Type to search

تلنگانہ

تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2023: 4,798 امیدواروں نے داخل کیے پرچہ نامزدگی

تلنگانہ اسمبلی انتخابات

حیدرآباد، 13 نومبر (اردو پوسٹ) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں تمام پارٹیاں اپنی جیت کے لیے پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اور ہر حلقہ پر اپنی گہری نظر بنائے ہوئے ہیں۔ اس اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس، کانگریس ، بی جے پی اور مجلس اتحاد المسلمین اہم پارٹیاں ہیں۔

 

 

سبھی پارٹیوں نے اپنے مضبوط اور نامی چہروں کو میدان میں اتارا ہے۔

 

 

تلنگانہ اسمبلی کے 30 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے 4,798 امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔

 

 

ان میں سے تقریباً نصف نے جمعہ کو تمام 119 اسمبلی حلقوں میں اپنے پرچہ جات داخل کئے جو کہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن تھا۔

 

3 نومبر سے اب تک انتخابی افسران کو نامزدگیوں کے 5,716 سیٹ موصول ہوئے ہیں جو زیادہ تر امیدوار آزاد ہیں۔

 

 

چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج کے مطابق آخری دن 2,324 امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔

 

 

اس دن نامزدگیوں کے کل 2,768 سیٹ داخل کیے گئے تھے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 13 نومبر کو ہوگی جبکہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کا آخری دن 15 نومبر ہے۔

 

 

امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد (145) نے گجویل سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے، جہاں چیف منسٹر اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے صدر کے چندر شیکھر راؤ مسلسل تیسری مدت کے لیے دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔

 

 

اس بار کے سی آر بھی کاماریڈی حلقہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں جہاں 92 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیے ہیں۔

 

 

چیف منسٹر کا سامنا تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے صدر اے ریونت ریڈی سے ہے، جو اپنے آبائی حلقہ کوڈنگل سے بھی میدان میں اترے ہیں۔

 

کل 116 امیدواروں نے میڈچل میں اپنے کاغذات داخل کیے جہاں وزیر محنت ملا ریڈی بی آر ایس امیدوار کے طور پر دوبارہ مقابلہ کر رہے ہیں۔

 

 

محبوب نگر ضلع کے نارائن پیٹ حلقہ میں صرف 13 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیے۔

 

 

کھمم اور نارائن پیٹ اضلاع میں بالترتیب وائرا (ایس ٹی) اور مکتھل حلقوں سے صرف 19 امیدواروں نے اپنے کاغذات داخل کئے۔

 

 

کاماریڈی میں آخری دن تقریباً 37 امیدواروں نے اپنے کاغذات داخل کیے، ان دو حلقوں میں سے ایک جہاں سے چیف منسٹر اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے صدر کے چندر شیکھر راؤ مقابلہ کررہے ہیں۔

 

 

بی آر ایس تمام 119 سیٹوں پر اپنے طور پر الیکشن لڑ رہی ہے جبکہ کانگریس نے اپنی اتحادی سی پی آئی کے لیے ایک سیٹ چھوڑی ہے۔

 

 

بی جے پی 111 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے اور اس نے اپنی حلیف جنا سینا پارٹی کے لیے باقی سیٹیں چھوڑ دی ہیں۔

ایم آئی ایم نو سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے اور باقی سیٹوں پر بی آر ایس کی حمایت کر رہی ہے۔

 

 

حال ہی میں ایم آئی ایم کے لیڈر اور سابق کارپوریٹر خواجہ بلال نے پارٹی کو یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیا پارٹی نے گوشہ محل سے کوئی بھی اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا۔

 

خواجہ بلال نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوکہا مزید کہا کہ گوشہ محل میں قریب 80 ہزار مسلم ووٹ ہے، پھر بھی مجلس وہاں سے اپنا امیدوار نہیں اتارتی ہے۔

Tags:
Ayub Khan

Ayub Khan, MA (MCJ) MANUU, Managing Editor of Urdu Post, CEO of MAKS Media.

  • 1

You Might also Like