Type to search

تعلیم اور ملازمت

تلنگانہ ریاستی اُردواکیڈیمی کی جانب سے صحافیوں کے لئے منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد

صحافیوں کا ورکشاپ

حیدرآباد۔17 / جولائی 2021ء (پریس نوٹ) اُردو صحافیوں کی فنی و ٹیکنیکی صلاحیتوں میں مزید اضافے کی کوشش کی خاطر تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی کی جانب سے گذشتہ پانچ روز سے ”اردو صحافت: رجحانات و امکانات“ کے عنوان کے تحت 13 / جولائی 2021 تا 17 جولائی 2021 ء جاری ورکشاپ کا آج کامیاب اختتام عمل میں آیا۔

اس ورکشاپ سے ہندوستان بھر سے تقریباً 700اردو صحافیوں اور محبان اردو نے استفادہ کیا۔ اس ورکشاپ کا اختتامی اجلاس صدرنشین ڈاکٹر محمد رحیم الدین انصاری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی نے اختتامی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے اس ورکشاپ کے منتظمین خاص کر ڈائرکٹر/سکریٹری ڈاکٹر محمد غوث‘ورکشاپ کوآرڈنیٹر ایس ایم فصیح اللہ و دیگر ٹیکنیکل اسٹاف و اردواکیڈیمی کے اسٹاف ممبران کو مبارک باد دی اور کہا کہ ارد وصحافت کا روشن ماضی رہا ہے اور آج بھی اردو صحافت اسی کڑی کو آگے بڑھارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے صحافیوں کی تربیت اور ان کی مخفی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے ہی اس ورکشاپ کو منعقد کیا ہے۔نئی دہلی سے ممتاز صحافی و کمنٹیٹر جناب مہتاب عالم نے اس ورکشاپ کے اختتامی اجلاس میں کلیدی خطبہ دیا۔

انہوں نے پرنٹ میڈیا او رڈیجیٹل میڈیا اور سوشیل میڈیا کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم فیس بک استعمال کرتے ہیں اوراس میں طویل مضمون ڈال دیتے ہیں جس سے لوگوں کی دلچسپی نہیں رہتی‘ا س کے بجائے اگر مختصر بلّٹ پوائنٹ استعمال کریں تو لو گ اس کو دیکھیں گے بھی اور یاد بھی رکھیں گے۔

انہوں نے خبروں کے لئے پوڈکاسٹ کے استعمال کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ خبریں اور واقعات ایسے ہونے چاہیے کہ عام لوگ ان سے فائدہ اٹھاسکیں۔ حیدرآباد کے معروف صحافی جناب مرزا غنی بیگ نے ڈیجیٹل صحافت کے نئے رجحانات پر گفتگو کی اور پی پی ٹی پیش کیا۔

اختتامی اجلاس کے مہمان خصوصی جناب شاہنواز قاسم ڈائرکٹر اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے اپنے خطاب میں صحافیوں کے لئے پانچ روزہ ورکشاپ کے انعقاد کے لئے تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی کے ڈائرکٹر /سکریٹری اسٹاف اور ٹیکنیکل اسٹاف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا صحافت ذہن کو وسیع کرتی ہے‘ اردو صحافیوں کو سماج کا حقیقی نمائندہ بن کر خبر نگاری کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں اردو صحافت کسی سے بھی پیچھے نہیں ہے۔اردوزبان جہاں ادب و ثقافت کی زبان ہے وہیں عصری تقاضوں کو اس زبان کے ذریعہ پورا کیا جارہا ہے۔ جناب شاہنواز قاسم نے کہا کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے ریاست اور ملک بھر کے اردو صحافیوں کو ایک عمدہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے خیالات سے واقف ہوں اور خبرنگاری کے فن کو بہتر سے بہتر طور پر پیش کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ویب پورٹل کے ذریعہ آج صحافت اور پڑھنے والوں کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ویب پورٹل پر دنیا بھر سے پڑھنے والے ہوگئے ہیں۔انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ خبر نگاری کے دوران سنسنی خیزی سے پرہیز کریں تاکہ اس کے ذریعہ معاشرہ میں غلط پیغام نہ جائے۔

ڈاکٹر محمد غوث ڈائرکٹر /سکریٹری تلنگانہ ریاستی اردواکیڈیمی نے صحافیوں کے اس پانچ روزہ آن لائن ورکشاپ کے لئے اجازت دینے پر صدرنشین اردواکیڈیمی جناب ڈاکٹر محمد رحیم الدین انصاری کا شکریہ ادا کیا اور ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر کوآرڈنیٹر جناب ایس ایم فصیح اللہ کی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے خوب صورت انداز میں اس پانچ روزہ ورکشاپ کو چلایا جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ڈائرکٹر /سکریٹری اردواکیڈیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردواکیڈیمی کے اس ورکشاپ سے سیکڑوں صحافیوں نے استفادہ کیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈیمی آئندہ بھی دیگر علمی اور صحافتی شعبوں میں اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کرے گی۔

اس اختتامی اجلاس کی کارروائی نوجوان صحافی جناب سید خالد شہباز نے چلائی اور صحافی محمد رحمن پاشا نے تمام ریسورس پرسنز‘ سامعین و اردو اکیڈیمی کے عہدیداران و اراکین عملہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرپروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی ڈائرکٹرسی پی ڈی یو ایم ٹی مانو حیدرآباد‘ عہدیداران و اراکین عملہ اردو اکیڈیمی مسٹر وی۔کرشنا سپرنٹنڈنٹ‘جناب شیخ اسمعیل سینئر اسٹینو‘ ڈاکٹر محمد احتشام الدین خرم سینئر اسسٹنٹ‘ محمد ارشد مبین زبیری قومی زبان‘جناب یوسف خان سینئر اسسٹنٹ‘ جونیر اسسٹنٹس محمد جنید اللہ بیگ‘ اطہر خان‘ اختر حسین‘ محمد رفیع‘معین خان اردومسکن‘ عبد الغنی ٹیکنیکل اسسٹنٹ و دیگر ارکان عملہ موجود تھے۔

1 Comment

  1. اردو صحافیوں کے لیے پانچ روزہ تربیتی پروگرام۔ بہت اچھا رہا ہ اردو اکیڈمی

    Reply

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *