Type to search

صحت

لمبے وقت تک بھوکا رہنا ذہنی نشوونما کے لیے بن سکتا ہے خطرہ

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) بھوک براہ راست طور پر پریشانی کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ اور طویل مدتی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ پہلی بار سائنسدانوں نے اس بات کا خلاصہ کیا ہے۔ انکے مطابق، بھوک کی حالت میں لگاتار ہونے سے بچوں کا ذہنی نشوونما مسدود ہوجاتا ہے۔

اس نتیجے پر پہچنے کے لیے محققین نے دنیا بھر کے ذہنی نشوونما کے اعداد وشمار کا مکمل تجزیہ کیا ہے۔ اسی کی بنیاد پر بھوک کے ساتھ ذہنی نشوونما کے اس رشتے کی تصدیق ہوئی ہے۔

متناسب غذا نہ ملنے سے کمزور پر جاتا ہے دماغ

تحقیق میں سائنسدانوں نے یہ پایا کہ ذہنی نشوونما ہونے کی خاص وجہ بھوک کے دوران دماغ تک متناسب غذا کا نہیں پہنچنا ہے۔ اسی وجہ سے دماغ اپنی غذائیت کی کمی میں کمزور پڑتا جاتا ہے۔

دراصل انسان صحت کسی بھی مخلوق کے دماغ میں توانائی ایک بہتر شکل میں خرچ ہوتی ہے۔ انسانی دماغ میں اس بہتر توانائی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ ہر شخص کو یہ توانائی اسکے کھانے کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

بھوک حمل تک اپنا اثر ڈالتی ہے۔

محققین نے اسکے لیے اپنے سروے میں جنم سے پہلے کے حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ پیدائش سے پہلے ذہنی نشوونما کے خرابی میں مبتلا زیادہ تر بچوں میں زیادہ تر بچوں میں بھوک کی کمی حمل میں ہونے کے دوران ہی پائی گئی۔ اس حقائق کے حاصل ہونے کے بعد مزید تحقیق کیا گیا تھا۔

Tags: