Type to search

قومی

میرا شوہر میری آزماٸش ہے

میرا شوہر میری آزماٸش

فرحت ناز


بہت ضروری ہے کہ مرد اور عورت دونوں نظام آزمائش اور فلسفہ امتحان کو سمجھیں.

اگر وہ ایسا نہیں کرینگے تو ان کا دین اور ایمان ایک دوسرے کے رد عمل میں بنتا بگڑتا رہے گا..

اور وہ ایمانی اور دینی اعتبار سے کیا ہیں یاکہاں کھڑے ہیں۔

یہ ان کے پاٹنر کا رویہ طے کر رہا ہوگا۔
اور یہ بہت ہی خطرناک صورت حال ہے کہ جس میں انسان کا ایمان داٶ پر لگ جاتا ہے.

ہو سکتا ہے کچھ خواتین کے ذہن میں یہ سوال اٹھتے ہوں..کہ…

رسول الله ﷺ کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ سجدہ تعظیمی.. آگر جائز ہوتا تو میں بیویوں سے کہتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کریں..
کچھ خواتین کہتی ہیں کہ ہم کوٸی….
لبرل فیمینسٹ(Feminist)
نہیں ہیں..
لیکن ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ نبی محترم ﷺ نے شوہر کو اتنا زیادہ مقام کیوں دینے کا کہا …جب کہ وہ بھی تو ایک مخلوق ہی ہے…

تو ایک مخلوق کو دوسری مخلوق پر ایسی ترجي کیوں??

محض اس لیے کہ شوہر عورت کو رہنے کے لیےگھر دیتا ہے..??

اور اس کا خرچ اٹھاتا ہے??

لیکن..ایسا تو کوئی بھی کر سکتا ہے..
جیسے کہ..بعض اوقات بیوہ ماں اپنے بچوں کے لیے کرتی ہے..
بڑی بہن اپنے چھوٹے بھائی یا بہنوں کے لیے کرتی ہے۔ تو مرد اپنی عورت کا نگران اور حاکم کی طرح ہے. یہ تو سمجھ میں آتا ہے..
لیکن اتنا درجہ کس بات پر کہ نبی کریم ﷺ نے عورت کو اسےسجدہ بھی کرنا جاٸز سمجھ لیا??

پہلی بات تو یہ ہےکہ..
رسول الللہ ﷺ نے بیوی کو یہ حکم نہیں دیا کہ..وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
ایک دوسری روایت میں

“مِن عِظَمِ حَقَّةِ عَلَیھَا”

کے الفاظ ہیں..یعنی شوہرکو اللّلہ نے عورت پر جو فضیلت دی ہے,یہ سجدہ کرنے کے حکم کی وجہ ہوتی۔ یہی بات قرآن مجید نے ان الفاظ میں کہی ہے..

وَلَھُنِّ مِثلُ الَّذِي عَلَیھِنَّ بِالمَعرُوفِ وَلِلرَّجَالِ عَلَیھِنَّ دَرَجَةُٗ

ترجمہ:- اور ان عورتوں کے لیے حقوق بھی ہیں جیسا کہ ان کے فرائض ہیں. عرف کے مطابق, اور مردوں کو ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔

تو یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ الللہ نے اس دنیا میں ہر انسان کی آزمائش مختلف رکھی ہے۔

تو عورت کی آزمائش اور امتحان وہ نہیں ہے جو مرد کی آزمائش اور امتحان ہے۔

عورت سے اس کی آزمائش اور امتحان کا معنٰی یہ ہے کہ وہ اپنی آزمائش اور امتحان میں کامیاب ہو کر دکھاۓ۔

اور مرد سے اس کی آزمائش اور امتحان سے مراد یہ ہے کہ ..وہ اس میں کامیاب ہو کر دکھاۓ۔

تو عورت کا امتحان ہی یہی ہے کہ اس نے اپنے جیسے مرد کی اطاعت کرکے دکھانا ہے۔

اللّٰه نےاسے آزمائش ہی یہی ڈالی ہے۔۔
اور اسی امتحان اور آزمائش کو اس کی کامیابی کا معیار قرار دیا ہے۔۔

جیسے کہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ….
جو عورت پانچ وقت نماز پڑھ لے، 30 روزے رکھ لے،
اپنی عزت کی حفاظت کریے اور اپنے شوہر کی اطاعت کریے ..تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے ..جنت میں داخل ہوجاۓ۔۔

اور یہ بہت بڑی خوشخبری ہے جو عورت کو دی گٸ ہے۔۔

تو عورت کا یہ امتحان یا آزماٸش کم نہیں ہے، یہ ماننا پڑتا ہے ..لیکن..اللّٰه ﷻ اس امتحان میں کامیابی پر جو کچھ آخرت میں دے رہے ہیں، وہ بھی کم نہیں ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا۔

عورت سے تو امتحان میں کامیابی کے لیے مطلوب ہی دوچار کام ہیں..

جبکہ مردوں سے تو بہت کچھ مطلوب ہے۔۔

تو آپ کا شوہر جیسا بھی ہے، آپ کا امتحان ہے ،آپ کی آزماٸش ہے۔۔

اوردنیا میں اللّٰه نے آپ کو امتحان اورآزمائش کے لیے ہی تو بھیجا ہے۔۔

باقی..اب یہ نہ سوچیں کہ شوہرتو ہمارے لیے آزمائش ہیں تو ان شوہروں کی آزماٸش کیا ہے??

وہ آپ…اپنے اپنے شوہروں سے پوچھ لیں..آگر وہ بتانا چاہیں

میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہونگی..ان کے پاس بہت کچھ ہوگا بتانے کو..

بہرحال…اللّٰه عزوجل نے ہم سب کو ایک دوسرے سے آزمایا ہے۔۔

ابھی اولاد کو دیکھ لیں کہ انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہوتی کہ سارے حقوق والدین کے رکھ دیے ہیں..تو ہمارے لیے بھی کچھ ہے یا نہیں۔۔

بلاشبہ اولاد کے بھی حقوق ہیں.اور والدین کو چاہیے کہ ان کے حقوق ادا کریں.

لیکن..بہرحال والدین کے حقوق،اولاد کے حقوق کی نسبت زیادہ ہیں اور زیادہ بیان ہوۓ ہیں۔۔

یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اولاد کی آزمائش اور امتحان ان کے والدین کو بنا دیا گیا ہے. اور ساتھ یہ کہہ دیا کہ اب اس امتحان میں کامیاب ہو کر دکھاٶ۔

تو والدین کی آزماٸش کیا ہے??

ان کی آزماٸش ان کے والدین تھے۔

انھوں نے اپنے حصّے کی آزمائش بھگت لی اور اب تمہاری باری ہے۔۔

تو نظام امتحان اور فلسفہ آزماٸش پر تھوڑا غور کریں تو یہ شبہ جاتا رہے گا۔۔

اب یہ شکوہ کہ اللّٰه عزوجل نے امتحان میں عورتوں کو بہت مشکل سوال ڈالا ہے کہ وہ شوہر کی اطاعت کریں..تو شانت رہیے، مردوں کو بھی اللّٰه نے کوٸی آسان سوال نہیں ڈالےہیں۔۔۔

دونوں میاں بیوی گھر کے دو مضبوط ستون ہے.آگر ایک ستون میں درار آئی تو پورے گھر کا شیرازہ بکھر جاٸیگا…
ایک گھر کا ٹوٹنا ایک خاندان کا ٹوٹنا ہوگا.
خاندانوں کے ٹوٹنے سے .ہمارے سماج ،ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا.
اور جو مضبوط سماج، مضبوط معاشرہ ہم بنانا چاہتے ہیں وہ بہت مشکل کام ہوگا۔۔

اس لیے اللّٰه تعالٰی نے جو کام عورت کے ذمہ لگایے ہیں. اس کوایمان داری سے انجام دیے..

اور جو کام مرد کے ذمہ ہے .اس کو وہ ایمان داری سے نبھایے..

یہ کام کر کے ہی ہم ایک مضبوط سماج، مضبوط معاشرہ بنا سکتے ہیں…

دعا کی طالب
فرحت ناز
بلہاری


 نوٹ: اس مضمون کو فرحت ناز نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

1 Comment

  1. Zakiya February 17, 2021

    Masha Allah bahut acha hai

    Reply

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *