Type to search

بزنس

سٹیکر تنازعہ۔ بھارتی قوانین کے مطابق چل رہا ہے ریلائنس کا مشن آکسیجن

ریلائنس مشن آکسیجن

۔ ملک میں 11% آکسیجن بنا رہا ہے ریلائنس
۔ وقت پر آکسیجن پہنچے اس لئے 24 کنٹینرس کئے تھے ایئر لفٹ


نئی دلی ۔17 مئی۔ 2021 (پریس نوٹ) سعودی عرب سے آئی آکسیجن گیس پر ریلائنس کے سٹیکر والی افواہیں، آج کل سوشل میڈیا پر زوروں سے پھیلائی جارہی ہے۔ افواہوں میں دعوی کیا جارہا ہے کہ آکسیجن سعودی عرب سے آئی اور ٹینکروں پر ریلائنس نے اپنے سٹیکر چپکا دیئے۔ ریلائنس پر سستی شہرت پانے اور آکسیجن چوری تک کے بے بنیاد الزام لگائے جارہے ہیں۔

مادہ آتش گیر کے ٹرانسپورٹ سے جڑے ماہرین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر کئے جارہے دعووں سے سچائی ایک دم الٹ ہے۔ قانونی طور پر لکویڈ آکسیجن یا دیگر مادہ آتش گیر جیسے پیٹرول؍ ڈیزل وغیرہ لانے لے جانے میں استعمال ہونے والے ٹینکرز پر کمپنی کی پہچان( سٹیکر)لگانا ضروری ہوتا ہے ۔ یعنی جس کمپنی کی آکسیجن جارہی ہے اسی کمپنی کے سٹیکر اور دیگر معلومات ٹینکر پر چسپاں ہونے چاہئے۔ تاکہ ایمرجنسی میں اس معلومات کا استعمال کر جانیں بچائی جاسکیں۔

بڑی مقدار میں لکویڈ آکسیجن کو ہوائی جہاز سے لانا بے حد خطرناک ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں نے اس کے خلاف قانون بنائے ہوئے ہیں۔ اس لئے دنیا بھر میں لکویڈ آکسیجن کو سڑک یا سمندر کے راستے ہی لایا لے جاتا ہے۔

ماہرین مانتے ہیں کہ جب ملک میں حالات بے مشکل تھے اور آکسیجن کیلئے ٹینکرز کی بے حد کمی تھی تب ریلائنس نے آکسیجن ٹینکرز کو ایئر لفٹ کروایا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک دم خالی تھے۔ اور قاعدے قانون کے مطابق ہی ریلائنس نے ملک سے ایئر لفٹ کئے گئے ان کنٹینرز پر اپنی جانکاری والے سٹیکر چپکائے تھے۔

ریلائنس نے دنیا کے 5 ملکوں سے 24 آکسیجن کنٹینرز منگا کر اپنے سٹیکر لگائے تھے۔ انہیں میں سعودی عرب سے آئے ٹینکر بھی شامل تھے۔ خطرناک مصنوعات ٹرانسپورٹ قانون 2011 اور سینٹرل موٹر وہیکل ایکٹ 1989 کے تحت ہی آکسیجن جیسی انتہائی آتش گیر گیس کا ٹرانسپورٹیشن کیا جاسکتا ہے۔ قوانین کے مطابق ٹرانسپورٹ کرنے والی کمپنی کی ہی پوری ذمہ داری ہے کہ وہ ٹینکر کا روٹ طے کرے۔ ریلائنس کا مشن آکسیجن انہیں قوانین کے تحت چل رہا ہے۔

اس سے پہلے ریلائنس کے ترجمان نے ایک بیان جاری کر کہا تھا کہ’ ملک میں آکسیجن کنٹینرز کی بھاری کمی کی وجہ سے ریلائنس نے پوری دنیا سے 24 کنٹینرز ایئر لفٹ کئے تاکہ ضرورت مندوں تک وقت پر آکسیجن پہنچ سکے۔

ہم اپنی پوری طرح کے ساتھ کورونا کے خلاف اس لڑائی میں ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ریلائنس انڈسٹری کے چیئرمین شری مکیش امبانی خود ’ مشن آکسیجن‘ کی دیکھ ریکھ کررہے ہیں۔

بتاتے چلیں کہ اس وقت ملک میں کل آکسیجن پیداوار کا 11 فیصدی صرف ریلائنس بنارہا ہے۔ ریلائنس ہر روز کل 1000 میٹرک ٹن آکسیجن بنارہا ہے۔ جو 1لاکھ کورونا مریضوں کو ہر دن سانسیں دینے کیلئے کافی ہے۔ آکسیجن پوری طرح سے مفت دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر اور تجرات میں ریلائنس فاونڈیشن 1875 کووڈ بستروں کا انتظام بھی چلا رہا ہے۔ یہ بندوبست بھی بالکل مفت ہے۔

کمپنی صرف آکسیجن ہی نہیں بنارہی بلکہ اسے ضرورت مندوں تک بالکل مفت پہنچانے کیلئے انتظام بھی کر رہی ہے۔ آکسیجن کو لانے لے جانے کیلئے ملک میں آکسیجن کنٹینرز کی بے حد کمی تھی۔ کنٹینرز کے انتظامات کیلئے ریلائنس نے دنیا بھر کے دروازے کھٹکھٹائے۔ اپنے پارٹنرز سعودی ارامکو اور برٹش پیٹرولیم سے بھی مدد مانگی۔ تب جاکر دنیا کے پانچ ملکوں سعودی عرب، جرمنی، تھائی لینڈ، نیدر لینڈ اور بیلجیئم سے24 کنٹینرز کا بندوبست ہوپایا۔

Tags:

You Might also Like