Type to search

بزنس

ریلائنس نیو اینرجی لمیٹڈ، امریکہ نشیں کمپنی “کیلکس” میں 20 فیصد

ریلائنس

حصہ داری کے لیے 1.2 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کر ے گی


نئی دہلی، 23 ستمبر، 2022 (پریس نوٹ) مکیش انبانی کی ریلائنس انڈسٹری لمیٹڈ کی مکمل ملکیت والی ریلائنس نیو انرجی لمیٹڈ(’’آر این ای ایل‘‘) نے امریکہ کی کیلیفورنیا میں واقع کیلکس کارپوریشن میں سرمایہ کاری کی اعلان کیا ہے۔ نیکسٹ جنریشنکی سولر ٹکنالوجی کو ترقی دینے والی کیلکس میں 20% حصہ داری کے لیے ریلائنس نیو اینرجی 1.2کروڑ ڈالر کا سرمایہ کاری کرے گی۔ اس سرمایہ کاری سے ’ایڈوانس سولر سیل ٹیکنالوجی‘ میں کمپنی کو مضبوط بنانے کی امید ہے۔

یہ سرمایہ کاری کیلکس ٹیکنالوجی کی ترقی اور امریکی کے ساتھ دنیا بھر کے بازاروں میں پیر جمع کرنے میں مدد کر ے گی۔ دونوں کمپنیوں نے اس کے لیے ایک حکمت عملی کو سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ دراصل کیلکس، پیروسکائٹ پر مبنی سولرٹکنالوجی کے لیے جانی جاتی ہے۔ کمپنی اعلیٰ صلاحیت والے سولر ماڈل بنانے والی ہے جو 20فیصد زیادہ توانائی پیدا کر سکتی ہے۔ 25 سال تک بجلی پیدا کرنے والے، اس کے سولر پروجیکٹ کی قیمت بھی کافی کم ہوتی ہے۔

ریلائنس گجرات کے جام نگر میں ایک عالمی سطح پر، انٹی گریٹڈ فوٹوووٹک گیگا فیکٹری قائم کررہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کے ساتھ ہی ریلائنس، کیلکس کی مصنوعات کا فائدہ اٹھاسکے گی اور ‘زیادہ طاقتور’ اور کم خرچ والے سول ماڈیول کی پیداواری کر سکے گی۔

اس سرمایہ کاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے چیئر مین اور منیجنگ ڈائریکٹر، مسٹر مکیش ڈی امبانی نے کہا، “کیلکس میں سرمایہ کاری ‘ عالمی معیار کی گرین انرجیپروڈکشن‘ ایکو سسٹم بنانے کی ہماریحکمت عملی کے عین مطابق ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ کیلکس کی پیروسکائیٹ پر مبنی سولر ٹکنالوجیاور کرسٹل سولر ماڈل، ہمیں اگلے مرحلہ تک پہنچنےمیں مدد کرے گی۔ ہم اس کی مصنوعات کی ترقی اور اس کی ٹیکنالوجی کے کاروبار میں تیزی لانے کے لیے کیلکس ٹیم کے ساتھ کام کریں گے۔

کیلکس کارپوریشن کے سی او، سکاٹ گریبیل نے ریلائنس کے ایک سرکردہ سرمایہ کار کے طور پر شامل ہونے پر خوشیظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم کرسٹیل سولر ماڈیول کو زیادہ فعال اور کفایتی بنانے اور اپنی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کی توسیع پر توجہ دیں گے۔ ہم ریلائنس کے عالمی توسیع منصوبوں اور پروڈکٹ روڈ میپ کا سپورٹ کرتے ہیں۔

کھوسلا وینچرز کے ونود کھوسلا نے کہا، “کیلکس میں ایک ابتدائی سرمایہ کار کے طور پر، ہم ان کی تکنیکی ترقی سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔‘‘ اس سودے کیلئے کسی ریگولیٹر کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی اور ستمبر 2022 کے آخر تک اس کے پورا ہونے کی امید ہے۔

Tags:

You Might also Like