Type to search

تلنگانہ

تلنگانہ اسمبلی میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف قرار داد منظور

حیدرآباد،16مارچ(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تلنگانہ اسمبلی نے بھی پیر کو سی اے اے کے خلاف قرارداد کو پاس کردیا ہے۔ وزیراعلی کے چندر شیکھرراؤ نے اسمبلی میں کہا کہ ایسے لاکھوں لوگ ہیں جنکے پاس درست دستاویزات نہیں ہے۔ ایسے میں مرکز کو شہریت ترمیمی ایکٹ پر ایک بار پھر سے سوچنا ہوا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ تلنگانہ کی اسمبلی میں ہی ایسی قرارداد پاس ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کیرالا، پنجاب، راجستھان ، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش میں اس قانون کے خلاف قرارداد پاس کی جاچکی ہے۔

راؤ نے پیر کو ریاستی اسمبلی میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف قرار داد منظور کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہم اس طرح کی پریشانیوں کو برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس کو منظور نا کرنے کئی مضبوط وجوہات ہیں۔ انہوں نے سی اے اے کو آئین کے خلاف بتایا۔مذہب کے نام پر تقسیم کرنے والا قانون ہے۔انہوں نے بتایا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ایک مخصوص طبقہ کو ستانے کیلئے یہ قانون بنایا گیاہے۔

وہیں کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی ایک چھوٹی ریاست ہے اور ملک کو مضبوط بنانے میں تعاون کرتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس طرح کے مسائل پر بولیں۔ اس موقع پر کئی ریاستوں کی مثال دی ہے جہاں پر ان قوانین کے خلاف قرار داد منظور کئے گئے ہیں۔

بتادیں کہ بلدی الیکشن کے تتائج کے بعد کے سی آر نے اس کالے قانون کو اسمبلی میں قرارد لانے اور سخت احتجاج کرنے کے بارےمیں کہا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ کہ ایک ہندو ہیں لیکن سب مذاہب کو یکساں دیکھتے ہیں۔ وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤ نے نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اس قانون کو واپس لیں۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان جس میں انہوں نے کہا تھاکہ وہ اس قانون سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے

گذشتہ دنوں شہریت ترمیمی ایکٹ کو واپس لینے کی مانگ والے ایک قرارداد پر، کیرالا کے گورنر عارف محمد خان نے کہا تھا کہ اس قرار داد کی کوئی قانونی یا آئینی صداقت نہیں ہے کیونکہ شہریت کا مسئلہ مرکز کا ہے۔ انہوں نے یہ بھی صاف کیا تھا کہ اصل میں اس قرارداد کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس سے پہلے وزیرداخلہ بھی یہ صاف کرچکے ہیں کہ کوئی بھی ریاست شہریت ترمیمی ایکٹ ۔ سی اے اے قانون کو لاگو کرنے سے منع نہیں کرسکتے۔

گذشتہ جمعرات کو ایوان میں اس مسئلہ پر زبردست بحث دیکھنے کو ملی تھی۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن رہنماؤں پر سی اے اے اور این پی آر کے مسئلے پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ افواہ (الجھن) پھیلائی گئی کہ سی اے اے سے انکی شہریت چھین لی جائے گی۔

Tags:

You Might also Like