Type to search

تلنگانہ

جسمانی معراج دلائل و براہین کی روشنی میں

*از :۔ ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی*
کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com., Ph.D (Osm))


جمہور علمائے مفسرین، محدثین، فقہا اور متکلمین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سفر ِ اسرا و معراج بجسدہ العنصری تھا یعنی آپﷺ کو جسمانی معراج ہوئی تھی ۔

واقعہ معراج کا عالم بیداری میں ہونے پر پہلی دلیل: قرآن حکیم میں لفظ اسریٰ کا استعمال جسم و روح کے ساتھ کسی کو لیجانے کے لیے ہوا ہے چنانچہ جب حضرت سیدنا لوطؑ کی قوم کا کردار انتہائی مسخ ہوچکا تھا اور ان کی حضرت سیدنا لوطؑ کی شان میں گستاخیاں حد سے تجاویز کرچکیں تو فرشتوں نے کہا ’’اے لوط! ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہ پہنچاسکیں گے پس آپ لیکر نکل جایئے اپنے اہل و عیال کو‘‘ (سورۃ ھود آیت 81) یعنی جب قوم لوط سرکشیوں و نافرمانیوں میں غرق ہوچکی تو اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمالیا اسی لیے حضرت سیدنا لوط ؑ کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اس بستی سے چلے جائیں۔ اس آیت پاک میں لفظ ’’اسر‘‘ جسد و روح کے معنی میں مستعمل ہے۔ربِ کائنات واقعہ اسرا کو بیان کرتے ہوئے اسی لفظ کا استعمال فرمانا گویا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نبی مکرمﷺ کا سفر اسرا روحانی یا منامی نہیں بلکہ جسمانی تھا۔

 

دوسری دلیل : جب بندہ عاجز کی عقل اس محیر العقول واقعہ کو تسلیم کرنے سے عاجز آچکی اور وہ اس واقعہ کو امر محال سمجھ رہا تھا تو خالق کونین نے دنیا انسانیت کو بتانے کے لیے کہ یہ واقعہ ساری انسانیت کے لیے محال ضرور ہوسکتا ہے چونکہ بندہ عاجز و مجبور ہے لیکن جس ذات نے اپنی محبوب کو یہ عظیم الشان سفر کروایا ہے اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے چونکہ وہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اسی لیے اس سفر کا بیان رب کائنات نے لفظ ’’سبحان‘‘ سے فرمایا جو خود اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپﷺ کو جسمانی معراج ہوئی ۔

تیسری دلیل : اگر بالفرض محال یہ روحانی یا منامی معراج ہوتی ہے تو منکرین و مخالفین اسلام واقعہ معراج کا انکار نہ کرتے چونکہ حالت نیند میں تو کچھ بھی ممکن ہے۔

اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں نے کل رات خواب میں عرب ، امریکی، یوروپی، افریقی، ایشیائی ممالک اور دنیا کے دیگر خطوں کا مشاہدہ کیا ہے تو ہر فطرت صحیحہ کا حامل فرد اس قول کو بلا تامل مان لیگا چونکہ یہ خواب کی بات ہے اعتراض تو اسی وقت ہوگا جب کوئی حالتِ بیداری میں دیکھنے کا دعویٰ کرے ۔ اگر واقعہ معراج روحانی ہوتا تو کفار و مشرکین اس واقعہ کی سماعت کے بعد تعجب اور حیرت کا اظہار نہ کرتے ،طعنہ و تشنہ کے تیر نہ چلاتے ، ہرزہ سرائی اور غوغا آرائی کی جرأت نہ کرتے، آپﷺ کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے نہ پھرتے، تمسخر اڑانے اور جھٹلانے کی کوشش نہ کرتے جیسا کہ اس حدیث پاک سے مترشح ہے جو حضرت سیدنا جابر ؓ سے مروی ہے فخرِ موجودات ارشاد فرماتے ہیں میں نے معراج کا واقعہ لوگوں سے ذکر کیا جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حجر (حطیم) میں کھڑا ہوگیا اور اللہ تعالی نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر قریش کو اس کی نشانیاں بیان کرنا شروع کردیں(شیخین) مذکورہ بالا کفار و مشرکین کی نازیبا حرکات اور اعتراضات بذات خود جسمانی معراج پر دال ہیں۔

چوتھی دلیل : سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رب قدیر نے ’’اسریٰ بعدہ ‘‘ فرمایا ہے ’’اسریٰ برسولہ‘‘ یا ’’اسریٰ بنبیہ‘‘ نہیں فرمایا اس کی حکمت علمائے کرام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ ذات بابرکت جو مستقل جسد اور روح کے ساتھ من جانب الہی بندوں کی طرف مبعوث ہو انہیں رسول یا نبی کہتے ہیںاور وہ ہستی جو مستقل جسد اور روح کے ساتھ بندوںکی طرف سے اللہ تعالی کے حضور حاضر ہوں انہیں عبد کہتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب بندہ ’’سبحان اللہ و بحمدہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر تبارک اللہ‘‘ کہتا ہے تو ان جملوں کو ایک فرشتہ اپنے پروں کے نیچے محفوظ کرلیتا ہے تو اور آسمان کا رُخ کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کے حضور میں پہنچ جاتا ہے‘‘ (تفسیر ابن کثیر) رب کے حضور پہنچنے والے اس فرشتے کو عبد نہیں کہا جاتا چونکہ وہ روحانی مخلوق ہے۔ اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی رحمتﷺ کو جسمانی معراج ہوئی تھی نہ کہ روحانی۔

پانچویں دلیل: آقائے نعمت نے مسجد اقصیٰ میں تمام رسل و انبیائے سابقین اور فرشتوں کی امامت فرمائی ۔

اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ ارکان نماز (یعنی تکبیر تحریمہ، قرأت، قیام، رکوع، سجود، تشہد وغیرہ ) اور فوائد و برکاتِ نماز (یعنی مساواتِ انسانی، وقت کی پابندی، اتحاد و بھائی چارگی، عاجزی و انکساری، غرور و تکبر سے دوری ، محبت و الفت باہمی وغیرہ ) کا تعلق انسان کے جسم سے ہے اس سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ رب ذو الجلال نے اپنے حبیب ﷺ کو جسمانی معراج سے سرفراز فرمایا۔ مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کو دیگر عبادات میں کیوں فوقیت دی گئی تو اس کی ایک حکمت علمائے ربانیین نے یہ بیان فرمائی کہ نماز کا اہتمام اس لیے کیا گیا تاکہ حقیقت کا یہ پہلو واضح ہوجائے کہ امام الحرمین، صاحب القبلتین، مشرق و مغرب کی امامت کا تاج آپﷺ ہی سراقدس پر رکھا گیا ہے اور ساری عالم انسانیت کی فلاح و کامرانی کا مدار آپﷺ ہی کی پیروی و اطاعت پر ہے۔ اور یہ حکمت اسی وقت ثابت ہوگی جب آپﷺ کو معراج جسد معر الروح کے ساتھ ہو ہو ورنہ واقعہ اسرا و معراج کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔

چھٹی دلیل: جب آپ کسی کو مدعو کرتے ہیں تو صرف روحانی یا جسمانی طور پر نہیں بلاتے بلکہ وہاں روح اور جسد کا مجموعہ ہی مراد ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے کئی عزیز و اقاریب اس دار فانی سے رخصت ہوچکے ہیں جن کی ارواح عالم برزخ میں ہے لیکن ہم انہیں مدعو نہیں کرتے چونکہ وہ صرف روح ہیں جسم نہیں اسی طرح کوئی انسان کسی نعش کو بھی مدعو نہیں کرتا چونکہ وہ صرف جسم ہے روح نہیں ۔ یہ کتنی کم عقلی کی بات ہوگی کہ جب مجبور محض انسان کسی کو مدعو کرتا ہے تو وہاں جسم و روح مراد لیے جائیں اور جس حبیبﷺ کی میزبانی قادر مطلق فرما رہا ہو وہاں صرف روحانی معنیٰ مراد لیے جائیں؟۔ ساتویں دلیل: واقعہ معراج نبی رحمت کا عظیم الشان معجزہ ہے اگر سفر معراج منامی یا روحانی ہوتا تو پھر یہ معجزہ قرار نہ پاتا چونکہ معجزہ کا تعلق جسمانیت سے ہوتا ہے نہ کہ روحانیت سے۔

آٹھویں دلیل: حضرت سیدنا مالک بن صعصعہ ؓسے مروی ہے باعث تخلیق کائناتﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے پاس سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا تھا وہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نگاہ پہنچتی تھی بہرحال مجھے اس پر سوار کیا گیا اور وہ (جبرئیلؑ) مجھے لے کر چل دیے (مسلم شریف) محولہ بالا حدیث پاک سے ثابت ہے کہ سفر اسرا و معراج میں سواری کے لیے براق کا استعمال کیا گیا جو جسم کا تقاضہ ہے روح کو کسی سواری کی ضرورت و احتیاج نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی جسمانی معراج کی تائید کرتی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ رب کائنات براق کے بغیر بھی اپنے حبیب کو سفر کروانے پر قادر ہے لیکن براق کا استعمال آپ کے اعزاز و تکریم اور شرف و اعجاز اور جسمانی معراج پر دلالت کررہا ہے۔ نویں دلیل: سفر معراج میں مصطفی جان رحمت ﷺکی چشمان اقدس نے اپنے رب کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ فرمایا اس کی کیفیت، صفت اور شان بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم کہتا ہے ’’نہ درماندہ ہوئی چشمِ (مصطفیﷺ) اور نہ (حدِ ادب) سے آگے بڑھی‘‘ (سورۃ النجم آیت 17) اس آیت پاک میں چشمانِ اقدس کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہے وہ جسم کا خاصہ ہے نہ کہ روح کا ۔اس سے بھی یہ مستفاد ہوتا ہے کہ آپ کو جسمانی معراج ہوئی ۔ دسویں دلیل: اسرا و معراج والی شب نبی آخر الزماں ﷺکو جو مشاہدات کروائے گئے اس کے متعلق قرآن حکیم ارشاد فرماتا ہے ’’اور نہیں بنایا ہم نے اس نظارہ کو جو ہم نے دکھایا تھا آپ کو مگر آزمائش لوگوں کے لیے ‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل آیت 60) حضرت سیدنا ابن عباسؓ اس آیت پاک میں مذکور نظارہ کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ اس سے مراد وہ دیکھنا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو اسرا و معراج والی رات دکھایا گیا۔ (بخاری شریف) مشاہدات کو معراج کو قرآن حکیم نے لوگوں کے لیے آزمائش قرار دیا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپﷺ کو جسمانی معراج ہوئی ہو ورنہ روحانی مشاہدات میں تو کسی کے لیے استعباد و استعجاب کا کوئی پہلو ہی نہیں رہتا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفی ﷺ ہمیں قرآن اور صاحبِ قرآنﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

Tags:
Ayub Khan

Ayub Khan, MA (MCJ) MANUU, Managing Editor of Urdu Post, CEO of MAKS Media.

  • 1

You Might also Like