Type to search

صحت

بچوں سے زیادہ والدین ہورہے ہیں موبائل کی لت کا شکار

ہیلتھ ڈسک،(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) آج کل زمانہ ڈیجیٹل ہوگیا ہے، بچے ہی نہیں، بڑے بھی موبائل پر زیادہ وقت گذار رہے ہیں۔ ایسے میں والدین کے بھی موبائل میں مصروف رہنے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایک سروے کےمطابق 70 فیصدی والدین اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ وہ ضرورت سے زیادہ وقت آن لائن رہتے ہیں، اسکا منفی اثر خاندان پر پڑتا ہے۔

اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انکے بچے حد سے زیادہ موبائل ، لیپ ٹاپ اور دیگر گیجیٹس کا استعمال کرے ہیں، مگر اس طرف کم توجہ دیتے ہیں کہ کہیں انہی سے تو بچوں میں یہ عادت تیار نہیں ہو رہی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کی مانیں تو والدین خود ضرورت سے زیادہ وقت تکنیک پر برباد کررہے ہیں۔ اسٹیڈی میں 72 فیصدی والدین نے مانا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل کے زیادہ استعمال کا اثر خاندان پر پڑتا ہے اور انکی عام خاندانی زندگی بھی اسکی وجہ سے متاثر ہورہی ہے۔ گذشتہ دنوں جاری ہوئی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی۔

بری عادت کی طرح ہے ۔ سروے کے مطابق 70 فیصدی والدین اس بات سے متفق ہے کہ انٹرنیٹ پر وقت گذارنا انکے لیے نشے کی طرح ہوگیا ہے، حالانکہ 51 فیصدی لوگ انٹرنیٹ اور موبائل کو خود کی طرف اپنے بچوں کی بات چیت کو متاثر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خود بھی موبائل فون کے استعمال کی اپنی عادتوں کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔

بچوں پر بھروسہ
رپورٹ کے مطابق والدین انٹرنیٹ کو لیکر بچوں پر بھروسہ کرتے ہیں، کیسپراسکائی کی طرف سے کرائے گئے سروے میں 52 فیصدی والدین نے اس بات کو لیکر رضامندی جتائی کہ انکے بچے جانتے ہیں کہ کب اسکا استعمال زیادہ ہوچکا ہے اور انہیں اسے بند کردینا چاہیئے۔ سروے کے مطابق ماں (48 فیصد) کے مقابلے میں والد (57فیصد) بچوں پر انکی انٹرنیٹ عادت کو لیکر زیادہ یقین کرتے ہیں۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 40 فیصدی والدین کو ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ کیونکہ خطرے صرف ایک کلک کی دوری پر ہوتے ہیں۔

پرکشش لگتی ہے انٹرنیٹ کی دنیا
سروے کرانے والی کمپنی کیسپراسکائی کی آفیسر مرینا ٹیٹووا کے مطابق انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دنیا پر بچوں کو پرکشش چیزیں ملتی ہے۔ اس سے انکی توجہ لمبے وقت تک اسی میں لگی رہتی ہے۔ ایسے میں والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گذارے اور کچھ ایسی سرگرمیوں میں انہیں شامل کریں جس سے انکی توجہ انٹرنیٹ سے کم ہو۔

Tags:

You Might also Like