Type to search

تلنگانہ

مسلم شہزادیوں کو قرآن کا پیغامات

Quran's messages to Muslim princesses

: امام علی مقصود شیخ فلاحی


قارئین !
اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے۔ عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔

اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے۔

اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔

میری ماؤں اور بہنوں ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے قرآن ہم پر فرض ہے جیسا کہ فرمان باری ہے :
“إن الذى فرص عليك القرآن”
(کہ بیشک ہم نے تم پر قرآن کو فرض کیا ہے) اور فرض ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ تمام أوامر جسکا اللہ نے حکم دیا ہے اسے بجالانا ہے اور وہ تمام منہیات جس سے اللہ نے باز رہنے کا حکم دیا ہے اس سے اجتناب برتنا ہے۔ گویا کہ قرآن کریم و احادیث نبویہ ہمارے لئے ایک قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اب ذرا غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ایک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے۔
جیساکہ اللہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَ یَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ۔وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔ (النور 31-32:)

ترجمہ :
’’ اے نبی مومنوں کو کہہ دو کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔ یقیناً اللہ باخبر ہیں ان چیزوں سے جو وہ کرتے ہیں۔

اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو۔

اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے سامنے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مَردوں کے سامنے یا مَردوں میں ایسے خادموں کے سامنے جو کوئی(جنسی) حاجت نہیں رکھتے ہوں یا ایسے بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہوں۔

اور وہ عورتیں اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ(لوگوں پر) وہ ظاہر ہو جائے جو(عورتیں عموماً) اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔ اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ ‘‘

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے :
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞

ترجمہ:
اے نبی ! اپنی بیویوں، اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کردو کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادروں کے گھونگت لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے قریب ہے کہ ان کا امتیاز ہوجائے، پس ان کو کوئی ایذا نہ پہنچائی جائے۔ اور اللہ غفور رحیم ہے۔

ان تمام آیات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورتوں پر پردہ فرض ہے اور بےپردگی گناہ کبیرہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اور آپ کے نبی محمد صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں کے تعلق سے جو بے پردگی کو اختیار کرتی ہیں ان کو برہنہ اور ان پر سخت وعیدیں بیان فرمائی ہے ۔ فرمایا ۔

ایسی عورتیں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوگی ۔ دوسروں کو اپنی طرف اور خود دوسروں کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی ۔ جنت کی بو بھی ان تک نہیں پہنچے گی ۔ حالانکہ جنت کی بو پانچ سو سال کی مسافت سے معلوم ہوگی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا ( کیونکہ اس وقت پیدا نہیں ہوئی تھی ) ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی مانند کوڑے ہوں گے ۔

اور ان سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسرا گروہ ان عورتوں کا ہے جو لباس پہننے ہونگی پھر بھی ننگی ہونگی ( اجنبی مردوں کو ) اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی ( ان پر ) مائل ہونگی ۔

ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح جھکے ہونگے ( یعنی ان کے سروں پر بال بختی اونٹ کے کوہان کی طرح اٹھے ہوئے اور ایک طرف مائل جھکے ہونگے ) یہ عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہونگی اور نہ ہی جنت کی خوشبو سونگھیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو تقریبا پانچ سو سال کی مسافت پر محسوس ہوگی ۔( مشکوٰۃ )

بہر کیف اب بھی اگر ہم نے ان تمام باتوں پر عمل نہیں کیا تو گویا ہم نے قرآن و احادیث نبویہ کا مذاق اڑایا اور قرآن کی فرضیت کا انکار کیا۔

اس لئے مسلمان ماؤں اور بہنوں کو چاہئے کہ وہ ان باتوں پر خدا را عمل پیرا ہوں۔ اور اپنے آپ کو ثابت کریں کہ واقعتاً ہم مسلم شہزادیاں ہیں۔ ہم قرآن کو ماننے والی ہیں، احادیث نبویہ کا احترام کرنے والی ہیں ، اللہ اور رسول کی باتوں کو اپنے سینوں سے لگانے والی ہیں۔

تاکہ کل قیامت کے دن کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت عائشہ کے روبرو منہ چھپا نے کو رسوائی کا چادر بھی میسر نہ ہو، تاکہ کل قیامت کے دن میدان محشر میں جب بے پردہ عورتیں جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گی تو اس وقت حضرت فاطمہ کہیں ہمیں تمام لوگوں کے سامنے رسوا نہ کریں کہ تمہارے لئے میرے والد (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے در در کی ٹھوکریں کھای تھی کیا تم نے میرے باپ کو انکے امتی ہونے کا یہی سلہ دیا ۔

اس لئے میں اپنی مسلم شہزادیوں سے مؤدبانہ التماس کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے حجاب کا اہتمام ضرور کیا کریں، میری بہنوں میں یہ باتیں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ خدا اور رسول کا پیغام سنا رہا ہوں، میری یہ باتیں ایک عالم ہونے کے حیثیت سے نہیں بلکہ خود اپنے مسلم و مومن ہونے کی حیثیت سے قبول کر لیں۔

تاکہ اس چالیس سالہ جوانی اور زندگی بسر کرنے کے بعد کل قیامت کے دن جنت کے ہر دروازوں پر فرشتے تمہارے استقبال کے لئے تمہاری راہ تکیں ، اور یہ اعلان کرتے رہیں کہ کہاں گئی وہ فلاں بنت فلاں جو دنیا میں اپنے آپ کو خدا کے حکم کا پابندی سے اہتمام کیا کرتی تھی اور تم مچل کر یہ کہہ اٹھو کہ ہاں ہاں میں ہی وہ فلاں بنت فلاں ہوں۔

 

اب سوال یہ ہے کہ آج کل تو مسلم یونیورسٹیوں میں بھی مخلوط تعلیم ہو رہی ہے تو اب وہاں کیسے پردگی کو اختیار کیا جائے ؟ تو اس سلسلے میں عرض کردوں کہ کیا بے حجابی اور نیم عریانی کے بغیر کوئی لیکچر سمجھ میں نہیں آئے گا؟ اور کیا کسی مضمون کو سمجھنے کے لیے زیب وزینت والا چہرہ ضروری ہے؟

کیا چھوٹے اور چست لباس کے بغیر کوئی کتاب سمجھی نہیں جاسکتی۔ کیا کلچر کے نام پر والدین کے سامنے ان کی بیٹیوں کو اسٹیج پر بے حیائی کے لباس میں ڈانس کروانا اور نچوانا حصول تعلیم کے لیے ضروری ہے؟ نہیں نا !

لیکن پھر بھی ان بے حیائیوں کا ارتکاب کیا جارہا ہے جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے احوال پیدا ہوجاتے ہیں کہ لوگ عشق و محبت کی جال میں پھنس‌جاتے ہیں، اور عشق و محبت کی جال میں پھنسنا کوئی بعید نہیں کیونکہ سائنس بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے، چونکہ سائنس کا وجود بھی قرآن ہی سے ہے اس لئے سائنس کی بھی ایک بات ذکر کئے دیتا ہوں

امریکا کی ایک مشہور ماہر بشریات ( Anthropologist)جس کا نام ہیلن فشر ( Helen Fisher) ہے پچھلے تیس (30) سالوں سے رٹجر یونیورسٹی امریکا ( Rutger University, America) میں ماہر بشریات (Anthropology ) کی پروفیسر ہیں اور انسانی رویے ( Human Behavior ) پر ریسرچ کر رہی ہیں اور اسی موضوع پر کئی کتاب بھی لکھ چکی ہیں انہوں نے اپنے ریسرچ سے بتایا کہ انسان کے جسم میں کچھ ہارمونز (hormones) ہوتے ہیں جیسے ٹیسٹوسٹیرون ( Testosterone) اور یسٹروجین (Estrogens ) اور دماغ میں کچھ نیوروٹرانسمیٹر ( neurotransmitters ) ہوتے ہیں جیسے ڈوپامائین (Dopamine) اور سیروٹونن ہوتے ہیں(Serotonin) اور وہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں جو کسی بھی شخص کے رویے کو براہ راست طور پر متاثر کرتے ہیں.اور وہ کہتی ہیں کہ جب بھی کسی مرد کی نظر کسی عورت پر پڑتی ہے تو یہ ہارمونز اور نیوروٹرانسمیٹر (neurotransmitters) سرگرم اور ایکٹيو ہو جاتے ہیں اور پھر مرد اس عورت کو دیکھ کر اشتعال انگیز ہو جاتا ہے اور بیتاب ہوجاتا ہے اور وہ اس وقت ہوتا ت جب یا تو عورت بہت خوبصورت ہو یا اسکے جسم کے ( ابھار) نشیب و فراز دکھائی دیتے ہوں یعنی بے پردگی کو اختیار کرتی ہو اور ایسا صرف انسان میں ہی نہیں بلکہ پرندوں اور جانوروں میں بھی ہوتا ہے ۔

 

بہر حال پھر جب عشق و عاشقی کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر ان احوال میں ہزاروں نہیں؛ بلکہ لاکھوں لوگ ایڈز کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اور محبت میں ناکامی کی وجہ سے اگر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خودکشی کرتے ہیں تو اس میں حیرت ہی کیا ہے؟

اور اگر اسقاط حمل کی وجہ سے لاکھوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں تو یہ کونسی تعجب کی بات ہے ؟ اور اگر اسی وجہ سے پورا گھرانا بدنامی کا لقمہ بن جاتاہے تو کیا رونے کی بات ہے؟ اگر حرامی اولاد پیدا ہوکر نافرمانی کا بدل بن جاتی ہے تو افسوس کی کیا بات ہے؟ اگر اسی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑجائے تو کیا پچھتانا ؟ اگر اسی وجہ سے کھلے عام پٹنا پڑجائے تو کیا رونا ؟

اللہ تعالیٰ کے قانون کا مذاق اور فطرت کے خلاف جنگ کا بالکل یہی نتیجہ ہونا چاہیے! اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے! اور اپنے حکموں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے!(آمین)


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like