Type to search

تلنگانہ

اسدالدین اویسی نے کہا – وزیر اعظم شہریت قانون اس لیے لیکر آئے تاکہ این پی آر کا عمل ہوسکے

حیدرآباد،28ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ اویسی نے اس دعوے سے ایک روز قبل، مرکزی وزیر کشن ریڈی نے واضح کیا تھا کہ  ان دونوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے۔ اویسی نے دعوی کیا ، “وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ این پی آر اور این آر سی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ این پی آر اور این آر سی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ این پی آر اور این آر سی کے قواعد ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ اصول شہریت ایکٹ 1955 کے مطابق بنائے گئے ہیں، جس میں این پی آر اور این آر سی کا ذکر ہے … اگر ملک میں این پی آر ہوگا تو این آر سی بھی ہوگا۔”

وہ تنازعات میں رہے شہریت قانون ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری اپنے مہم کے تحت جمعہ کی رات نظام آباد میں احتجاجی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بی جے پی قائدین پر اس معاملے میں ٹی وی چینلز کے ذریعہ ‘پروپیگنڈا’ کرنے کا الزام لگایا۔ کچھ بی جے پی کے رہنماؤں کی طرف سے یہ کہنے پر کہ این پی آر کا عمل 2010 میں سابقہ یوپی اے حکومت کی طرف سے بھی کرائی گئی تھی، کہ حوالے دیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ 2010 اور 2020 کے این پی آر میں فرق پوچھے جانے والے سوالات کا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ 2020 کے این پی آر میں خاندان کے مقام پیدائش اور تاریخ پیدائش کو بھی سوالات پوچھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر این ڈی اے حکومت کا ارادہ صاف ہوتا تووہ پہلے این پی آر اور این آر سی کا عمل کرتے اور اسکے بعد شہریت قانون لاتے، اویس نے اجلاس میں کہا، مودی شہریت قانون کیوں لائے؟ وہ اسے اس لیے لیکر آئے کیونکہ اب این پی آر کا عمل ہوگا۔

اس اجلاس میں حکمران تلنگانہ راشٹراسمیتی (ٹی آر ایس) کے ممبران اسمبلی،  بائیں بازو اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم ، حزب اختلاف کی کانگریس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کرے گی۔ اویسی کے علاوہ مشترکہ مسلم ورکنگ کمیٹی کے نمائندوں نے 25 دسمبر کو وزیر اعلی کے چندرشیکھر راؤ سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ کیرالہ کی طرح تلنگانہ میں بھی قومی آبادی کے رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کیے جانے کا کام روکنے کی درخواست کی تھی۔

Tags:

You Might also Like