Type to search

ٹی وی اور فلم

رچا شرما سالگرہ اسپیشل : اپنی آواز کے جادو سے سب کو دیوانہ بنایا

رچا شرما

فلمی ڈسک،29 اگسٹ (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) ماہی وے اور سجدہ جیسے مشہور گانے گا چکی پلے بیک سنگر رچا شرما کی آج سالگرہ ہے- رچا اپنی جادو بھری آواز سے ہر کسی کو دیوانہ بنا دیتی ہے-

رچا شرما کی پیدائش 29 اگست 1974 کو ہوئی- وہ ایک پلے بیک گلوکارہ ہے- سال 2006 میں فلم بابل کے لیے بالی ووڈ کا سب سے لمبا ٹریک بدائی گانا گایا- رچا ہندوستانی کلاسیکی اور ہلکی موسیقی پنڈت اسکرن شرما کے پاس تربیت لی- رچا غزلیں، فلمی گانے، پنجابی اور راجستھانی فولک گانے گائے-

بالی ووڈ میں اپنی سریلی آواز سے پہچان بنانے والی رچا شرما اپنی محنت اور لگن کی وجہ آج لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہے- انہوں نے فلمی دنیا میں گلوکاری کے دم پر جو مقام حاصل کیا وہ خواتین کے لیے انسپریشن سے کم نہیں ہے-

رچا کے والد پنڈت دیا شنکر مشہور کلاسیکی گلوکار تھے- جن سے متاثر رچا نے موسیقی کی تعلیم لی- بچپن سے ہی رچا کی موسیقی کے لیے دلچسپی تھی- قریب 30 سال انکا خاندان پٹیالہ چھوڑ کر فریدآباد چلا گیا اور اب خاندان ممبئی میں رہتا ہے-

رچا شرما نے 8 سال کی عمر میں جگراتے میں پہلی بار گانا گایا تھا- تب انہیں 11 روپے ملے تھے- ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ روپے آج بھی انہوں نے سنبھال کر رکھے ہیں- رچا نے کپا تھا، والد کہتے تھے اگر تمہیں پلیٹ میں بنی بنائی روٹی مل جائے گی، تو کیا مزہ؟ جب خود بیج بو، کاٹو، پیسو، پکاؤ اور پھر کھاؤ— جب میں بہت چھوٹی تھی تب والد کو محسوس ہوگیا تھا کہ میں ایک سنگر بنونگی، انہوں نے سب کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ میری بیٹی موسیقی میں نام کمائیں گی-

جگراتے میں گانے والی ایک لڑکی کے لیے بالی ووڈ کا سفر طے کرنا آسان نہیں تھا- انہوں نے والد سے بھجن گائن سیکھا- ایک لائیو شو کے سلسلہ میں رچا 1995 میں ممبئی گئی- یہاں پہلی بار انہوں نے ایک پروگرام میں بھجن گایا- اسی دوران سال 1996 میں انہیں سلمی پے دل آگیا فلم میں گانے کا موقع ملا- اس فلم کے بعد رچا شرما کو فلموں میں موقع ملنے لگے- انہوں نے شاہ رخ اسٹارر فلم کل ہو نہ ہو اور اوم شانتی اوم کے لیے گانے گئے- رچا شرما عمران ہاشمی کی فلم جنت میں چار دنوں کا پیار او ربہ لمبی جدائی ،،، فلم ساتھیا میں چھلکا، چھلکا — اور فلم اومکارا میں بیلو رانی، جیسے گانے گا کر لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کرنے لگی- رچا کا صوفیانہ کلام اور بھجن گانے کا سلسلہ لگاتار جاری ہے-

رچا کو سال 2003 میں فلم کانٹے میں گائے گانے ماہی وے، کے لیے بالی ووڈ موی ایوارڈ کا بہترین فیمیل پلے بیک سنگر کا ایوارڈ ملا-
رچا کو سال 2011 میں شاہ رخ خان کی فلم مائی نیم از خان میں گائے گانے سجدہ، کے لیے زی سینے ایوارڈ کا بہترین فیمیل پلے بیک سنگر کا ایوارڈ ملا-

انہوں نے کئی بالی ووڈ فلموں میں اپنی آواز دی جن میں فلم سلمی پے دل آگیا میں محبت ایسی مہندی ہے، فلم تال میں نی میں سمجھ گئی، فلم ترکیب میں دوپٹے کا پللو ، فلم زبیدہ میں چھوڑو مورے بائیاں، فلم فرض میں سارے شہر میں، فلم دیوانہ پن میں کملی کملی، فلم ساتھیا میں چھلکا چھلکا، فلم کانٹے میں ماہی وے، فلم ہنگامہ میں عشق جب، فلم کچھ نہ کہو میں کہتی ہے یہ ہوا، فلم باغبان میں او دھرتی ترسے، فلم جنت میں لمبی جدائی، جیسے کئی فلموں کے گانوں میں اپنی آواز دی-

بھجن سے لے کر بالی ووڈ کے گانوں تک ، ہر انداز میں گانے والی سنگر رچا نے کہا کہ موسیقی انکی روح ہے پھر چاہے وہ کسی بھی انداز میں ہو-

رچا کے والد ایک پجاری تھے۔ وہ ہر صبح اپنے والد کے ساتھ مندر میں روز صبح بھجن گایا کرتی تھی- یہی سے شروع ہوا انکے موسیقی کا سفر- موسیقی میں کیریئر بنانے کے لیے وہ فریدہ آباد سے دہلی آئی- سال 1995 میں وہ ممبئی آئی تاکہ وہاں اچھے میوزک ڈائریکٹر سے ملے اور اپنی صلاحیتوں کو دیکھا سکے-

اسکے بعد وہ کئی آڈیشن دیئے لیکن کہی سے کوئی جواب نہیں ملا- اس دوران ساون کمار کی ایک فلم آنے والی تھی-
ساون کمار کو رچا کا بھجن پسن آیا اور رچا کو فلم میں گانے کا موقع دیا- شروعات میں ذیادہ شہرت نہیں ملی لیکن فلم تال فلم میں گانا گانے کے بعد انہیں پہچان ملی-

Tags: