Type to search

ٹی وی اور فلم

پریم چوپڑا برتھ ڈے اسپیشل : پریم نام ہے میرا، پریم چوپڑا

پریم چوپڑا

فلمی ڈسک،23ستمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) بالی ووڈ کے بڑے ایکٹر پریم چوپڑا آج اپنی سالگرہ منارہے ہیں۔ پریم چوپڑا اور انکا مشہور ڈائیلاگ پریم نام ہے میرا، پریم چوپڑا، دونوں ہی فینس کو خوب یاد ہے- پریم چوپڑا نے کئی دہائیوں تک ہندی سینما پر راج کیا لیکن ہیرو نہیں ویلن بنے۔

پریم چوپڑا کی پیدائش 23 ستمبر 1935 کو لاہور میں ہوئی- انکی والد کا نام رنبیر لال چوپڑا اور والدہ کا نام روپانی چوپڑا ہے- وہ اپنے فیملی کے چھ بچوں میں تیسرے نمبر پر ہے- انکی پرسنل لائف کی بات کریں تو انکی بیوی کا نام اوما چوپڑا ہے- اوما اور پریم چوپڑا کی 3 بیٹیاں ہے- پریرنا چوپڑا، پونیتا چوپڑا، اور راکیتا چوپڑا ہے- تینوں بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی ہے-

پریم چوپڑا نے ہندی سنیما کی دنیا میں ویلن کا کردار ادا کرکے کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیا۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں ویلن کے کرداروں کو اتنی بخوبی سے نبھایا کہ اصل زندگی میں لوگ انہیں سچ میں ویلن ماننے لگے تھے-

لاہور میں پیدا ہوئے پریم نے بھی اپنی زندگی میں بٹوارے کا درد براشت کیا ہے- ہندوستان کے تقسیم کے بعد پریم چوپڑا کا خاندان شملہ آکر بس گیا- پریم چوپڑا پڑھنے لکھنے میں کافی تیز تھے اس لیے انکے والد چاہتے تھے کہ وہ آگے چل کر آئی پی ایس افسر بنے-

لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا- پریم کے والد کی سرکاری نوکری تھی- جسکی وجہ سے انکا ٹرانسفر ہوتا رہتا تھا- والد کا ٹرانسفر پنجاب ہونے کی وجہ سے پریم چوپڑا نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے کالج کے ڈرامہ میں حصہ لیا اور یہی سے انہیں ایکٹینگ کا مزہ لگ گیا-

 

View this post on Instagram

 

#premchopra

A post shared by villainsofbollywoodmovies (@villainsofbollywoodmovies) on

پریم چوپڑا نے اپنے کیریئر کی شروعات کی سال 1960 میں فلم موڑ موڑ کے نہ دیکھ سے، حالانکہ اس فلم سے پریم چوپڑا کے کیریئر کو کوئی خاص تعریف نہیں مل سکی جسکے بعد انہوں نے پنجابی فلموں میں کام کرنا شروع کیا-

پریم نے کئی پنجابی فلمیں کی اور انڈسٹری میں اپنا نام کمایا- وہی بالی ووڈ میں پریم نے شہید، ہم ہندوستانی، وہ کون تھی؟ جانور، میرا سایا، پریم پجاری، پروب اور پچم، کٹی پتنگ، دو انجانے، کالا سونا، دوستانہ، کرانتی، پھول بنے انگارے، جیسے کئی اور شاندار فلموں میں کام کیا اور ناظرین کے دلوں میں اپنی خاص جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے- پریم چوپڑا کو آخری بار فلم لائف آف ڈیسنٹ میں دیکھا گیا تھا جو پچھلے سال یعنی 2019 میں ریلیز ہوئی تھی-

انکے فلمی ڈائیگ آج بھی مشہور ہے اور انہیں دہرایا جاتا ہے۔

پریم نام ہے میرا ، پریم چوپڑا
پریم کا یہ ڈائیلاگ فلم بوبی کا ہے۔ یہ فلم سال 1973 میں آئی تھی- اس فلم میں رشی کپور، ڈمپل کپاڈیہ اور پران اہم رول میں تھے-

شرافت اور ایماندی کا سرٹیفیکیٹ یہ دنیا صرف انہیں دیتی ہے جنکے پاس دولت ہوتی ہے
یہ ڈائیلاگ سال 1989 میں آئی فلم آگ کا گولا، کا ہے، اس فلم میں پریم چوپڑا کے ساتھ سنی دیول ، ڈمپل کپاڈیہ اور شکتی کپور سممیت کئی دیگر فنار تھے-

کیلاش خود نہیں سوچتا دوسروں کو مجبور کرتا ہے سوچنے کے لیے
فلم کٹی پتنگ کا یہ ڈائیلاگ بھی بہت مشہور ہوا تھا- یہ فلم سال 1971 میں آئی تھی- اس فلم میں راجیش کھننہ، آشا پاریک، بندو، نذیر حسین اور مدن پوری جیسے کئی اسٹارس تھے-

میں وہ بلا ہوں جو شیشے سے پتھر کو توڑتا ہوں
سال 1983 میں آئی فلم سوتن کا یہ ڈائیلاگ آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے-

جن کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں، وہ بتی بجھا کر کپڑے بدلتے ہیں
سال 1983 میں آئی فلم سوتن کا یہ ڈائیلاگ تو تب سے لیکر آج تک لطیفوں میں شامل رہا ہے- اس فلم میں راجیش کھنہ، پدمنی نے کام کیا تھا-

ننگا نہائے گا کیا نچھوڑے گا کیا
سال 1998 میں آئی دولہے راجہ کا یہ ڈائیلاگ کافی مشہورا ہوا- اس فلم میں گویندا، قادر خان، روینہ ٹنڈن نے کام کیا تھا-

کر بھلا تو ہو بھلا
اس شاندار کہاوت کو پریم چوپڑا اور گلشن گروور کی جوڑی نے فلم راجا بابو میں شاندار طریقے سے پیش کیا تھا- یہ فلم سال 1994 میں آئی تھی-