Type to search

تلنگانہ

اردو اور اردو کا یہ جادوگر فنکار

اردو اور اردو

~عبدالمقیت

  عبید اللّہ فیضی


میں بات کر رہا ہوں اردو کے ایک مشہور شاعر، گیت کار، غزل گو کے بارے میں_ بات شروع کرنے سے پہلے بروقت اردو کی کیا کیفیت ہے اس سے روبرو کرانا چاہتا ہوں_ کیونکہ اردو ادب اور سنیما (بالی ووڈ) کا کافی گہرا تعلق رہا ہے_

اردو کے فروغ و اشاعت کے لیے سنیما بہت ہی خاص امتیاز رکھتا ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس نے انسانیت کو تہذیب و تمدن کے قدروں سے روشناس کرایا ہے اور ہم ہندوستانیوں کے لیے یہ اردو زبان ایسی ہے کہ….

“اسی زباں میں ہماری بچپن نے ماؤں سے لوریاں سنی ہیں

 جوان ہوکر اسی زباں نے کہانیاۓ عشق کی کہی ہیں

 اسی زبان سے وطن کے ہونٹوں نے نعرۓ انقلاب پایا اسی سے انگریز حکمرانوں نے خود طری کا جواب پایا

 ہماری پیاری زبان اردو،

  ہمارے نغموں کی شان اردو

  ہنسی دلکش جوان اردو !”

لیکن المیہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے ہندوستان میں بطور خاص مسلسل اردو زبان کو تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے_  پریم چند اور رگھوپتی سھاۓ کی زبان کو ایک خاص مذہب، مسلک، فرقہ اور ادارے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے_ ایسے میں ہم جیسے چند ناتواں افراد اور چند ناتواں ادارے ہی اردو کی بقاء اور تحفظ کی آواز اٹھانے والے باقی بچے ہیں_

بقول شاعر…

“غریب شہر نے رکھی ہے ابرو ورنہ

 امیر شہر تو اردو زبان بھول گئے”

ایسے میں ہم لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ اردو زبان صرف ایک فرقے، مذہب، مسلک یا ادارے کی زبان نہیں ہے بلکہ اردو زبان تہذیب و تمدن کے مترادف ہے_ ہمیں لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا کرانا ہے کہ اردو زبان ہمارے معاشرے سے جڑی ہوئی ہے، ہماری تہذیب سے جڑی ہوئی ہے اور ہمیں اس وقت تک محنت کرنا ہے جب تک لوگ یہ نہ کہنے لگے کہ…

“مسلماں، سکھ اور ہندو بولتا ہے

 ہمارے شہر کا ہر بچہ بولتا ہے

 ابھی تہذیب زندہ ہے ہماری

 ابھی یہ شہر اردو بولتا ہے”

آئیے ہم آپ کو اردو زبان کے اس مشہور شاعر سے متوجہ کراتے ہیں جس نے اپنے وقت میں اردو شعر و شاعری سے سنیما (بالی ووڈ) میں اپنا لوہا منوایا ہے_ فلم جگت کا ایک ایسا انوکھا نام جس نے مدھوبالا، نرگس اور وحیدہ رحمٰن کے لئے گانے لکھے اور ان کے تئیں ایک الگ پہچان بنایا_ اس کے علاوہ بروقت بالوڈ میں اردو زبان انہیں گیت کاروں کے وجہ سے ہی باقی بچی ہے یا ہم یوں کہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ بالی ووڈ ہی ہے جو ہندوستان میں اردو زبان کی بقاء کو سنجوۓ رکھا ہے_

“آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطے

 ورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کی

ڈس لے گی جان و دل کو ایسےکہ جان و دل

 تا عمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن  سکیں_”

زلفوں کے خواب، ہونٹوں کے خواب، اور بدن کے خواب، میراج فن کے خواب، کمال سخن کے خواب، تہذیب زندگی کے فروغ وطن کے خواب، زنداں کے خواب_

سامعین! یہ خواب بنوانے والا جادوگر اور جس نے سنگین دور میں خواب بنے بھی اور بنوائے بھی_

 وہ تھا ساحر لدھیانوی!

ساحر کے مطلب ہی ہوتے ہیں جادوگر کے_ جنہوں نے اپنی جادوگری سے ادب کی دنیا میں، گیتوں کی دنیا میں ایک منفرد روح پھونک دی_

  جس زمانے میں ساحر صاحب لکھ رہے تھے اس زمانے میں سارے ہی گیت کار سارے ہی لیرکس، نغمہ نگار بہت ہی اچھا لکھ رہے تھے۔ بیک وقت بالی ووڈ سنیما میں ایسے زبردست گانے لکھے جاتے تھے جو آج بھی سب کے زبانوں پر ہیں، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ کوئی گیت کار ایسا لکھ رہا ہے کوئی ویسا_ لیکن ایسے زمانے میں ساحر صاحب کا بول بالا تھا_

“تو ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھّے

کہتے ہیں کہ غالب کا تھا انداز بیاں اور”

اس شعر میں جو اور ہے وہ ساحر صاحب میں پوری طرح سے پایا جاتا تھا، ساحر صاحب کا یہ جو اور ہے جس کو ہمارے ہاں انگریزی میں ایک ورلڈ ہے charisma وہ charisma شاعر میں ہوتا ہے، اداکار میں ہوتا ہے، پینٹر میں ہوتا ہے، ادیب میں ہوتا ہے، سنگر میں ہوتا ہے_ وہ جو اور ہے وہ پہلے سے نہیں معلوم ہوتا ہے وہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں ہاں یہ وہی اور ہے_ ساحر لدھیانوی میں ایک clearity of thought تھی_

 کیونکہ شاعر ذہنی طور سے نوجوان ہوتا ہے ساحر صاحب کی ساری نظمیں نوجوانوں کی نظمیں ہیں_ ان کی عمر کتنی بھی ہو گئی ہو ان کی شاعری پڑھ کر آپ کو ایسا نہیں لگے گا کہ کسی 45 سال کے آدمی نے لکھی ہے_ آپ کو یہی لگتا ہے کہ یہ شاعر اپنے بیس سال کے عمر میں ہی ہے_  وہ نوجوانوں سے ڈائریکٹ جڑتے تھے، ان کے خیالات صاف ہوتے تھے_ ساری نظمیں بنا کسی lyrics کے بہت کمال کی ہوتی تھیں_ اگر آپ کہیں کسی کو پڑھ کر سنا دیں گے تو وہ واہ واہ کہنے پر مجبور ہوجاۓ گا_ ان کے لفظوں میں اتنی طاقت ہوا کرتی تھی کہ لفظوں سے دل جیت لیتے تھے تھے_

“ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا”

ایسے نظموں کے علاوہ ان کو فلمی میڈیم پر بہت زیادہ عبور حاصل تھا وہ تھی نہ کہ…

 “جانے کیا تو نے کہی، جانے کیا میں نے سنی”

تو عبور اس لئے تھا کیونکہsong writer ایک ایکٹر ہوتا ہے وہ اپنا خیال نہیں لکھ رہا ہوتا ہے وہ ایک کیریکٹر کا خیال لکھ رہا ہوتا ہےاس کے علاوہ song writer کو طرح طرح کے task دیۓ جاتے ہیں کہ آپ اس پر گیت لکھیں جیسے گاؤں میں کسان کھیتوں میں گانا گا رہا ہے, کوئی انسان مندر میں بھجن گا رہا ہے اور اوپر والے سے مہربانی مانگ رہا ہوتا ہے، ایک نوجوان لڑکا لڑکی عشق میں ہے، ایک عاشق دکھ میں ہے اس طرح سے عجیب عجیب سی situation آتے ہیں_

تو آپ کامیاب کے song writer تب ہیں جب charector کے جذبات کو صحیح سے لکھ دیں_

ساحر لدھیانوی صاحب کے کلام میں اور گیتوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ انھوں نے نیچر کا بہت ذکر کیا ہے جیسے…

 “پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

 شرمئ اجالا ہے چمکئ اندھیرا ہے”

اس طرح کی اور بھی بہت سارے، لیکن آج کل مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح کے گیت لکھے جاتے ہیں، جس میں نیچر کا بہت زیادہ کوئی ذکر کیا گیا ہو؟

یہ سچ ہے کہ ساحر صاحب کا نیچر سے بہت گہرا رشتہ تھا_  جب انہیں لگتا تھا کہ گانے میں کوئی نیا پن نہیں ہے جیسے کہ ان کے کئی گانوں میں ہے…

“تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو

 میری بات اور ہے میں نے تو محبت کی ہے”

دیکھئے اب اس شعرمیں ایک نیا پن ہے ایک نئی بات ہے….

“تم اگر مجھ کو نہ چاہو تو کوئی بات نہیں

 تم کسی اور کو چاہو گی تو مشکل ہو گا”

اب یہ ایک brand new بات تھی، وہاں ان گانوں میں آپ کو نیچر کا ذکر نہیں ملے گا_ جب ساحر صاحب کو لگتا تھا گانے میں نیا پن نہیں ہے تو وہ گیت کو وستار دے دیتے تھے_ اس میں نیچر کا ذکر کرتے تھے_ ساحر صاحب کا ماننا تھاکہ نیچر کے بغیر عشق جو ہے وہ بہت ہی معمولی کام ہے_

تم نے کہا، میں نے کہا، میں نے کہا، تم نے کہا_

 بس اتنا ہو گیا_ تم، میں! میں، تم!

 مگر ساحر صاحب اس میں نیچر ڈال کر universe بناتے تھے_

اب ساحر صاحب کے اس شعر کو دیکھیے…

 “پیڑوں کی شاخوں پر سوئی سوئی چاندنی

 تیرے خیالوں میں کھوئی کھوئی چاندنی

اور تھوڑی دیر میں تھک کے لوٹ جائے گی

رات یہ بہار کی پھر کبھی نہ آئے گی”

تو اب یہ دو انسانوں سے بہت بڑی بات ہو جاتی ہے ساحر صاحب انسان اور جسم کے علاوہ نیچر اور purity کا ذکر کرتے تھے_ جس سے ان کے گیت کہیں سے کہیں پہنچ جاتے تھے__

 امید ہے اس چھوٹے سے گفتگو سے آپ لوگ بھی اردو ادب کے اس فنکار سے روبرو ہو پائے ہونگے اور خود کو اردو کی اس شیریں زبان سے لطف اندوز کیۓ ہونگے_

(نوٹ:- اوپر لکھے گئے سارے اظہارِ رائے ذاتی ہیں جسے ساحر لدھیانوی صاحب کو کچھ کتابوں میں پڑھ کر اور کچھ سن کر خود کی رائے پیش کی ہے)


 نوٹ: اس مضمون کو عبدالمقیت نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے

1 Comment

  1. Imam Ali Falahi December 24, 2020

    Masha Allah

    Reply

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *