Type to search

تلنگانہ

دارالسلام میں شہریت قانون کے خلاف احتجاجی جسلہ، جو اس قانون کے خلاف وہ اپنے گھر پر ترنگا لہرائے: اویسی

حیدرآباد،22ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) یونائیٹڈ مسلم ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی جلسے میں بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین ور کن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لڑائی مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کو بچانے کی لڑائی ہے۔ ہندوستان کے آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔ اور لڑائی میں ہندو، دلت درج فہرست طبقات کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے علاوہ این آر سی اور این پی آر بھی سیاہ اقدامات ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہر شہری کو آواز بلند کرنا ہوگا، ورنہ نوٹ بندی کے وقت جس طرح لائن میں کھڑے ہونا پڑا تھا اسی طرح سے ہر ایک کو لائن میں کھڑا ہونا ہوگا۔

اب ضروری ہوگیا ہے کہ تلنگانہ، کیرالا حکومت کی طرح این پی آر پر روک لگانے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ بتادیں کہ این پی آر 20 اپریل 2020 کو شروع ہورہا ہے۔ اور یہ این سی آر کی طرف پہلا قدم ہے۔ اسکے ذریعہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری ہی نہیں بلکہ بے وطن اور بے گھر بنانے کی تیاری ہے۔ ضروری ہے کہ شہری قانون اور این آر سی کے خلاف اتحاد کی ضرورت ہے اور اس لڑائی کو پر امن طریقہ سے جتنا ہے۔ تشدد کو اختیار نہیں کرنا ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کرنے والے گوڈسے کی اولاد ہے۔ ہم دستور کے ماننے والے ہیں۔

اس جلسے میں انسانی سمندر کو سیلاب تھا۔ دارالسلام کے باہر بھی لوگوں کو کھڑے ہوکر جلسہ کی سماعت کرتے دیکھا گیا۔ اس جلسہ میں مرد و خواتین ، نوجوانوں اور طلبہ کی کثیر تعداد نے حصہ لیا۔  اسدالدین اویسی نے ہر جلسہ میں کہا کہ اگلے دن ہر شہری کو اپنے گھر پر ترنگا لہرانے کے لیے کہا ، جس سے بی جے پی کو یہ معلوم ہو کہ یہ گھر ایک ہندوستانی کا ہے۔ اور ملک میں گاندھی اور امبیڈکر کا دستور زندہ ہے۔ یہ ملک گاندھی ، مولانا آزاد اور نہرو  میدان میں ہر جگہ ترنگے لہرائے جارہے تھے، اور پر زور آواز میں نعرے لگائے جارہے تھے، مرد و  خواتین اپنے ہاتھوں میں مخالف این آر سی اور سی اے اے پلے کارڈ تھامے ہوئے تھے۔

بیرسٹر اسدالدین اویسی نے دہلی کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم جامعہ ­ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرس کو شدید تنقید کانشانہ بنایا اور کہا کہ ان دونوں وائس چانسلرس کی اجازت سے ہی پولیس یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئی۔ اویسی نے دونوں ایوانوں میں اس قانون کے خلاف ووٹ دینے پر ٹی آر ایس پارٹی کا شکریہ ادا کیا۔اور آندھرا کے سی ایم جگن موہن ریڈی سے خواہش کی کہ وہ بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیں، اویسی نے ملک ان تمام یونیورسٹیوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ اظہار یگانگت کی۔انہوں نے پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت کاروائی کامطالبہ کیا جنہوں نے یونیورسٹیوں میں بچوں پر ظلم کیا۔

بیرسٹر اسدالدین نے کہا کہ 30 جنوری 2020 کو گاندھی جی کے قتل کے دن اور 23مارچ بھگت سنگھ کی شہادت کے دن اور 14 اپریل ڈاکٹر امبیڈکر کی پیدائش کے دان ہم دستور بچاؤ دن کے طور منائیں گے۔

اس جلسہ کی خاص بات یہ رہی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائرل لڑکیاں اس جلسہ میں شریک ہوئی اور اپنا احتجاج درج کروایا۔ یہ وہی لڑکیاں ہیں جنہوں نے ایک لڑکے کو بچاتے ہوئے پولیس کو بار بار انتباہ دیا تھا اور سخت احتجاج کیا تھا۔ اسکے بعد یہ لڑکیوں کی فوٹو ہندوستان بھر میں وائر ہوگئی۔

جلسہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ کی تقریریں

لدیدہ فرزانہ: جو شیدید بیمار تھی اس کے باوجود جلسہ میں شرکت کی۔ انہوں نے اس اجتماع کی دعوت دینےکے لیے شکریہ ادا کیا۔ لدیدہ نے اس قانون کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو سلام پیش کیا۔ اور احتجاج کے دوران شہید ہونے والے افراد کو سلام کیا۔ اور چندر شیکھر آزاد کی جدوجہد اور گرفتار پر ان کو سلام کیا۔ بیرسٹر اویسی ہمارے قائد ہیں، اور انکے ساتھ ہیں۔ لدیدہ نے سب سے اپیل کی کہ وہ اس لڑائی میں شامل ہو۔

عائشہ رینا: انہوں نے شہریت قانون اور این آر سی پر احتجاج کرنے والے اسٹوڈنٹ کے خلاف پولیس کی ذیادتی کی سخت مذمت کی۔ پولیس نے طلبہ پر ظلم کیا، لائبریری میں گھس کر مارا، مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو نشانہ بنایا، اس دوران گرفتار ہوئے اسٹوڈنٹ کو رہا کرنے کی اپیل کی۔

اسکے علاوہ اس احتجاجی جسلہ میں شہر کے بڑے عملما اور ماہر تعلیم اور یونیورسٹی کے پروفیسر اور اسٹوڈنٹس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اور ہر کسی نے اس شہریت قانون کی مخالفت کی۔

انکے نام اسطرح ہے۔ مولانا مفتی خلیل احمد، مولانا سید قبول پاشاہ شطاری، مولانا محمد جمال الرحمن مفتاحی، جناب عبدالودود امان، محترمہ عائشہ رینا، محترمہ لدیدہ فرزانہ، کیپٹن ایل پانڈورنگا ریڈی، ڈاکٹر کے چرنیجوری، ڈاکٹر اسما زہرہ، محترمہ ویملا، محترمہ سندھیا ایڈوکیٹ، محترمہ صبحیہ، مشیر زماں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کوپی سوامی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، شرت چمار عثمانیہ یونیورسٹی، مولانا صادق محی الدین، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، مولانا حامد محمدخان، مولانا صفی احمد مدنی، جناب ضیا الدین نیر، مولانا ڈاکٹر نثار حسین حیدرآغا، مولانا مسعود حسین مجتہدی، مولانا حافظ پیر شبیر احمد، مولانا غیاث احمدرشادی، مولانا مفتی ضیا الدین نقشبندی، مولانا مفتی تجمل حسین، مولانا محمد فصیح الدین نظامی، مولانا سید اولیا حسینی مرتضی پاشاہ، مولانا حسان فاروقی، مولانا سید آل مصطفے قادری، مولانا ممشاد پاشاہ قادری، مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی، مولانا سید احمد الحسینی سعید القادری، مولانا حافظ احسن الحمومی، مولانا ظہیر الدین علی صوفی، ذاکر حسین جاوید، وغیرہ نے اپنی تقاریر کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس قانون کی سخت مذمت کی اور اپنا احتجاج درج کروایا۔

Tags:

You Might also Like