Type to search

قومی

مضبوط خاندان میں بچوں کا رول

مضبوط خاندان

شبانہ پروین ساجد
شرالکپہّ( شموگہ)


اسلام دین فطرت ہے ،اللہ سبحان تعالی نے اس پوری کائنات کو فطری طور پر پیدا فرمایا ہے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا کو آباد کرنے کا فیصلہ فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی اور قرآن کہتا ہے کہ ؛ہم نے حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت حوا علیہ السلام کو پیدا فرمایا ۔یہ پہلا رشتہ زوج ہے جو دنیا کے اندر وجود میں آیا ۔

اسی طرح اللہ تعالی نے دنیا کی ہر چیز کو جوڑوں کی شکل میں پیدا فرمایا ہے ۔کائنات کی ہر چیز میں جوڑے ہیں ،مذٙکرّ مونث ۔آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام وہ پہلا زوج پہلا جوڑا ہیں جن کی تخلیق اللہ تعالی نے کی اور ان کی تخلیق کی حکمت بھی رب کائنات نے واضح فرمایا کہ نسلِ انسانی کو دنیا میں پھیلا ئے ۔دیکھیے اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آنے والے قیامت تک انسانوں کو فطری طور پر زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔

فطری طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جنسی خواہشات رکھے ہیں ۔جس کی تکمیل شادی کے ذریعہ سے کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔فطری طور پر انسان ہوئے یہ چاہتا ہے کہ اس کے بال بچےّ ہو ۔جدید سائنس نے انسان کو سماجی جانور (خاندانی جانور )کہا گیا ہے ۔اس فطرت کا حسین امتزاج ،اس خواہش کی تکمیل شادی کی شکل میں ہوتی ہے ۔جسے ہر انبیاء کرام علیہ السلام نے اپنایا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ؛ شادی ہر نبی کی سنت رہی ہے۔قرآن میں انبیاء کرام علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ؛ہم نے ان کو بیوی بچوں والا بنایا ۔

ہر شادی شدہ جوڑے کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ہو ۔دنیا میں اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔دکھ درد کا سہارا،انسان کی شناخت کا ذریعہ ہے۔اولاد کے ذریعے انسان قوت و سر بلندی حاصل کرتا ہے۔ اولاد کے ذریعے دنیا میں کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ یہ مہمیز اور محرک ہے۔ اولاد ہی انسان کے لیے دین و دنیا کے جانشین ہیں۔

اولاد اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے۔کسی خاندان کی امیدوں کا مرکز و محور ،بزرگوں کی آنکھوں کا نور ماں باپ کی تمناؤں کا پھول ہوتی ہے ۔خاندان کے نظام کو باقی رکھنے اور ازدواجی زندگی کے بندھن میں مضبوطی لانے کا بہترین ذریعہ اولاد ہوتی ہے۔

اولاد ہی کے ذریعے مختلف خاندان ایک دوسرے سے رشتوں کے ذریعے وابستہ ہوتے ہیں ۔اولاد کے بے شمار فوائد کا ذکر قرآن و حدیث میں بفضل الہی ہوا ہے۔

ایک آیت ہے :وٙئمٙدِدْکُمْ باِٙمٙوٙالِ وّٙ بٙنِیْنٙ( نوح١٢) “تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا “اور ایک جگہ ہے :اٙلْمٙالُ وٙالْبٙنُونٙ زِیْنٙۃُ الُحٙیٰاۃِ الُدّنْیاٙ۔ “مال اور اولاد دنیا کی زینت ہے “

ایک حدیث میں بیٹے کو ثمرۃ القلب(دل کا پھل) کہاں گیا ہے ۔دوسری طرف بیٹی کو خیر و برکت بتایا گیا ہے ۔اسلام میں نیک اور صالح اولاد کی تمنا کرنے دعا کرنے اور ان کی اچھی تربیت کرنے کو پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے ۔انبیاء کرام علیہ السلام اولاد کے لیے دعائیں مانگتے تھے ۔”میرے رب تو اپنے پاس سے مجھے پاکباز اولاد عطا فرما بے شک تو دعا کا سننےوالا ہے “

اولاد کے دنیاوی فائدے کے ساتھ ساتھ اخروی فائدے بے شمار ہیں۔نیک اور صالح اولاد انسان کے مر جانے کے بعد اس کے حق میں دعائے خیر کرتی ہے ۔اس کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتی ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اس کی اولاد کی دعا قبول فرماتا ہے ۔

ایک حدیث میں ہے ،”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے تمام افعال منقطع ہو جاتے ہیں ،مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں ۔صدقہ جاریہ ،اور علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کریں ۔ایک اور حدیث میں ہے کے کسی وقت بندے کے درجات بلند کئے جائیں گے تو وہ کہے گا کہ اے میرے رب اب میرا یہ درجہ کیسے بلند ہوگیا تو اس سے کہا جائے گا تیرے بیٹے نے تیرے لئے مغفرت کی دعا کی اس کی وجہ سے یہ درجہ بلند ہوا ۔(ابن ماجہ )

اولاد کو خداکا انعام سمجھنے ان کی پیدائش پر خوش ہونے خیروبرکت کی دعاؤں کے ساتھ ان کا استقبال کرنے کی اسلام تعلیم دیتا ہے ۔اولاد کی پیدائش پر دل تنگ کرنے معاشی تنگی صحت کی خرابی یا کسی طرح کی مصیبت سمجھنے اور اولاد کو ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔اگر کوئی اولاد کو ظائع کرے تو بدترین ،سنگدل ،بھیانک ظلم، انتہائی بزدلی اور دونوں جہاں کی تباہی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

خدا کا ارشاد ہے ؛وہ لوگ انتہائی گھاٹے میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو نہ سمجھی میں اپنی حماقت سے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔اور خدا نے انسانی کوتاہ نظری کا دلنشین جواب دیتے ہوئے صاف صاف ممانیت فرمائی ہےکہ اولاد کو قتل نہ کریں،اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گناہ کبیرہ میں شمار فرمایا ہے۔ (انعام ١۴٠) اور اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو ،ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور ہم ہی تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اولاد کا قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔اولاد پر مال خرچ کرنا بھی باعثِ اجر ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے “سب سے اچھی دینار وہ ہے جو آدمی اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہے ۔(مسلم )

آج کے پرفتن دور میں جہاں برائیاں ہر طرف عام ہیں ،بے حیائی کو فیشن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ،برہنگی ،ناچ گانے ،فلمیں، ہم جنس پرستی ،زنا ، سود خوری ،شراب اور جوئے کے اڈےّ، نشہ آوار منثیات کا استعمال عام ہے۔اور نوجوان بگاڑ کا شکار ہیں ،اسلامی اقدار و آداب کو پوری طرح سے مٹایا جا رہا ہے ان حالات میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے ۔آج کے بچے کل کے مستقبل ہوتے ہیں ۔خاندان کا عروج و زوال انہی پر منحصر ہوتا ہے ۔

ان کو حلال و حرام کی تمیز ،جائز ناجائز طریقوں کی پہچان کرانا اللہ کے حدوں( حدود اللہ )کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے ۔اللہ کا تقوی ھی واحد ذریعہ ہے آج کے ٹیکنالوجی کے اس دور میں برائیوں سے بچنے کا ۔اللہ تعالی کاارشاد ہے ؛اے لوگو جو ایمان لائے ہو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے ۔(ا تحریم۔ ٦)

اس دنیا کی برائیوں کی آگ سے بچانے اور آخرت میں جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے والدین کو اپنی اولادوں کی دینی نہج کی تعلیم و تربیت کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے بہترین عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے۔

“ہم اولاد کے لیے کار ،بنگلا ،جائیداد وغیرہ دینے کا ذکر کرتے ہیں ۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی تعلیمات فرماتی ہیں کہ اچھی تعلیم و تربیت ہی ہمارے بعد ہماری اولاد کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضامن ہیں۔ اور کل بروز قیامت اللہ تعالی ہر نعمت کے تعلق سے بازپرس کرے گا ۔حدیث میں ہے “تم سب راعی (ذمہ دار ہو )اور تم سب سے اپنی زیر نگرانی لوگوں کے بارے میں سوال ہوگا ۔آدمی گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا ۔

مضبوط خاندان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بیٹے اور بیٹی میں مساوات قائم کرے ۔سب سے یکساں ہے محبت اور شفقت کا برتاؤ رکھیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ “جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے حتیّٰ کہ وہ جوان ہو جائیں تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو باہم ملایا )اور قرآن میں مومنین کو ایک دعا اللہ تعالی نے یہ سکھائی ہے کہ “رٙبّٙناٙ ھٙبُ لٙنٙا مِنُ اٙزُوٙاجِناٙ وٙذُرِّیّٰتِنٙا قُرّٙۃٙ اٙعُیُنِ وّٙاجُعٙلُنٙا لٙلُمُتّٙقِینٙ اِمٙامٙا۔اے ہمارے رب !ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا ۔”

مضبوط خاندان میں اولاد کی تربیت بے حد ضروری ہے دینی تربیت یافتہ اولاد ہی بہترین سماج کی تعمیر کر سکتی ہے ۔اللہ تعالی اولاد کے ذریعہ ھمیں مضبوط خاندان اور بہترین و مضبوط سماج کی تعبیر و تشکیل کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔آمین


 نوٹ: اس مضمون کو شبانہ پروین ساجد نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *