Type to search

تلنگانہ

کانگریس لیڈر محمد شبیر علی نے سیکرٹریٹ میں مسجد اور مندر کو مسمار کرنے کی مخالفت کی

Mohammed Ali Shabbir

حیدرآباد،12جولائی (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تلنگانہ کانگریس کے سابق وزیر اور سینئر رہنما محمد علی شبیر نے کہا کہ سیکریٹریٹ کامپلیکس میں بنے عبادت گاہوں کے انہدام کے خلاف احتجاج میں کانگریس ریاستی سطح پر دھرنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کانگریس کے سینئر رہنماؤں کی گاندھی بھون میں ہوئی میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ لیا گیا۔

سابق وزیر نے کہا کہ تلنگانہ سکریٹریٹ کامپلیکس میں دو مساجد اور ایک مند کو توڑنا غیر قانونی ہے۔ سبھی مذاہب کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ احاطہ میں بنے مساجد اور مندر وزیر اعلی کے چندرشیکھر راؤ کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ وزیراعلی کو سبق سیکھنا ضروری ہے۔

محمد علی شبیر  نے کہا کہ سکریٹریٹ کامپلیکس بنے عبادت گاہ مسمار کرنے کی مخالفت میں کانگریس کالے ماسک اور کالے ربن لگا کر حکومت کے رویے کی مخالفت کرئے گی۔ اس مظاہرہ میں بڑے پیمانے پر شامل ہونے کی کانگریس کے سینئر رہنما نے اپیل کی ہے۔ میٹنگ کے بعد کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کے سی آر کا علامتی مجسمہ جلایا۔ مخالف مظاہروں میں حیدرآباد سب کانگریس کمیٹی کے اقلیتی چیئرمین سمیر ولی اللہ ، ٹی پی سی سی کے نائب صدر جعفر جاوید، سید نظام الدین، ٹی پی سی سی کے جنرل سکریٹری ایس کے افضل الدین، نامپلی حلقہ کے انچارج فیروز خان شامل تھے۔