Type to search

تعلیم اور ملازمت

خانگی ٹیچرس تنخواہ نہ ملنے سے مالی پریشانی سے دوچار

حیدرآباد،19مئی (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) لاک ڈاؤن میں تلنگانہ میں نجی اسکولوں کے ٹیچرس مارچ کے وسط سے ہی تنخواہ نہیں ملنے کی وجہ سے مالی تنگی جھیل رہے ہیں۔ ان میں سے کئی اس لاک ڈاؤن میں کھیتی باڑی کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ ٹیچرس کی ایک تنظیم نے منگل کو یہ معلومات دی۔

تلنگانہ پرائیوٹ ٹیچرس فورم کے صدر شیخ علی شبیر علی نے دعوی کیا کہ ریاست میں تقریبا 11700 سرکاری تسلیم شدہ نجی اسکول ہے۔ جن میں تقریبا 1.50 لاکھ اساتذہ ملازم ہے اور انہیں 15مارچ سے تنخواہ نہیں ملا ہے۔ کوئی آپشن نہیں ملنے پر کچھ نجی اسکولوں کے اساتذہ اب گاؤں میں کھیتی کرنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔

شیخ شبیر علی نے کہا ایسوی ایشن نے لاک ڈاؤن لاگو ہوتے وقت حکومت ہدایات اور جاری سرکولر کے مطابق اساتذہ کو تنخواہ ملنا چاہیئے تھا لیکن اسکول انتظامیہ اساتذہ کو تنخواہ نہیں دے رہے ہیں۔ علی نے کہا کہ ذیادہ تر اساتذہ گاؤں سے شہری علاقوں میں آکر رہنے لگے تھے۔ اس لیے انکے پاس راشن کارڈ نہیں ہے۔ اس سے انہیں حکومت سے مفت اناج اور مالی امداد نہیں مل پا رہی ہے۔

تنظیم نے 16 مئی کو وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤ کو تنخواہ ادائیگی کے درخواست اور نجی اسکولوں کے اساتذہ کی دیگر مسائل کے بارے میں خط لکھا۔ رابطہ کیے جانے پر تلنگانہ کے منظور شدہ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر پاپی ریڈی نے کہا کہ تنخواہ کی ادائیگی کرنے میں دیری ہوگئی کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران والدین سے اسکول کی فیس ٹھیک سے نہیں مل پائی۔ انہوں نے کہا کہ پھر سے اسکول کھولنے پر تنخواہ کی ادائیگی کی جائے گی۔ ریڈی نے کہا کہ مارچ تک تنخواہ کی ادائیگی کی گئی تھی۔

بتادیں کہ کئی اسکول انتظامیہ اپنے اسٹاف کو آدھی تنخواہ دی ہے اور بعض ملازمین جو پی ایف رکھتے ہیں ان سے اصرار کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے پی ایف اکاؤنٹ سے پیسے نکال لیے، انہیں بعد میں تنخواہ دی جائے گی۔ بتادیں کہ پی ایف میں لوگ اپنے مستقبل کے لیے پیسے جمع کرتے ہیں ، اپنے بچوں کی شادی اور دیگر چیزوں کے لیے جمع کرتے ہیں اور ایسے میں انتظامیہ انہیں پی ایف کے پیسے نکالنے پر مجبور کررہے ہیں۔