیں، تو کچھ ایسے جو ہر وقت کسی نہ کسی چیز کی شکایت یا کسی کی برائی ہی کرتے ہیں۔ آپ آفس کے 8 گھنٹوں میں کام کے ساتھ ساتھ کسی کو پوری طرح سمجھانے کا دعوی نہیں کر سکتے۔ ایسے میں آپ کی باتوں کو وہ کسی دوسرے کے سامنے کیسے پیش کردے آپ کہے نہیں سکتے۔

فوری ردعمل سے گریز کریں

ہوسکتا ہے کہ کئی بار پالیٹکس اتنی ذیادہ بڑھ جائے کہ آپ اپنا صبر کھو دیں، اس پالٹیکس کی وجہ سے آپ کے کام کر اثر ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کوئی ایسا فوری ردعمل نہ دیں بیٹھیں، جو آپ کی نوکری کے لیے ہی خطرہ بن جائے۔ تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ فوری ردعمل نہ دیں۔

 

از : محمد عبدالمقتدر

 نوٹ: اس مضمون کو محمد عبدالمقتدر نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔