Type to search

تلنگانہ

حیا جس میں نہیں وہ شباب اچھا نہیں لگتا

حیا جس میں نہیں

: امام علی مقصود شیخ فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔


خیر القرون سے بڑھتی ہوئی دوری اور لوگوں کے فساد و احوال کی وجہ سے آج مسلم‌‌ معاشرہ بے راہ روی اور فکری انحراف میں مبتلاء ہوتا جارہا ہے، اور قرآن کریم کی اس آیت

ولن ترضى عنك اليهود و لن النصرى حتى تتبع ملتهم

(سورہ بقرہ ١٢٠)

آپ سے ہرگز یہود و نصارٰی خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ انکے مذہب کے تابع نہ ہوجائیں، کی عملی تفسیر بنتا جارہا ہے۔

جس کی طرف خیرالقرون میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ ارشاد بھی جاری ہوا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ جب تم‌ ضرور بالضرور اپنے سے پہلی والی امتوں کی اتباع کرنے لگو گے، بالشت در بالشت ، ہاتھ در ہاتھ، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل‌ میں بھی داخل ہو جائیں گے تو تم بھی انکے نقش قدم‌ پر چلتے ہوئے اس میں داخل ہو جاؤ گے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی مراد یہود و نصارٰی ہیں؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اور کون ہیں؟

قرآن و حدیث کے مذکورہ بالا دونوں نصوص سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ فتنہ جسکی طرف باری تعالیٰ اور ہادی برحق نے ارشاد فرمایا تھا وہ ظہور پذیر ہو چکا ہے۔

کیونکہ آج مغرب کی طرف سے استعماری قوتیں ہر طرح کے فکری و مادی ساز و سامان سمیت اسلامی تہذیب و تمدن کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔

جس سے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تہذیب و تمدن کو بچانے کی کوشش کریں، لیکن وہ بجاے اسکے وہ انہی کی تقلید و اتباع کو اپنے لئے کامرانی کا زینہ تصور کر رہے ہیں۔

قارئین! محبت جو ایک پاکیزہ رشتہ ہے اہل مغرب نے اس کو کئی خانوں میں تقسیم کر دیا ہے ، جیسے (mother’s day, father’s day, teacher’s day, valentine day) وغیرہ۔

جسکی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کے حقیقی معنی سے ناواقف ہیں، اور ان میں بھی اہل مغرب طرح طرح کی بے حیائ میں مبتلاء ہیں، اور انہی کی تقلید میں ہمارا معاشرہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے، جبکہ ایسے موقع پر اہل مغرب طرح طرح کے خرافات انجام دیتے ہیں، جن میں بے حیائ، فحاشی و عریانیت کا ننگا ناچ کھیلا جاتا ہے، خاص طور پر “ویلیںٹائن ڈے کے موقع پر” ۔

کیونکہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس میں نسل نو سرد لباس میں ملبوس ہوتی ہے، ایک دوسرے کو گلاب کا ہدیہ پیش کرتی ہے، اور اسکے ذریعے اپنے محبت کا اظہار کرتی ہے، پھر اسی کے ذریعے بے حیائ اور فحاشی، زناکاری اور بدکاری کی راہیں ہموار کرتی ہے، جو کہ شریعت مطہرہ میں ناپاک و نجس، حرام و ممنوع ہے۔

لیکن آج ہمارے بہت سے ایسے مسلم بھائی بہن ہیں جو اس بے حیائ کے لہرتی ہوئی طوفان میں اہل مغرب کے ساتھ قدم بقدم، شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور اپنے لئے اس فعل کو باعث عزت و احترام سمجھ رہے ہیں، حالانکہ یہ روشن خیالی، عزتی اور تکریمی نہیں ہے بلکہ بے حیائ کو فروغ دینے کے لئےاہل مغرب کی ایک منظم سازش ہے، جسکی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے۔

بہر حال! ویلنٹائن ڈے کی جو ایک گندی ہوا چل پڑی ہے،‌ اور مسلم سماج‌ میں بھی داخل ہو چکی ہے تو ایسے‌ موقع پر جاہیے کہ مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس بات کو جانیں کہ آخر یہ کیا بلا ہے؟ اسکی حقیقت اور پس منظر کیا ہے؟ تاکہ مسلم معاشرے میں پھیل رہے اس بیماری کا علاج ہو سکے۔

ویلنٹائن ڈے پس منظر اور حقیقت:  یوں تو اس سلسلے میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں، لیکن یہ بات متحقق ہے کہ یوم محبت یعنی ویلیںٹائن ڈے رومن بت پرستوں کے تہوار میں سے ایک تہوار ہے، علاوہ ازیں تاریخی روایات میں تہوار کے ساتھ سینٹ ویلنٹائن کا نام بھی ملتا ہے۔

پس‌ منظر میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ “سینٹ ویلنٹائن”  کنیسے کے دو قدیم قربان ہونے والے اشخاص کا نام ہے۔ اور ایک قول کے مطابق ایک ہی شخص کا نام تھا جو شہنشاہ “کلاڈیوس” کی تعذیب کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا،اور جس جگہ پر ہلاک ہوا وہیں پر بطور یادگار ایک کنیسہ تیار کیا گیا، اور اسکی بت پرستی شروع کر دی۔

بعد میں جب رومیوں نے مذہب عیسائیت قبول کرلی تو انہوں نے اسے بت پرستی کے‌ مفہوم سے‌ نکال کر “محبت کے شہداء” کے نام سے منانے لگے، پھر وہیں سے ویلیںٹائن ڈے کا آغاز ہوا۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب رومیوں نے نصرانیت قبول کرلی، اور پھر عیسایت کے ظہور کے بعد اس میں داخل ہو گئے، تو تیسری صدی عیسوی میں رومانی بادشا “کلاڈیوس” نے اپنی فوج کے لوگوں پر شادی کرنے پر پابندی عائد کر دی، کیونکہ اس وقت فوج کے لوگ اپنی بیویوں کی وجہ سے بادشاہ کے ساتھ جنگوں میں نہیں جاتے تھے، لیکن سینٹ ویلنٹائن نے بادشاہ کے اس حکم‌ کی مخالفت کرتے ہوئے چھپاکر فوجیوں کی شادی کا اہتمام کرایا، پھر جب اس بات کا علم‌ بادشاہ کلاڈیوس کو ہوا تو اس‌ نے سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرا کے جیل میں داخل کردیا اور وہیں پر اسے پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا۔

کھا جاتا ہے کہ قید کے دوران ہی سینٹ ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہو گئی تھی، اور نوبت کافی آگے تک پہنچ گئی تھی، لیکن چونکہ سینٹ ویلنٹائن ایک مذہبی رہنما تھا، اس لئے اسکا شادی کرنا اس کے لئے حرام تھا، کیونکہ پادریوں اور راہبوں کے لئے پیار و محبت اور شادی وغیرہ سب حرام ہے، اور جو اسمیں مبتلا ہوتاہے اسے سخت سے سخت سزاء دی جاتی ہے۔

بہر حال بادشاہ کلاڈیوس نے سینٹ ویلنٹائن کو کہا کہ اگر وہ عیسایت ترک کر کے رومی بت پرستی قبول کرلے تو اسے معاف کردیا جائے گا اور اسکی شادی بھی کرا دی جائے گی اور بادشاہ کا مقرب بھی بنا دیا جائے گا، لیکن سینٹ ویلنٹائن نے رومی بت پرستی مذہب قبول کرنے سے انکار کردیا اور عیسائیت پر قائم رہنے کو ترجیح دیا، جس کی پاداش میں اسے 14 فروری 270 ء میں اسے پھانسی دے دی گئی، پھر اسی کی یاد میں اسی دن سے ویلیںٹائن ڈے کی شروعات ہوئی۔

بہر کیف مذکورہ بالا روایات من گھڑت واقعہ پر مشتمل ہے، اور ایک روایت انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے حوالے ملتی ہے جس سے حقیقت واشگاف ہوجاتی ہے، اور اسکی اصل حقیقت کا علم ہوجاتاہے۔ انسایکلوپیڈیا کے مطابق یہ دن عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کی مذہبی رسومات کا ایک خاص دن ہے، عیسائی کیتھولک فرقے کے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن نامی‌ پادریوں کی روحیں دنیا میں آتی ہیں،‌اسی لئے وہ لوگ اس‌ دن میں ایک‌ خاص قسم‌ کی عبادت کرتے ہیں جسے ویلنٹائن ڈے کہتے ہیں۔

قارئین! یہی وہ تہوار ہے جس میں معصوم لڑکیوں کو محبت کی جال میں پھنسنا کر انکی عزتوں کو تار تار کیا جاتا ہے، یہی وہ تہوار ہے جس میں ناجائز تعلقات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے، یہی وہ تہوار ہے جس میں جس فحاشیت و عریانیت کو بر منظر عام کیا جاتا ہے، یہی وہ تہوار ہے جس میں معصوم اور بے سہارا لڑکیوں کو مجبور کیا جاتا ہے، یہی وہ تہوار ہے جس میں غضب الٰہی کو مدعو کیا جاتا ہے، یہی وہ تہوار ہے جس میں خدا کی زمین کو ناپاک کیا جاتا ہے، یہی وہ تہوار ہے جس‌ میں خدا کے آسمان کو بھی غصہ دلایا جاتا ہے۔

یہی وہ تہوار ہے جس میں لڑکیاں بن سنور کر اور حیاء کی دھجیا اڑا کر ناجائز تعلقات کو فروغ دیتی ہیں، یہی وہ تہوار ہے جس میں لڑکیاں بے پردگی کو عام کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کو  بے شرمی اور بے حیائی کا دوسرا نام دیاجاتا ہے، کیونکہ اس دن جس قدر بے حیائ کو عام‌ کیا جاتا ہے اتنا کبھی نہیں پھیلایا جاتا۔ یہ ایک ایسا دن ہوتا ہے جسے لوگ خود بھی کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے ہیں۔

 جبکہ قرآن کریم نے بےحیائی پھیلانے والوں کو دنیا و آخرت میں سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ {النور/19} ترجمہ: ” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کے گروہ میں بے حیائی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں سخت سزا کے مستحق ہیں اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔

مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کے الفاظ بے حیائی پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں ان کا اطلاق عملا بے حیائی کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بداخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کیلئے جذبات کو اکسانے والےقصوں ،اشعار،گانوں اور کھیل تماشوں پر بھی”۔ (تفہیم القرآن۔

 اسی طرح حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “حیا ایمان کا ایک جزو ہےاور ایماندار جنت میں جائے گااور بےحیائی بدی میں سے ہے اور بدکار شخص دوزخ میں جائے گا”۔(ترمذی)۔

اسی لئے اس بات کی از حد ضرورت ہے کہ اس قسم کی برائیوں سے خود بھی بچیں اور اپنی اولاد کو بھی بچائیں، اپنے معاشرے اور سماج‌ کو بھی بچائیں۔ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بھی باحجاب رکھیں اور بے حیائ سے بالکل دور رکھیں تاکہ جنت کے حقدار بنیں۔

دوسروں کی بہنوں کو پھول نہیں اپنی بہنوں کو حجاب دیں، اور اگر اپنی بہنوں کی عزت چاہیں تو دوسروں کے بہنوں کا احترام کریں۔

کیونکہ یہ دنیا بڑی خطرناک ہے ، یہاں دو قسم کے قانون چلتے ہیں ، ایک ایک قانون فطرت اور ایک قانون شریعت۔ قانون شریعت میں تمہیں معافی مل سکتی ہے، لیکن قانون فطرت ذرہ برابر بھی بخشش نہیں ہے، جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے، شراب نوشی کرو گے تو گردہ خراب ہوگا، کیونکہ یہ قانون فطرت ہے، یہ ناممکن ہے کہ شراب نوشی کریں اور گردہ خراب نہ ہو، اسی طرح اگر کسی کء بہن پر حملہ کرو گے تو تمہاری بہن پر بھی حملہ کیا جائے گا، یہ ناممکن ہے کہ تم کسی کی بہن کو نشانہ بناؤ اور تمہاری بہن کو نشانہ نہ بنایا جائے، کیونکہ یہ قانون فطرت ہے۔

حیا جس میں نہیں وہ شباب اچھا نہیں لگتا،

بکھر جائے جو کھل کر وہ گلاب اچھا نہیں لگتا،

لڑکپن ہو چکا رخصت جوانی جھوم کر آئی،

تیرا گھر سے نکلنا بے نقاب اچھا نہیں لگتا۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *