Type to search

صحت

تل کے فوائد : ڈپریشن کم کرنے اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے

تل کے فوائد

ہیلتھ ڈسک،(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تل کے فوائد ۔سردیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے۔

ایسے میں لوگوں کو گرم رہنے اور سردیوں میں ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے تل بہت ہی فائدے مند ہے۔

تل گرم ہوتا ہے۔ تل کا استعمال اکثر میٹھی چیزوں میں کام کیا جاتا ہے۔

ہم سبھی کے گھر میں تل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تل میں مونو سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ ہوتا ہے۔

جو جسم سے کولسٹرول کوکم کرتا ہے۔

دل سے جوڑی بیماریوں کے لیے بھی یہ بے حد فائدے مند ہے۔

تل میں سیسمین نام کا اینٹی آکسیڈینٹ پایا جاتا ہے جو کینسر خلیوں کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

اتنا ہی نہیں ، تل اپنے اس کوالٹی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے کینسر ،

پیٹ کے کینسر ، لیوکیمیا ، پروسٹیٹ کینسر ، چھاتی کے کینسر جیسے سنگین بیماریوں سے بھی روک تھام کرتا ہے۔

اس کے علاوہ ، تل کے بہت سے فوائد ہیں ،

جو آپ کے جسم کو مضبوط اور بیماریوں سے دور رکھتے ہیں۔ یہاں جانیں تل کے فوائد ۔۔۔

ڈپریشن کم کرنا

تل میں کچھ ایسے اجزاء اور وٹامن پائے جاتے ہیں جو تناؤ اور ڈپریشن کو کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔

روزآنہ تھوڑی مقدار میں تل کا استعمال کر کے آپ ذہنی پریشانیوں سے نجات پاسکتے ہیں۔

بالوں کے لیے

تل کا استعمال بالوں کے لیے قدرت کے تحفہ سے کم نہیں۔

تل کے تیل کا استعمال یا پھر ہر روز تھوڑی مقدار میں تتل کو کھانے سے بالوں کا جھڑنا بند ہوجاتا ہے۔

جلد کے لیے فائدے مند

تل کا تیل جلد کے لیے بہت ہی فائدے مند ہوتا ہے۔

تل کا استعمال چہرے پر نکھار کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

اسکی مدد سے جلد کو ضروری غذا ملتی ہے۔ اور اس میں نمی برقرار رہتی ہے۔

تل کو دودھ میں بھیگا کر اسکا پیسٹ چہرے پر لگانے سے چہرے پر قدرتی چمک آتی ہے۔ اور رنگ بھی نکھرتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی

تل میں غذائی پروٹین اور امینو ایسڈ ہوتا ہے جو بچوں کی ہڈیوں کے نشوونما کو بڑھاو دیتے ہیں۔

اسکے علاوہ یہ پٹھوں کے لیے بھی بہت فائدے مند ہے۔ اسکے تیل کی مالیش سے درد میں راحت ملتی ہے۔

کھانسی سے راحت

سوکھی کھانسی ہونے پر تل کو مصری اور پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے فائدہ ملتا ہے۔


(نوٹ: صلاح سمیت یہ مضمون صرف عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی رائے کا متبادل نہیں ہے، مزید معلومات کے لئے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اردو پوسٹ اس معلومات کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ )

Tags: