Type to search

قومی

ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا رول 

ہندوستان کی آزادی

15 اگسٹ کے موقع پر خصوصی

دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہندوستان 15 اگسٹ 1947 کوانگریزوں سے آزادی ملی،انگریز ہندوستان میں تجارت کی غرض سے یہا ں آئے یہاں کے لوگوں پر حکومت کرنے لگے،آہستہ آہستہ پورے ہندوستان پر انکا سکہ چلنے لگا،اورہندوستانیوں کو اپنا غلام بنادیا ۔ ہندوستان کو آزادکرانے میں ہندو،مسلم،سکھ اور عیسائی سبھی مذاہب کے ماننے والوں نے اپنی جانیں قربان کیں ،اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،لیکن جب ملک آزاد ہوا تو اس کے دو تکڑے ہوگئے اور ایک ہندوستان او ر ایک پاکستان ،ہندوستا ن کو آزادی دلانے میں سبھی مذاہب نے اہم کردار ادا کیا لیکن آزادی کے بعد سے صرف چند ہی مسلمانوں کے نام لیے جاتے ہیں ،اور آہستہ آہستہ انہیں بھلا دیا گیا او رتاریخ کے پنوں میں کہیں گم ہوگئے،بابائے قوم گاندھی جی ، پنڈت جواہر لال نہرو، مولانا عبدالکلام آزاد، بھگت سنگھ جیسے چند چہروں کو ہی یاد کیا جاتا ہے ۔

ملک کی آزادی میں جتنا دیگر مذاہب کا رول رہا اتنا ہی مسلمانوں کا رہا ۔

ٹیپوسلطان۔

 ٹیپوسلطان میسور کے بادشاہ تھے ۔ انکا پورا نام فتح علی او ر انکے والد کا نام حیدرعلی تھا ۔ ٹیپوتعلیم کے ساتھ جنگ کے تمام طریقے بھی سیکھے،ٹیپو رحم دل اور انصاف پسند اور ایک بہادر بادشاہ گذرے،ٹیپور انگریزوں کے سخت خلاف تھے ۔ اور انہیں ملک سے باہر کرنے کیلئے ہمیشہ جنگ کرتے رہتے اور کئی بار انہیں شکست بھی دی ۔ انگریز انکی بہادری سے ہمیشہ ڈرے سمہے رہتے تھے ۔ انکی بہادری کی وجہ سے انہیں ’شیر میسور ‘بھی کہا جاتا ہے ۔ انگریزوں نے ٹیپو کے چند ساتھیوں کو لالچ دے اپنے ساتھ کرلیا اور انہیں دھوکے سے شہید کردیا ۔ مرتے وقت بھی ٹیپو سلطان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ’گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘ ۔

مولانا ابوالکلام آزاد ۔

 مولانا آزاد 11نومبر1888ء میں سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور دس سال کی عمر میں ہندوستان آئے اور کلکتہ میں بس گئے ۔ مولانا کم عمری سے لکھنا شروع کیا ،انہوں نے ’الہلال‘ نامی ایک اخبار شروع کیا جس میں مضامین لکھ کر لوگوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ۔ وہ بہت اچھے مقررتھے اپنی جوشیلی تقریروں سے پورے ملک میں آزادی کی لہردواڑدی ،انہوں ملک کیلئے بہت دکھ جھیلے اورکئی بار جیل گئے ۔ اپنے اخبار کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف لکھتے تھے جسکی وجہ سے انہیں جانا پڑا ور کئی بار جرمانے بھی ادا کرناپڑا ۔

اشفاق اللہ خان۔

 اشفاق اللہ خان ہندوستان کی آزادی کے انقلابی تھے ۔ انہوں نے رام پرساد بسمل کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف لڑے اور کئی کارنامے انجام دیے ۔ برطانوی حکومت نے ان پر مقدمہ چلایا اور27سال کی عمر میں 19دسمبر 1927کوفیض آباد جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا ۔ اشفاق اللہ خان اُردو زبان کے بہترین شاعر تھے ۔

مولانا شوکت علی۔

 مولانا شوکت علی ملک کی آزادی میں اہم رول اداکرنے والے ’خلافت کمیٹی ‘کے دوسرے اہم رکن تھے ۔ جنگ آزادی کے مجاہدوں میں مولانا کامقام بہت بلند ہے ۔ انہوں نے ہر موقع پر قربانی دی ۔ بھوک پیاس کی شدتیں برداشت کیں ۔ حتیٰ کہ 1915ء میں اپنے چھوٹے بھائی محمد علی کے ساتھ جیل گئے ۔ 1919ء میں جیل ہی میں انہیں ’خلافت کانفرنس‘کا صدر منتخب کیا گیا ۔ ۔ عوام میں آزادی کا جوش بھرنے والے دو اہم رسالے ’ہمدرد‘اور کامریڈ‘جنکو انکے چھوٹے بھائی محمد علی نکالا کرتے تھے ۔ 1929ء میں تما م سیاسی جماعتوں جمعیت العماء ہند‘خلافت کمیٹی ‘مسلم لیگ اور آل انڈیا کا نگریس کی کانفرنس میں شرکت کی ۔ 1932ء میں یروشلم میں ہوئی عالمی کانفرنس میں مولانا نے شرکت کی،انکی اعلی شخصیت انکی والدہ بی اماں کی بہترین کوششوں کا نتیجہ تھی ۔

بی امّاں ۔ 1852-1924: ۔

 ہندوستان کی آزادی میں جتنا رول مردوں کا تھا اتنا ہی اہم رول عورتوں کا بھی تھا ۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ محترمہ بی امّاں کا نام اس سلسلے میں مثال کے طور پر لیا جاسکتا ہے ۔ انکے والد کا نام مظفر علی تھا ۔ یہ امروہہ کے روہنے والے تھے ۔ بچپن سے ملک کی تباہی اور انگریزوں کے مظالم کی داستانیں سن کر انگریزوں سے نفرت پیدا ہوگئیں تھی ،شوہر کے انتقال کے بعد اپنے دونوں بچوں محمدعلی اور شوکت علی کو اچھی تربیت دی،اور انکی خواہش کے مطابق دونوں بچوں کو انگریزوں کے خلاف کھڑا کیا ۔ اور دونوں بھائیوں نے آگے چل کر انگریز حکومت کو ہلا کررکھ دیا ۔

بیگم حضرت محل۔

 ہندوستان کی پہلی جنت آزادی 1857ء میں لڑی گئی ۔ آزادی کی لڑائی میں بہادرعورتوں میں بیگم حضرت محل بھی تھیں ۔ بیگم حضرت محل اَوَدھ کے آخری نواب واجدعلی شاہ کی بیگم تھیں ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی واجد علی شاہ کو تخت سے اتار دیا اور کولکتہ میں نظر بند کردیا اور ساری ریاست پر قبضہ کرلیا ۔ ایسے میں بیگم حضرت محل نے بیٹے کو تخت پر بٹھایا اور انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ۔ مولوی احم اللہ شاہ کی مدد سے بیگم حضرت محل نے گیار ہ دن میں اَودھ کو اپنے قبضے میں لیا ۔ وہ فوجیوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتی اور انکا حوصلہ بڑھاتی تھیں ۔ انگریزوں سے لڑتے لڑتے انکے قریبی وفادار ساتھی بھی مارے گئے ،انہیں جس طرح آزاد رہ کر زندگی گزاری تھی ،غلامی کی فضا میں سانس لینا بیگم حضرت محل نے پسند نہیں کیا ۔ نیپال میں گمنامی کی زندگی گذار کر انتقال کرگئیں ۔

مولانا محمد علی جوہر۔

 مولانامحمدعلی جوہر10ڈسمبر1878ء میں رامپور میں پیدا ہوئے،والدکے انتقال کے بعد والدہ ’بی اماں ‘نے انکی پرورش کی ۔ انگلستان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد قوم کی خدمت کرنا چاہتے تھے ۔ ملازمت چھوڑ کر انگریزی میں ’کامریڈ‘اور اردو میں ’ہمدرد ‘نامی اخبارات نکالے ۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریز ترکی حکومت کے خلیفہ کو تخت سے اتارنا چاہتے تھے دنیا بھر کے مسلمانوں ان کو اپنا خلیفہ مانتے تھے ۔ مولانانے اس معاملے میں انگریزوں کی مخالفت کی اور پورے ملک میں ’خلافت تحریک‘ چلائی ۔ گاندھی جی نے بھی اس تحریک کا ساتھ دیا اور ہندوستان سے کہا وہ انگریزوں کا بائیکا ٹ کریں ۔ 1930 میں انگریزوں نے لندن میں ہندوستانی نمائندوں کی کانفرنس بلائی تاکہ ہندوستان کی آزادی کے با رے میں بات چیت ہو ۔ اور ا س کانفرنس میں وہ شریک ہوکر انگریزوں کے سامنے ہندوستان کی آزادی کیلئے زور دار تقریر کی ۔ تقریر میں انہوں نے کہا کہ اگر تم آزادی نہیں دی تو یہیں اپنی جان دے دوں گا،اور لندن میں ہی 4جنوری 1931ء کو انکا انتقال کرگئے ۔

ہندوستان کی آزادی میں جتنا اہم رول مسلمانوں کا رہا وہیں اُردو زبان نے بھی اہم رول ادا کیا ۔ لیکن اب اُردو صرف شعر شاعری تک ہی محدودہو کررہے گئی ہے ۔

Tags:

You Might also Like