Type to search

تلنگانہ

سر سید ایک فرد نہیں بلکہ ایک انجمن تھے…!

سر سید

~ عبدالمقیت
عبیداللّہ فیضی


19صدی کا زمانہ ہندستان میں مذہبی اور سماجی اصلاحات کا زمانہ تھا۔ راجا رام موہن کا برہم سماج ہو یا مہارشی دیانند سرسوتی کا آریہ سماج، یہ سب اصلاحی تحریکیں انگریز حکومت کی ذیادتیوں، عیسائیت کی تبلیغ اور مجموعی طور پر ہندستانیوں کے پریشان حالی پر پڑھے لکھے نوجوانوں کا ردعمل تھا۔ جس نے روایات اور سماجی رسومات سے اپنے ہم قوموں کو بچانے کا بیڑا اٹھایا۔

19صدی کے مسلم دانشوروں میں “سر سید احمد خان” کی شخصیت ایک مینار نور کی طرح ہے۔ سر سید ایک فرد نہیں بلکہ ایک انجمن تھے۔ وہ ایک ماہر تعلیم، سیاست دان، اسلامی مصلح کے ساتھ ساتھ ترقی پسند رہنما بھی تھے۔
سرسید نے 1872میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا۔ جو 1877میں کالج اور 1920میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا۔ ان کے اس کارہائے نمایا نے مسلم دانشوروں اور سیاست دانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کی جس نے سر سید کے مشن کو علی گڑھ تحریک کی شکل دی، اور ہندستان میں مسلمانوں کے علمی، سیاسی اور سماجی مستقبل کا تحفظ کیا۔

سر سید کی پیدائش 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں ایک اعلی خاندان میں ہوئی۔ مانا جاتا ہے کہ ان کا خاندان افغانستان میں ہراس سے ہجرت کر کے شہنشاہ اکبر کے زمانے میں ہندستان آیا تھا، مگر کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خاندان عرب سے ہندستان آیا تھا۔ کئی نسلوں تک ان کا خاندان مغل دربار سے منسلک رہا۔ سر سید کی پیدائش جس زمانے میں ہوئی وہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا زمانہ تھا۔ سر سید کی تربیت ان کے بڑے بھائی سید محمد کے ساتھ ہوئی۔ 1829میں والد کے انتقال کے بعد انھیں اپنے دادا اور والد کا منصب وراثت میں ملا، اور بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دربار سے عارف جنگ کا خطاب عطاءکیا گیا۔ ان کے بھائی نے ایک پرنٹنگ پریس لگائی اور ایک اخبار “سید الاخبار” نکالنا شروع کیا۔ سرسیدنے اس کی ادارت کا کام سنبھالا۔

مغلیہ سلطنت کے زوال کو دیکھتے ہوئے سر سید نےایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت اختیار کر لی۔ 1840 میں ایسٹ انڈیاکمپنی میں انھیں ترقی دے کر منشی مقرر کیا گیا۔ اس زمانے میں سر سید نے باقائدہ تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا، اور اردو میں مختلف مضامین پر لکھنے لگے۔ مصنف کی حیثیت سے سر سید کا سفر 1842میں شروع ہوا۔ سر سید کی حقیقی عظمت اس حقیقت پر مضمر ہے کہ وہ پہلےہندستانی مسلمان تھے، جس نے جدید دور میں اسلام کے حقیقی تشریح کی ضرورت کو محسوس کیا۔

سر سید 1857کے غدر میں بجنور کے عدالت میں فائذ تھے، اس دور میں شمالی ہندستان میں زبردشت خون خرابا ہوا، بڑی تعداد میں عام شہری قتل ہوئے۔ دہلی، آگرہ، لکھنؤ اور کانپور سب سے زیادہ متاثر علاقہ تھے۔

خصوصا مسلمان انگریز اطاعت کا شکار تھے، خود سر سید اس خون خرابے اور مغل حکومت کے خاتمے سے متاثر ہوئے۔ وہ اور دوسرے مسلمان اسے مسلمانوں کی شکست تسلیم کرتے تھے۔

1858 میں انھیں اعلی عہدے پر مرآداباد کے عدالت میں مقرر کیا گیا۔ جہاں انھوں نے اپنی سب سے مشہور تصنیف پر کام شروع کیا۔

1859میں اپنا کتاب چہ “اسباب بغاوت ہند” شائع کیا۔ سر سید کو مغربی تعلیم کا احساس ہو چکا تھا، ملک کے مختلف حصوں کے کالجوں میں نئی مغربی تعلیم دی جا رہی تھی۔ لیکن مسلمان روایتی کٹر پنتھی اور مذہبی ندامت پسندی کی وجہ سے اس تعلیم سے دور تھا۔

1864 میں علی گڑھ تبادلہ ہونے پر سر سید اپنے اس مشن میں پوری طرح سے مصروف ہو گئے۔ اپنے پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لئے انھوں نے اپنے ہم نواءافراد کے ساتھ سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ کی بنیاد ڈالی۔

ملک کے مختلف حصوں سے مسلم دانشوروں کو سر سید نے اس سو سائیٹی میں شامل کر لیا، اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں اصلاحی مضامین شائع کئے جانے لگے۔

1867 میں ہندی اردو تنازعہ نے سر سید کو سیاسی رہنماءکے شکل میں متعارف کروایا۔ انھوں نے ہندی کو شعبہ متحدہ کی دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کی سخت مخالفت کی۔ انھوں نے خود اپنی تحریروں سے اردو کے فروغ کا کام شروع کیا۔ ہر چند کہ سر سید کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح تھی، مگر تنگ نظری اور تعصب پرستی سے ان کی فکر بہت دور تھی۔

پنڈت جواہر لال نہرو کے الفاظ میں….
“سر سید ایک سر گرم مصلح تھے، اور وہ بنیادی عتقادات کو چوٹ پہنچائے بنا معروضی تشریحات کے ذرئعے جدید سائنٹفک افکار اور مذہب میں موافقت پیدا کرنا چاہتے تھے۔ وہ جدید تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں متفکر تھے۔ وہ کسی بھی طرح فرقہ پرست بنیادوں پر علیحدگی پسند نہیں تھے۔ انھوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ مذہبی اختلافات کو سیاسی اور قومی اہمیت نہیں دی جانی چاہئے۔”

قارئین! شبلی نعمانی کی کاوشوں سے اردو کو حیدرآباد کی سرکاری زبان قرار دیا گیا، اور عثمانیہ یونیورسٹی میں اردو کو ذریعے تعلیم بنایا گیا۔ 1869میں سر سید نے لندن کا سفر کیا، اسی سفر کے دوران انھیںKCSI کا اعزاز دیا گیا، جس کی وجہ سے انھیں اپنے نام کے آگے “سر” لگانے کا حق مل گیا، اور وہ سید احمد سے سر سید احمد ہو گئے۔ اسی سفر میں انھیں انگریزی تعلیم و افادیت کا شدید احساس ہوا، انھوں نے Cambridge اور Oxford یونیورسٹیوں کو دیکھا، اور دل میں مسلمانوں کے لئے ایک ایسی ہی یونیورسٹی بنانے کا خواب سجا کر واپس آئے۔ واپس آکر انھوں نے اپنے اس خواب کو حقیقت دینے کی ابتداءکی، اور منصوبہ بند طریقے سے کام شروع کیا۔

1872 میں انھوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا۔ جو 1877میں کالج بن گیا۔ سر سید نے اس کالج کو Cambridge اور Oxford کے طرز تعمیر پر قائم کیا۔ ان کا نصب العین تھا کہ برطانوی طرز تعمیر سے میل کھاتا ہوا ایک ایسا کالج تعمیر کیا جائے جہاں مسلمانوں کو اسلامی اقدار کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم دی جائے۔ یہ ہندستان کا پہلا اقامتی تعلیمی ادارہ تھا، یہ کالج ابتدائی دور میں کولکتہ یونیورسٹی سے منسلک تھا۔

1885 میں اسے الہ آباد یونیورسٹی سے منسلک کر دیا گیا۔ اب سر سید کا مشن اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ اسے اپنے لئے ایک الگ یونیورسٹی کی ضرورت تھی۔

سر سید 1898میں یونیورسٹی کا خواب دل میں بسائے انتقال فرما گئے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
مگر ان کا مشن جاری رہا۔ سر سید کے خواب کو تعبیر عطاءکرنے کے لئے کالج میں نئے کورسس شروع کئے گئے۔ 1907میں لڑکیوں کے لئے ایک اسکول شروع کیا گیا۔ 1920میں یہ کالج ایک یونیورسٹی بن گیا، اور اس کا نام “علی گڑھ مسلم یونیورسٹی” رکھا گیا۔

اس ادارے نے مسلمانوں کو ایک ایسا نیا تعلیم یافتہ طبقہ دیا جس نے نا صرف مسلم قوم بلکہ پورے بر صغیر میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں میں ایک تعمیری کردار ادا کیا۔ سر سید کے اسی مشن کے دین بر صغیر ہند و پاک میں سیاسی رہنماوں کے علاوہ اردو زبان و ادب کے ایسے بہت سے درخشندہ نام ہیں۔

سر سید کے خواب کی تعبیر اسی یونیورسٹی کے ایک منچلے شاعر مجاز نے شاید سر سید کے جذبات کو اپنے نظم “نظر علی گڑھ” میں ایسی دلکشی کے ساتھ پیش کیاہے کہ وہ آج تک یونیورسٹی کا ترانہ بن کر گونج رہا ہے……
“یہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں
سر شار نگاہ نرگس ہوں پابستئہ گیسوئے سنبل ہوں

ذرات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاں
خود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاں
یہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں”


(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں زیر تعلیم)
Email- abdulmuqeet001999@gmail.com


 نوٹ: اس مضمون کو عبدالمقیت نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔