Type to search

قومی

لفٹ طلبا تنظیم ایس ایف آئی نے سی اے اے کو سپریم کورٹ کیا چیلنج

19جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہوتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ امتیازی نوعیت کا ہے اور ہندوستانی آئین کے بنیادی اصول کو تباہ کرنے والا ہے شہریت قانون کو 10جنوری کو مطلع کیا گیا تھا۔ اس قانون میں 31 ڈسمبر 2014 سے پہلے مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے چھوڑ کر ہندوستان میں آنے والےہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی مذہب کے لوگوں کو ملک کی شہریت دیئے جانے کی فراہمی ہے۔

اپنی عرضی میں ایس ایف آئی نے شہرتی قانون کو ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیئے جانے کی مانگ کی ہے۔ اسکے علاوہ عرضی میں پاسپورٹ (ہندوستان میں داخلہ) ایکٹ 1920 اور غیر ملکی ایکٹ 1946 کے کچھ دفعات کو منسوخ کرنے کی مانگ کرتے ہوئے دعوی کیا گیا ہے کہ یہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے طلبا اراکین شہریت ترمیمی قانون 2019 بنائےجانے سے بے حد پریشان ہے اور اسے ہندوستان کے آئین کے بنیادی اصولوں کو تباہ کرنے والے عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ ہے اس نئے قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرے اور لوگوں میں عدم اطمینان کی بات سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود مرکزی حکومت نے واضح طور پر اپنے موقف کا اعادہ کیا اور اسے واپس لیے جانے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔

Tags:

You Might also Like