Type to search

بزنس

بھارت بنے گا دنیا میں سولر انرجی کا ہب

ریلائنس
  • سال 2030 تک ریلائنس بنائے گی 100گیگا واٹ سولر انرجی۔ مکیش انبانی


نئی دہلی۔ 24 جون۔ 2021 (پریس نوٹ) ریلائنس اپنے انرجی بزنس کی شکل تبدیل کرنے جارہا ہے، اس کا اعلان ریلائنس کی سالانہ عام میٹنگ میں چیئرمین مکیش انبانی نے کیا۔ گرین انرجی کیلئے ریلائنس نے کئی اعلانات ایک ساتھ کئے ہیں۔

اس کیلئے ریلائنس، گجرات کے جام نگر میں 5ہزار ایکڑ میں دھیرو بھائی انبانی گرین انرجی گیگا کمپلیکس بنائے گا۔ آئندہ تین برسوں میں ریلائنس اینڈ ٹو اینڈ رینوویبل انرجی ایکو سسٹم پر75ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرئے گا۔

گرین انرجی کے میگان پلان کے تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں چار گیگا فیکٹریاں بنائی جائیں گی۔ جو نیو انرجی ایکو سسٹم کے سبھی اہم شعبوں کی تعمیر کریں گی۔ ان میں سے ایک سولر انرجی کیلئے ہوگی۔ جو سولر ماڈیول فوٹو وولٹک ماڈیول بنائے گی۔

دوسرا انرجی کے سٹوریج یا کہیں ذخیرہ اندوزی کیلئے کمپنی ایک انتہائی جدید انرجی سٹوریج بیٹری بنانے کی فیکٹری بھی ڈالے گی۔ تیسرا، گرین ہائیڈروجن کے پروڈکشن کے لئے ایک الیکٹرولائزر فیکٹری بنائی جائے گی۔ چوتھا ہائیڈروجن کو انرجی میں بدلنے کیلئے کمپنی ایک فیول سیل فیکٹری بنائے گی۔

وزیراعظم مودی نے ملک کے سامنے 2030 تک450 گیگاواٹ رینوویبل انرجی پروڈیوس کرنے کا ہدف رکھا تھا۔ اس کے ذکر کرتے ہوئے انبانی نے کہا کہ ریلائنس 2030 تک 100 گیگاواٹ سولر انرجی پروڈکشن کرے گا اور اس کا ایک حصہ روف ۔ ٹاپ سولر اور گاؤں میں سولر انرجی کے پروڈکشن سے آئے گا۔

گاؤں میں سولر انرجی کے پروڈکشن سے دیہی معیشت کو تقویت ملنے کی امید ہے۔ ریلائنس کا ارادہ سولر ماڈیول کی قیمت دنیا میں سب سے کم رکھنے کا ہے۔ تاکہ سولر انرجی کو کفایتی بنایا جاسکے ۔

سوریہ دیو کو نمن کرتے ہوئے مکیش انبانی نے کہا کہ سورج لامحدود توانائی پیدا کرتے ہیں ۔ اگر ہم شمسی توانائی کا استعمال کر پائے تو بھارت فاسل فیول یعنی کچے تیل کے امپورٹر سے کلین سولر انرجی کا ایکسپورٹ ملک بن سکتا ہے۔

Tags:

You Might also Like