Type to search

تلنگانہ

شریعت کے دائرے میں رہ کر جشن سال نو منانے میں کوئی مضائقہ نہیں

شریعت کے دائرے میں سال نو

از :۔ ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com., Ph.D (Osm)


ہر سال کے آخری دن یعنی 31 ڈسمبر کو ایسے لگتا ہے کہ مسلمانوں کا جذبہ ایمانی جاگ اٹھتا ہے کیونکہ سوشیل میڈیا ہر کوئی اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کی بات کرنے لگتا ہے، اغیار کے طور طریق اختیار کرنے سے اجتناب کی بات ہونے لگتی ہے اور مسلم معاشرے میں جیسے ایک نیا انقلاب آگیا ہو لیکن اس خوش فہمی کا ازالہ اس وقت ہوجاتا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جنہیں قرآن مجید دیکھ کر بھی پڑھنے نہیں آتا،

وہ مبادیات اسلام اور حقوق و امور معاشرت سے بھی ناواقف ہوتے ہیں، ان کا کردار اخلاقیات سے خالی ہوتا ہے، وہ یا تو نماز ہی نہیں پڑتے یا پڑتے ہیں تو ان کے کردار میں عاجزی و انکساری نہیں پائی جاتی جو نماز کی روح ہے، وہ یا روزہ ہی نہیں رکھتے یا رکھتے بھی ہیں تو انہیں نفسانی خواہشات کو قابو پانے کا ہنر نہیں آتا جو روزہ کا اصل مقصد ہے، وہ یا زکوٰۃ ہی نہیں دیتے یا دیتے بھی ہیں تو ناجائز طریقے سے کمائے ہوئے مال سے دیتے ہیں اور ان کے اندر ہمدردی و مواسات کا جذبہ ہی نہیں ہوتا جبکہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے خیر خواہی کی تربیت ملتی ہے، یا مالی استطاعت رکھنے کے باوجود حج کرنے کو موخر کرتے ہیں یا حج کرنے کے باوجود وہ اونچ نیچ کے غیر اسلامی سونچ کا شکار رہتے ہیں جبکہ ادائیگی حج کے ذریعہ انسان کو مساوات کی تعلیم دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جشن سال نو منانے سے منع کرنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو شادی بیاہ میں اسراف کی حدوں کو پار کرتے ہیں،

سیرت سنوارنے کے بجائے صورت کو خوبصورت بنانے پر بے دریغ پیسہ کرتے ہیں، شادی و ولیمہ میں آرکسٹرا اور خواتین کے رقض کا اہتمام کرتے ہیں، جہیز کا مطالبہ کرتے ہوئے لڑکی والوں کا مالی استحصال کرتے ہیں، عدالتوںمیں قسم کھاکر جھوٹی گواہیاں دیتے تاکہ دوسروں کے مال و جائداد پر قبضہ کیا جاسکے، ان کے اپنے گھروں کا ماحول غیر اسلامی ہوتا ہے ایسے افراد کو چاہیے کہ دوسروں کو اسلامی تعلیمات کا درس دینے سے پہلے بہتر ہے کہ وہ اپنے اور افراد خانہ کے کردار اور اعمال کا جائزہ لیں چونکہ انسانی زندگی میں پیش آنے والے اکثر ناگوار خاطر امور کا تعلق انہی سے ہوتا ہے بسا اوقات گھر کے معمولی جھگڑے و تنازعات اور باہمی رنجشیں بڑے مصائب و آلام کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں جس سے تمام افراد خانہ کا ذہنی و روحانی سکون و اطمینان برباد ہوسکتا ہے لہٰذا ہمیں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی زیادہ فکر کرنی چاہیے تاکہ ان کے ذہنوں کی ساخت اور سانچہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تشکیل پاجائے اور اگر ان کا کردار اسلامی تعلیمات کا عکس جمیل بن جائے پھر دنیا کی کوئی طاقت صالح معاشرے کی تشکیل کو روک نہیں پائے گی۔ غزہ میں صیہونی اور فسطائی طاقتوں نے کئی ماہ سے مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہیں اور ہماری غلط روش اور بداعمالیوں میں رقم برار تبدیلی نہیں آئی اس کے باوجود ہم لوگوں کو نصیحت کرتے پھر رہے ہیں کہ سال نو کا جشن منانا غیر اسلامی ہے۔ خود کو فراموش کرکے دوسروں کو نصیحت کرنا یہود کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں۔

جس شدت کے ساتھ ہم جشن سال نو کے نام پر جو فحش و عریانیت اور رقص و سرور کی سجائی جانے والی محافل کی مخالفت کررہے ہیں اگر ہم اسی طرح مسلم معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں تو ہماری زبان میں تاثیر بھی پیدا ہوگی اور لوگ نیکی کی راغب اور برائی سے بچنے کی کوشش کریں گے ورنہ ہمارے کسی قول و فعل کا کوئی اعتبار نہ ہوگا۔ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو یہی حکم دیا ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کریں اور آتش جہنم سے بچانے کی کوشش کریں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوںگے، جس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکے گا، جس کے نگرانکار فرشتے سخت مزاج اور نہایت مضبوط ہوں گے۔

لیکن آج ہم اپنی اولاد اور اہل خانہ کی عملی تربیت کرکے انہیں جہنم سے بچانے کی بنیادی ذمہ داری (جو ہم پر فرض ہے) کو فراموش کرکے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے اور انہیں نیکی کی تلقین کرنے میں پیش پیش نظر آرہے ہیں جو صرف قرآنی مزاج و ارشاد کے مغائر ہے۔ اپنی بدخواہی اور دیگر کی خیر خواہی کو عقل بھی تسلیم نہیں کرتی۔ حضور عالم بے عمل کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا عالم بے عمل کی مثال شمع کی سی ہے کہ دوسروں کو روشنی پہنچاتی ہے اور اپنے کو جلاتی ہے۔

آج ہمارا حال یہی ہوچکا ہے بجائے اس کے ہم مسلم معاشرے میں پنپنے والی برائیوں کا تدارک و خاتمہ کے لیے جد و جہد کرتے ہماری تمام تر توانائیاں جشن سال نو منانا جائز ہے یا نہیں اسی میں صرف ہورہی ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے میں اس مسئلہ کے علاوہ کوئی مسائل ہی نہیں ہے۔ نبی پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ بروز محشر انسان کے قدم (حساب کی جگہ سے) نہ ہٹ سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ ہوجائے گا (i) عمر کن مشغولیتوں میں فنا کردی، (ii) جوانی کہاں ضائع کردی، (iii) مال کہاں سے کمایا، (iv) مال کہاں خرچ کیا، (5) علم پر کتنا عمل کیا۔

اس حدیث کی روشنی میں مومن کی اولین اور بنیادی ذمہداری ہے کہ وہ اپنے محاسبہ کریں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ کیا ہم نے ان استفسارات کے جوابات تیار کرلیے ہیں۔جہاں تک جشن سال نو منانے کا سوال ہے تو علمائے کرام فرماتے ہیں ہے کہ اگر کوئی شرعی حدود میں رہ کر جشن منا رہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے چونکہ ہر سانس ہر گھڑی اللہ رب العزت کی عطا کردہ نعمت ہے جس پر خوشی کا اظہار کرنا قرآن مجید کے بالواسطہ اشارے کے مطابق مسنون اور بہتر ہے۔

ہر نئی چیز سے لطف اندوز ہونا انسان کی فطرت میں ہے بلکہ یہ کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اگر انسان کے سامنے پرانی اشیاء کو بھی جدت اور نئے انداز سے پیش کیا جائے تو وہ اس کی طرف بھی بہت جلد مائل ہوجاتا ہے مثلاً گھر میں رکھی ہوئی اشیاء کی پرانی ترتیب کو بدل کر نئے سرے سے تشکیل دیا جائے تو انسان کو خوشی محسوس ہوتی ہے جس سے انسان کی قوتیں ، حوصلے اور مزاج تازہ ہوتا ہے اسی طرح سال نو کا معاملہ ہے بعض لوگ نئے سال کو پاکر خوش ہوتے ہیں اور شریعت اسلامی انسان کے تمام فطری تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے اسی لیے اگر کوئی اس دن شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتا ہے اس کا یہ عمل جائز ہے۔

البتہ سال نو ہی نہیں بلکہ کسی بھی خوشی کے موقع پر مقاصد شریعت سے تجاوز کرکے اور حدود شرع کو پامال کرکے خوشی کا اظہار کرنا جیسے خوشی کے موقع پر خرافات و رسومات کا شکار ہونا، شراب نوشی کرنا، رقص و سرور کرنا، آتش بازی کرنا، ہوائی فائرنگ کرنا، عیاشی و فضول خرچی کرنا، عوامی شاہراہوں پر ہلڑ بازی کرنا، بداخلاقیوں کا مظاہرہ کرنا، انسانی اقدار کو پائوں تلے روند ڈالنا ، لوگوں کی عزت و ناموس سے کھیلنا، گالی گلوج کرنا ، انسانیت کو شرم سار کرنا، وغیرہ غیر اسلامی طریقہ ہے جس سے نہ صرف بچنا مسلمانوں پر لازم ہے بلکہ جو لوگ ان گناہوں کا ارتکاب کررہے ہیں بحیثیت داعی اسلام ان کو حکمت اور بہترین طریقہ سے سمجھانا اور ان کو ان برائیوں سے باز رکھنے کی کوشش کرنا بھی ہماری مذہبی ذمہ داری ہے۔

ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر کوئی انسان اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف عبادات بھی بجالاتا تو وہ ناقابل قبول ہے جبکہ حدود شرع میں رہ کر کوئی چھوٹا سا بھی کام کرتا ہے تو اللہ تعالی کو وہ بہت زیادہ محبوب ہے۔ جہاں تک سال کے گزرجانے اور اس پر اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا تعلق ہے تو ایسا تو ہمیں ہر لمحہ ، ہر لحظہ کرنا چاہیے چونکہ جب یہ گزرتا ہے تو ہماری حیات مستعار کا ایک لمحہ ختم ہوجاتا اور ہم اپنی قبر سے مزید قریب ہوجاتے ہیں اور کوئی انسان نہیں جانتا کہ اس کی زندگی کی شام کب ہوجائے لہٰذا ہمیں اپنے اعمال اور آخرت اور اپنے وقت اورزندگی کو منظم و منضبط بنانے کی ہر لمحہ فکر و کوشش کرنی چاہیے۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی اس ماہ ِمبارک میں تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت، مغفرت سے سرفراز فرمائے اور دوزخ سے نجات عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔


نوٹ: اس مضمون کو ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:
Ayub Khan

Ayub Khan, MA (MCJ) MANUU, Managing Editor of Urdu Post, CEO of MAKS Media.

  • 1

You Might also Like