Type to search

تلنگانہ

نشے کی حرمت

نشے کی حرمت

:امام علی مقصود شیخ فلاحی


نشے کی حرمت

فقہاء نے نشہ آور اشیاء کے موضوع پر کافی اچھی بحث تحریر کی ہے اور ان اشیاء کو تین پہلوؤں سے بحث کا موضوع بنایا ہے۔
ایک تو نتیجہ کے اعتبار سے کہ ان اشیاء کی وجہ سے ان کے عقل و شعور پر کیا اثر پڑے گا۔

دوسرے ان اجزاء کے لحاظ سے جو ان نشہ آور شیاء میں استعمال کئیے جاتے ہیں، مثلاً یہ شراب انگور کی ہے یا کھجور کی۔
تیسری جہت یہ ہے کہ نشہ آور اشیاء کی نوعیت کیا ہے، ایا وہ سیال ہے یا جامد۔

لیکن موجودہ دور میں نشہ آور چیزوں کی یہ تقسیم کافی نہیں ہے، کیونکہ اب بہت سی صورتیں نشہ آور اشیاء میں پیدا ہو گئی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اب مختلف کیمیکلز کی ترکیب سے بھی نشہ آور چیزیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ایسے ایسے اسپرے پیدا ہو گئے ہیں کہ صرف انکو سونگھنے سے بھی نشہ کی حالت میں انسان چلا جاتا ہے۔ اسی طرح سانپ کا زہر بھی نشہ کا کام کرتا ہے جب تک اسکا نشیڑی اپنے آپ کو سانپ سے نہیں ڈساتا اس وقت تک اسے چین نہیں آتا۔

منشیات کی تعریف : نشہ آور چیزوں سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جنکے استعمال سے وقتی طور پر عقل و خرد کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے نیز جسم بھی اپنے اعتبار سے کار کردگی میں ضعف کا شکار ہو جاتی ہے۔

منشیات کی تاریخ : کہا جاتا ہے کہ انسان نے تقریباً آٹھ ہزار قبل مسیح میں شہد کو بطور نشہ استعمال کیا، اسی طرح ساڑھے چھ ہزار سال قبل مسیح میں انسان نے توت سے شراب تیار کیا۔

منشیات کی قسمیں : منشیات کی دو قسمیں ہیں۔ (١) الکحلی ۔ (٢) غیر الکوحلی ۔

الکحل ایک کیمیائی مادہ ہے جو کاربن و ہائیڈروجن کے علاوہ ہائیڈرواکسایڈ کے مجموعہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسکی بہت سی قسمیں ہیں جس میں ایتیل الکحل اور میتیل الکحل اہم ہیں ۔
ایتیل الکحل پھلوں یا غلوں کی تخمیر کے دوران پیدا ہوتا ہے، یہ سیال مادہ پانی کی طرح ہوتا ہے جو بہت ہی زہریلا ہوتا ہے اور بہت ہی جلد آگ پکڑتا ہے۔
الکحل کی دوسری قسم میتیل جو لکڑی کو تقطیر کے عمل سے گزار کر حاصل کی جاتی ہے ، یہ اپنے اثرات کے اعتبار سے انتہائی زہریلی ہوتی ہے اور اسکے استعمال سے انسان اندھا یا پاگل ہوجاتا ہے۔
بہر حال الکحلی منشیات میں خاص طور سے شراب شامل ہے ۔
شراب کا اطلاق خاص طور سے اس مواد پر ہوتا ہے جو الکحل کی کم از کم اتنی مقدار پر شامل ہو کہ جو عقل کو نقصان پہنچاے اور جسمانی امراض کا سبب بنے ۔
شراب کی بنیادی طور پر پانچ قسمیں ہیں : ١۔ عام شراب ( WINES & BEER)۔
٢۔ مقطر شراب ( DISTILLED LIQUORS ).
٣۔ مخلوط شراب ( COCKTAILS).
٤۔ دیسی شراب ( TODDY )۔
٥۔ غیر الکوحلی شراب (NON ALCOHOLIC )۔

غیر الکوحلی منشیات وہ منشیات ہیں جس میں الکحل شامل نہیں کیے جا تے ہیں۔

غیر الکوحلی منشیات کی دو قسمیں ہیں : (١) طبعی منشیات (٢) غیر طبعی منشیات۔

طبعی منشیات سے مراد وہ نشہ آور مادہ ہے جو نیند کی کیفیت پیدا کرتی ہے ۔
طبعی منشیات بہت سے پودوں سے حاصل کی جاتی ہیں جس میں اہم حسب ذیل ہیں۔

پوست ، افیون ، حشیش ، کوکا ، بھانگ ، دھتورا ، اور تمباکو وغیرہ ۔

غیر طبعی منشیات (ڈرگز) سے مراد ایسی نشہ آور چیزیں ہیں جنہیں مصنوعی طور پر تیار کیا جاتا ہے، بنیادی طور پر یہ چار طرح کی ہوتی ہیں۔ جو درجہ ذیل ہیں۔

نشاط انگیز (AMPHETAMINS)
سکون بخش (TRANQUILLIZER)
خواب آور ( BARBITURATE )
فریب خیال ( HALLUCINOGENES)۔

بہر حال نشہ کیسا بھی ہو خواہ وہ الکحلی نشہ ہو یا غیر الکوحلی نشہ ہو ہر قسم کے نشے پر لعنت و پھٹکار ہے، ہر قسم کے نشے کی ممانعت کی گئی ہے۔
سب سے پہلے الکحلی منشیات پر جو لعنت و پھٹکار قرآن و حدیث سے ثابت ہیں انھیں تحریر کرتا ہوں بعدازاں غیر الکوحلی منشیات کے حرمت پر تبصرہ کرتا ہوں۔

مسند احمد کی روایت ہے : حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا ہے کہ شراب تین مرحلوں میں حرام ہوئی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ شراب پیتے اور جوئے سی آمدنی کھاتے تھے، ایک مرتبہ لوگوں نے اسکا حکم دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ ۞
ترجمہ:
وہ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔
لوگوں نے اس آیت سے یہ سمجھا کہ ابھی یہ چیزیں حرام نہیں کی گئی ہیں بلکہ انکے نقصانات بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ وہ بدستور شراب پیتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن مہاجرین میں سے ایک شخص نے مغرب کی نماز پڑھائی اور قرأت میں خلط ملط کر دیا تو اللہ نے پہلی آیت سے زیادہ سخت آیت نازل فرمائی :

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى ..الخ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو، نشے کے حال میں نماز کے پاس نہ جایا کرو۔
لیکن لوگ اب بھی پیتے رہے یہاں تک کہ اس حالت میں نماز کا وقت آجاتا ، اب مزید سخت آیت نازل ہوئی اور فرمایا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والوں، شراب، جوا تھان، اور پانسے کے تیر بالکل نجس شیطانی کاموں میں سے ہیں ۔
اب لوگوں کو سمجھ میں آئی کہ بیشک شراب حرام ہے۔
ذرا غور کریں کہ شراب کتنی خراب چیز ہے کہ اسے تین مرحلوں میں حرام کیا گیا۔

اسی طرح ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے، جس میں سے ایک شراب پینے والا ، دوسرا والدین کی نافرمانی کرنے والا، اور تیسرا دیوث۔
صحیح البخاری کی روایت ہے : حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا ، اسی طرح نہ چوری کرنے والا اور نہ ہی شراب کرنے والا۔
بہر کیف ان تمام آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ الکحلی منشیات بالکل حرام ہے۔

غیر الکوحلی منشیات کا شرعی حکم : غیر الکوحلی منشیات کے لئے آج کل جو اصطلاح رائج ہے وہ ہے “محذورات” یہ اسم فاعل ہے اسکا مصدر ہے ‘تحذیر’ لغت میں اسکا اطلاق کئی معنوں پر ہوتا ہے جن میں اہم فتور، کسل و جبر کی وہ کیفیت ہے جو نشے کی ابتدائی دور میں ہوتی ہے ۔
لیکن افسوس صد افسوس آج کل محذورات کے متعلق یہ غلط فہمی عام ہے کہ یہ شرعاً حرام نہیں ہے، اگر اس میں کوئی قباحت ہے بھی تو وہ زیادہ سے زیادہ مکروہ ہے، اس لئے کہ اس کی حرمت پر کوئی نص صریح موجود نہیں ہے ۔
شمس الائمہ کرخی سے جب محذورات کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی صراحت کردی کہ محذورات کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ اور انکے ساتھیوں سے کچھ بھی منقول نہیں ہے اس لئے کہ اس زمانے میں اس کا چلن نہیں تھا۔
اور ابن تیمیہ سے یہ بھی منقول ہے کہ محذورات کے سلسلے میں ائممہ اربعہ سے کچھ بھی منقول نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے زمانے میں محذورات کا وجود ہی نہیں تھا اسکا ظہور تو ساتویں صدی ہجری میں ہوا ۔یہی وجہ ہے آج کل لوگ محذورات کے سلسلے میں غلط فہمی کے شکار ہو چکے ہیں ۔
جبکہ ابن تیمیہ نے اس سلسلے میں لکھا ہے “کہ یہ کہنا کہ اس کی حرمت کی سلسلے میں نہ کوئی آیت ہے نہ حدیث تو یہ در اصل جہالت کا نتیجہ ہے اس لئے کہ قرآن و حدیث میں ایسے جامع کلمات موجود ہیں، جس میں عام اصول و ضوابط بیان کردئے گئے ہیں جو ان تمام چیزوں کو شامل ہے ، اس طرح یہ قرآن و حدیث میں اسکے عموم کے تحت مذکور ہے اس لیے کہ ہر چیز کا ذکر اس کے نام کے ساتھ ذکر ممکن نہیں ہے” ۔
محذورات کی حرمت قرآن سے : اللہ نے شراب کو حرام قرار دیا یہ بات تو واضح ہے، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔
اور حرمت شراب کی ایک وجہ یہ ہے کہ شراب انسان کو ذکر الٰہی اور ذکر اللہ سے غافل کرتی ہے ،‌جیسا کہ فرمان باری ہے :

اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ ۞
ترجمہ:
شیطان تو بس یہ چہات ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو بتاو کیا اب تم ان سے باز آتے ہو۔
اور یہ خصوصیت (ذکر اللہ سے غافل کرنا) چونکہ محذورات میں بھی پائی جاتی ہے لہذا اس آیت کے تحت محذورات بھی حرام ہے۔
قرآن نے خبیث چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:

وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡخَبٰۤئِثَ ۞
ترجمہ:
اور وہ خبیث چیزیں حرام کرتا ہے ۔
اور خبیث چیزوں میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو انسان کے لیے مضر ہیں چونکہ محذورات کا شمار بھی خبیث چیزوں میں ہے کیونکہ یہ چیزیں بھی انسان کے لیے مضر ہوتی ہیں، بہر حال اس آیت کے تحت بھی محذورات کا حرام ہونا قرار پایا۔

محذورات کی حرمت حدیث پاک سے: مسند الامام احمد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
“كل مسكر خمر و كل مسكر حرام”
کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہےاور ہر نشہ آور اشیاء حرام ہے۔
اسی طرح الاشریہ لاحمد بن حنبل کی روایت ہے: “نهى رسول الله صلي الله عليه وسلم عن كل مسكر و مفتر”
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور اشیاء کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث اس اعتبار سے کافی واضح ہے کہ نشہ کا تعلق چاہے مسکر سے ہو یا مفتر سے جسے آج کل محذورات کہا جاتا ہے ہر حال میں حرام ہے۔
اسی طرح کنز العمال کی روایت ہے : “الا ان كل مسكر حرام و كل مخدر حرام وما اسكر كثيره حرام قليله وما خمر العقل فهو حرام”
کہ ہر نشہ آور اور تحذیز کی کیفیت پیدا کرنے والی چیزیں حرام ہیں ، جسکی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے،اسی طرح جو چیز عقل پر پردہ ڈال دے وہ بھی حرام ہے۔
اس حدیث میں منشیات کی حرمت کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے۔
معلوم ہوا کہ ہر قسم کی نشہ آور چیزیں حرام ہیں۔ قرآن و حدیث میں اس پر لعنت و پھٹکار کی گئی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم نشہ آور چیزوں سے کوسوں دور رہیں ، خود بھی بچیں اور اپنے آل و اولاد کو بھی پچائیں۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like