Type to search

تلنگانہ

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک۔ علماء کا داعی اجل کو لبیک کہنا

Qayamat

: امام علی مقصود شیخ فلاحی


موت العالم موت العالم، سرور کائنات جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس قدر جامع اور مصدق ہے کہ ایک عالم دین کی موت پوری دنیا کی موت ہے۔

 

ساتھیوں ! چند ماہ سے مسلسل علماء دین اس دار فانی سے کوچ کر رہے ہیں۔ کیونکہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں، یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں، جب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موت نے اپنے آغوش میں لے لیا اور قرآن نے بھی کہہ دیا :

 

كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ‌ؕ ۞
کہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے، تو ہما شما کی کیا بات ہے۔ موت تو مہربان رب کے دیدار کا ایک ذریعہ ہے؛اگر آدمی کا انتقال نہ ہو تو اپنے رحیم وکریم رب کا دیدار کیسے کرے گا! یہی تو وجہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے موت کو پسند فرماکر، اپنے منبر سے اپنی موت کا یوں اشارہ دیا: ”إِنَّ عَبْدًا خَیَّرَہُ اللَّہُ بَیْنَ أَنْ یُؤْتِیَہُ مِنْ زَہْرَةِ الدُّنْیَا مَا شَاءَ، وَبَیْنَ مَا عِنْدَہُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَہُ“․ فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ:فَدَیْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّہَاتِنَا․(بخاری شریف، حدیث:۳۹۰۴) ترجمہ:اللہ تعالی نے ایک بندے کو اس کے درمیان اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالی ان کو دنیا کی رونق دیں، جتنی وہ چاہے اوران (نعمتوں )کے درمیان جو اللہ تعالی کے پاس ہے؛لہٰذا اس بندے نے ان (نعمتوں)کو اختیار کیا جو اللہ تعالی کے پاس۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ- (سمجھ گئے کہ نبی – صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے موت کو پسند کیا؛لہٰذا ) رونے لگے اور فرمایا:آپ پر ہم اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔

 

بہر حال ! لگاتار علماء اس دار فانی سے رخصت ہو رہے ہیں جنکے بارے میں ارشاد باری ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی معنوں میں رب تعالیٰ سے خوف کھاتے ہیں جیسا کہ قرآن شاہد ہے :

اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ ۞
کہ بیشک اللہ سے حقیقتاً وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم سے آراستہ ہیں۔ خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات کہی ہے کہ (العلماء ورثة الأنبياء) کہ علماء کرام انبیاء عظام کے وارثین ہیں۔ انبیاء کرام نے درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے وراثت میں علم دین کو چھوڑا ہے، جس نے اس ورثہ کو پالیا ، اس نے حظ وافر پالیا‘‘۔ (مسند احمد ، سنن ترمذی؍2682۔ سنن ابوداود؍3641۔ سنن ابن ماجہ؍223۔ مسند احمد؍21763۔شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

اس حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرمادی ہے کہ انبیاء کرام نے درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑے ہیں بلکہ انہوں نے علم دین کی میراث چھوڑی ہے اور یہ علم انتہائی عظیم نعمت اور بیش بہا دولت ہے،اللہ تعالیٰ جس انسان کو بھی اس گنجینۂ رحمت سے بہرہ ور کرے گا اور اسے اس دولت سے فیضیاب فرمائے گا ،وہ حقیقی معنوں میں دین و دنیا میں کامیاب ہوگا۔

 

بہر کیف! علمائے کرام کی قدر و منزلت ، رفعت شانی اور بلند مکانی کے بیان سے کتاب و سنت کے نصوص بھرے پڑے ہیں۔

 

لیکن یہ عالم و علماء متواتر ہمارے درمیان سے جاں بحق ہو رہے ہیں گزشتہ چند مہینوں سے ہنوز کم‌از کم تیس علماء داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں جس میں

مفتی احمد سعید صاحب پالنپوری (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)۔
سید منور حسین (سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان)۔
مولانا عبد الرحیم فلاحی ( استاذ تفسیر و حدیث جامعہ اکل کوا)۔
مولانا محمد رفیق صاحب قاسمی (امیر جماعت اسلامی ہند)۔
مولانا نعیم صاحب ( شیخ الحدیث بنوریہ کراچی).
مولانا حفظ الرحمن صاحب (شیخ الحدیث ادارہ دینیات بمبی)
مولانا وسیم احمد صاحب(شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ گنگوہ)
مولانا عزیز الرحمن ہزاروی (صدر جامعہ دارالعلوم زکریا اسلام آباد)
مولانا محمد شاہد قاسمی ندوی (خادم‌خاص علی میاں ندوی)
مولانا احمد حسین (جامعہ کتر العلوم احمد آباد گجرات)
مولانا سائین حبیب اللہ سموں صاحب ۔
سرفہرست ہیں۔

ساتھیوں ! علماء و فقہاء کا بھی اس دار فانی سے کوچ کر نا بھی قرب قیامت کی علامت ہے کیونکہ حدیث گواہ ہے،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے ( صحیح بخاری ١٠٣٦) اسی طرح صحیح بخاری کی ایک دوسری حدیث ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھاتا کہ بندوں (کے سینوں) سے نکال لے، بلکہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھاتا ہے، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار (مفتی و پیشوا) بنا لیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے (خود بھی) گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔

 

صحیح فرمایا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک عالم کی موت پوری دنیا کی موت ہے ، کیونکہ جب علماء ہی نہیں رہیں گے تو عالم کی بھی کیا ضرورت، جب رہنما ہی نہیں رہے گا تو رہنمائی کون کرے گا ؟

بہر کیف ! معلوم ہوا کہ علماء کا اس عالم سے کوچ کرنا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
ساتھیوں علماء ہمارے لئے بلکہ پورے عالم کے لئے ایک نعمت ہیں، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم علماء کی عزت کریں ، اس نعمت کا شکر ادا کریں، آج ہم نے عزت کرنا چھوڑ دیا ہے ، اس نعمت کا شکر ادا کرنا چھوڑ دیا ، یہی وجہ رہی کہ اللہ ہم سے اس نعمت کو دھیرے دھیرے چھین رہا ہے کیونکہ اللہ کا بھی فیصلہ ہے ، قرآن کہتا ہے :

لَئِنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ وَلَئِنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:
اگر تم شکر گزار رہے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہوگا۔

 

آج ہم نے اللہ کی نعمت (علماء) پر اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ انہیں دنیاوی اعتبار سے کمتر علم والا سمجھا انکی عزت و احترام سے منہ موڑا جس کے ناطے اللہ نے ہم سے اس نعمت کو چھیننا شروع کر دیا ہے ، اس لئے آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم عالم و علماء کی عزت کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں عالم و علماء اور وارثین انبیاء سے سرفراز فرمایا ہے۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like