Type to search

بین الاقوامی

پرائیوٹ پارٹ میں تمباکو کیوں رکھ رہی ہے خواتین، ڈاکٹروں نے دیا انتباہ

افریقہ،18جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) نشے کے طور پر استعمال ہونے والے تمباکو کا استعمال اب سیکس ڈرائیو کو بوسٹ کرنے کے لیے بھی کیا جانے لگا ہے۔ ڈیلی اسٹار کی  ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کی طرف سے اندام نہانی(وجینا) میں تمباکو  رکھ کر سیکس ڈرائیو کو بوسٹ کرنے کے واقعات لگاتار سامنے آرہے ہیں۔ ڈاکٹرس کا ماننا ہے کہ سیکس کے طلب میں ایسا کررہی خواتین اپنی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہیں۔

ایک طرف جہاں لوگ اسے سیکس ڈرائیو کو بوسٹ کرنے کا فارمولہ بتارہے ہیں۔ وہیں، ڈاکٹرس دوسری طرف ڈاکٹرس نے اسے لیکر انتباہ جاری کردیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے آپ ہمیشہ کے لیے جنسی لذت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

تمباکو نوشی کی مصنوعات کے ذریعہ سیکس ڈرائیو کو بوسٹ کرنا مو کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ پروفیسر پاسکل فومانے تمباکو السر جیسی بیماریوں کی وجہ بن جاتی ہے۔ جو وجینا کو سکڑا کر، اسے سخت بناتا ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے بند کرستکا ہے۔

سائنس اینڈ ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق تمباکو عام طور ر ہونے والے حیض کو بھی متاثر کرتا ہے۔ گائناکولوجسٹ ابدوولیے ڈوپ کا کہنا ہے کہ یہ  وجینا کے سکڑنے کا بھی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔

وجینا vagina (رحم) میں تمباکو رکھنے والے متاثرین نے محسوس کیا ہے کہ انکے پرائیوٹ پارٹ چھوٹے ہوتے جارہے ہیں کیونکہ انکی مباشرت والے مسلز پچھے کی طرف کھسکنے لگی ہے۔

ڈاکٹر ابدوولیے ڈوپ کا کہنا ہے یہ فیلنگ ٹرانسینٹ اور کونفسنگ  ہے۔ ایسا کرنا Vaginal mucosa وجینل مکوسہ کے لیے خطرناک ہے جسکی وجہ کینسر جیسی بیماری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اس طرح کے زیادہ تر معاملے ویسٹ افریقہ کے ملک سینیگال سے سامنے آئے ہیں۔ یہاں لوگوں میں ایسی غلط فہمیاں ہے کہ 13 پیسے میں ملنے والا تمباکو آپ کو ساتویں آسمان کا احساس کراسکتا ہے۔

بتادیں کہ یہ مصنوعات کا تمباکو کے سکھے پتے، پیڑوں کی جڑوں اور پودوں کے نچوڑ سے حاصل ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ اسے اثر دار بنانے کے لیے  اس میں سوڈا اور شیا مکھن جیسے مادے بھی ملائے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے اسکا استعمال کرنے والے لوگوں نے اسکے سائیڈ ایفیکٹس بھی اجاگر کیے ہیں۔ اس میں چکر آنا اور جلن ہونے جیسی شکایتیں شامل ہے۔

وجینا میں تمباکو رکھ کر سیکس ڈرائیو کو بوسٹ کرنے کے خیال میں جینے والی ایسی ہی خواتین سے سینیگال کی ایک ہیلتھ کیئر ورکر سے بات چیت کر کے انہیں اسکے خطرے کے بارے میں بتا رہی ہے۔

Tags: