Type to search

بین الاقوامی

سڈنی : حجاب اتارے بنا مسلم خاتون کو پب میں جانے نہیں دیا گیا

سڈنی،30اکتوبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) ایک 21 سال کی مسلم خاتون نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ایک پب میں حجاب کی وجہ سے انٹری نہیں دی گئی۔ یہ معاملہ آسٹریلیا کے سڈنی میں واقع ایک مقبول پب کا ہے۔ صالحہ اقبال نے کہا کہ وہ دوستوں کے ساتھ پیراگون ہوٹل گئی تھی۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق صالحہ نے کہا کہ ہوٹل کے باؤنسرنے انہیں انٹری سے پہلے حجاب اتارنے کو کہا۔ واقع پر ہوٹل کی طرف سے اب تک کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔

صالحہ نے کہا کہ جب انہوں نے حجاب اتارنے سے منع کردیا تو باؤنسر نے انہیں الگ ہٹانے کو کہا۔ خاتون نے کہا کہ واقع کی وجہ سے انہوں نے خود کو ذلیل و توہین محسوس کیا اور انہیں رونا آیا۔

خاتون نے کہا کہ انکی آئی ڈی چیک کرنے سے پہلے ہی سیکیورٹی نے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسے اتارو، انہوں نے کہا کہ شروعات میں یہ سن کر جھٹکا لگا۔

حالانکہ بعد میں سوال کرنے پر باؤنسرس نے خاتون کو کہا کہ آپ اوور ریاکٹ کررہی ہیں۔ خاتون نے کہا کہ ان سے بنا کوئی بات کیے سیدھے حجاب اتارنے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں وہاں ایک پولیس افسر آیا اور انہیں وہاں سے جانے کو کہا۔

لڑکی نے آگے کہا کہ اسکے بعد مجھے غصہ آیا اور مجھے لگا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔ میں نے غصے میں آکر اسے جواب دیا کہ تم واقعی میں سنجیدہ ہو۔۔۔ یہ میرا حجاب ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ اسکے بعد باؤنسر انکے ساتھ بداخلاقی کرنے لگا۔۔۔ اور اس نے ان سے کہا کہ خاموش ہوجائے۔

صالحہ اقبال نے کہا کہ اس واقع کے بعد وہ رونے لگی اور وہاں سے ہٹ گئی۔ لڑکی نے کہا کہ اسکے بعد انکے دوستوں نے ان سے کہا کہ انہیں پب انتظامیہ سے اس بات کی شکایت کرنی چاہیئے۔ لڑکی نے بتایا کہ پب کے باہر پولیس موجود تھی ۔

پولیس نے ان سے کہا کہ ہر کہانی کے دو پہلو ہوتے ہیں پولیس نے ان سے اور انکے دوستوں سے کہا کہ بھاگو یہاں سے۔ صالحہ اقبال نے اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعہ بھی اس پورے واقع کے بارے میں بتایا ہے۔

ادھر پورے واقع پر این ایس ڈبلیو پولیس کے ترجمان نے کہا کہ وہاں پر موجود پولیس ملازم صرف ریلی کے لیے ہی موجود تھی۔ پولیس اس بات سے مطمئن ہے کہ وہاں کوئی تشدد کا واقع نہیں ہوا۔

Tags: